اندلس کی سیر: ماضی کی عظمت کے نشان

کل تین چار گھنٹے پیدل چلنے کی مشقت اور بس کے سفر نے اتنا تھکا دیا تھا کہ ہوٹل پہنچ کر جہلم کے معروف شاعر تنویر سپرا  کا یہ شعر یاد آ گیا:
اے رات مجھے ماں کی طرح گودمیں لےلے
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہاہے

اگرچہ تنویر سپرا کے اس شعر میں بیان کی گئی  مشقت مختلف نوعیت کی ہے لیکن بدن ٹوٹنے کی کیفیت مُشترکہ تھی۔ صبح جب آنکھ کھلی تو بدن رات کی گود میں رہنے کے باوجود ٹوٹ رہا تھا۔  تھکن اتنی کہ جی نہیں چاہ رہا تھا کہ ابھی آنکھ کُھلے۔ ویسے بھی کبھی کبھی آنکھ کا بند رہنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ کیونکہ بسا اوقات چشم وا سے ایسے مناظر سامنے آ جاتے ہیں جن سے چشم پوشی ہی بہتر ہوتی ہے۔  لیکن ہمارے قلب و دماغ میں جنگ شروع ہوگئی۔  دل کوئے جاناں میں جانے کی ضد کی طرح  اس بات پہ اڑا ہوا تھا کہ ابھی مزید آرام فرمایا جائے۔ لیکن عقل محو تماشہ لب بام تھی۔ اور اس بات پہ مُصر تھی۔ کہ شاہ جی آپ سیر کرنے آئے ہیں اور آج واپس بھی جانا ہے۔ آپ نے میڈرڈ کے لئے چار بجے والی ٹرین کی ٹکٹ بھی لے رکھی ہے۔ یہ ضیاعٍ وقت والی آتش نمرود میں کودنا خطرے سے خالی نہیں۔ آپ کے لئے بہتریہی ہےکہ اس سے پرہیز کریں۔ لہذا ہماری عدالت عُظمیٰ کا فیصلہ محترمہ عقل صاحبہ کے حق میں آیا اور ہم جھٹ سے بستر سے یوں برآمد ہوئے ۔ جیسے پاکستان میں ایئرپورٹ پہ کسٹم کی عدم ادائیگی پہ سامان زبردستی نکلوایا جاتا ہے۔ گھڑی دیکھی تو یہ واقعی جلدی کرنے کی گھڑی تھی۔ اور ہمیں ناشتے کی نہیں سامان پیک کرنے کی پڑی تھی۔ لیکن کیا کریں پہلے پیٹ پوجا فیر کم دوجا۔ یعنی پہلے پیٹ پوجا اور پھر کوئی اور کام۔ ناشتہ کرنے اور سامان ہوٹل کے سٹور میں رکھوانے کے بعد، ہم نے فیصلہ کیا کہ جاوید صاحب کے مشورے پہ عمل کیا جائے اور آج پہلے مدینة الزہراء جایا جائے۔

قرطبہ کی مسجد میں پہلے بھی دیکھ چُکا ہوں۔ وہاں اگر دیر سے بھی چلا گیا تو کوئی بات نہیں۔ آج بھی وقت کی کمی آڑے آئی اور ہم نے بس لینے کی بجائے ٹیکسی کر لی۔ مدینة الزہراء سئیرا مرینا کی تلہٹی میں قرطبہ سے 13 کلومیٹر مغرب میں  جبل العروس کی ڈھلانوں میں واقع ہے۔ میں نے سُن رکھا تھا کہ وہاں کھنڈرات ہیں۔ لیکن ٹیکسی نے ایک خوبصورت اور جدید عمارت کے قریب ُاتارا۔ عمارت کا زیادہ حصہ زمین دوز ہے۔ عمارت کے گرد کُھلی جگہ ہے جہاں زیتون کے درخت بکثرت موجود ہیں۔ اور نہایت سلیقے سے لگائے ہیں۔ ٹیکسی والے نے بتایا کہ یہی مدینة الزہراء ہے۔ میں حیرت اور پریشانی کے ملے جُلے جذبات کے ساتھ عمارت میں داخل ہو گیا۔ وہاں جا کے معلوم ہوا کہ یہ عجائب گھر ہے۔ اور یہاں سے فراغت کے بعد کھنڈرات دیکھنے جاتےہیں۔  عجائب گھر میں لگی تصاویر ۔ برتن، ہتھیار، کپڑے اور دوسری اشیاء دیکھ کے یوں لگ رہا تھا۔ کہ دورحاضر کے کسی شہر کے بارے معلومات دی جاری ہوں۔ 

وہاں شہر کے بارے میں مختلف حصے بنے ہوئے ہیں۔ ایک میں شہر کی تاریخ بیان کی گئی۔ ایک میں لوگوں کا رہن سہن دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح حکومت کے ہمسائیوں سے تعلقات، شہر کی تباہی ، دریافت اور پھر تعمیر نو کے بارے میں الگ الگ حصے ہیں۔ یہ شہر قرطبہ کے اموی خلیفہ عبد الرحمن سوم الناصر (912 -961) نے تعمیر کروایا ۔ مدینہ الزہراء کا لفظی مطلب " شاندار شہر»  ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں۔ کہ خلیفہ عبدالرحمان نے اس شہر کا نام اپنے حرم میں موجود ایک خاتون زہرا کے نام پہ رکھا کیونکہ خلیفہ اسے بہت پسند کرتا تھا۔ بعض مؤرخین کے بقول خلیفہ نے یہ شہر اپنی طاقت ، ہیبت اور ارفع مقام کی علامت کے طور پہ بنایا۔ جس میں عشق و محبت اور جذبات کا کوئی تعلق نہیں تھا۔  یہ اعزاز صرف تاج محل آگرہ کو حاصل ہے۔

مدینة الزہراء انتظامیہ اور حکومت کے دل جیسی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ اس کی دیواروں کے اندر قرون وسطیٰ میں اندلس کا حقیقی دار الحکومت تھا۔ 936 - 940 کے شروع میں بنے اس شہر میں ایک خیر مقدمی ہال، مسجدیں، انتظامیہ اور سرکاری دفاتر، باغات، ایک ٹکسال، کارخانے، چھاؤنیاں، گھر اور غسل خانے شامل تھے۔  شہر میں ایک بہت بڑی مسجد تھی۔ جسے قرطبہ کی مسجد کی چھوٹی بہن کہا جاتا تھا۔ تین باغ تھے۔ جن کی خوبصورتی کی وجہ سے اسے جنت الزہراء بھی کہا جاتا تھا۔ اس وقت اس کی تعمیر میں دس ہزار مزدوروں نے حصہ لیا۔ عجائب گھر کے ابتدائی حصے میں تمام تاریخ باتصویر لکھی ہے۔ اس وقت خلافت کا سالانہ بجٹ تقریبا 40-50 لاکھ درہم تھا۔ اور اس کا ایک تہائی اس شہر پہ خرچ کیا گیا، تاکہ اسے خلیفہ کی شان و شوکت ، عظمت اور جاہ و جلال کے طور پہ ہیش کیا جا سکے۔

پہاڑی اور ناہموار علاقہ ہونے کے ناطے یہ شہرتین حصوں میں تعمیر کیا گیا۔ سب سے اونچا حصہ خلیفہ کا مسکن تھا۔ درمیانی سطح پہ دفاتر اور حکومتی عہدیداروں کے گھر تھے۔ اور سب سے نچلی سطح پہ سپاہیوں اور رعایا کے گھر، بازار اور حمام تھے۔ خلیفہ عبدالرحمان کے انتقال کے بعد اس کے جانشین شہر کو نہ سنبھال سکے اور شہر کی عظمت کا سورج صرف 70سال بعد ہی غروب ہو گیا۔ یہ منظر سے یوں غائب ہوا کہ لوگ اسے بھول ہی گئے۔  تاآنکہ1911  میں سپین کی حکومت نے یہاں کھدائی شروع کی اور کہا جاتا ہے کہ اس وقت تک شہر کا صرف دس فی صد ہی کھودا جا سکا ہے۔  میں چونکہ گائیڈ کے بغیر تھا اس لئے میں نے عھائب گھرمیں لگی تمام تصاویر کو غور سے دیکھا۔ اور تاریخ بھی پڑھی۔  عجائب گھر سے فراغت کے بعد واپس ٹیکسی سٹینڈ پہ آیا اور وہاں سے کھنڈرات تک  شٹل بس لی۔ تقریباً دس منٹ بعد میں جنت
الزہراء میں تھا۔ وہاں کھڑے ہو کے میں نے جب شہر اور مضافات کا نظارہ کیا ۔ توفورا ذہن میں یہ شعر آیا:
نزاکت اب بھی ہے اس کے حسن رفتگاں کی
کھنڈر بتا رہے ہیں عمارت عظیم تھی

کھنڈرات بنا یہ شہر وہ ہے ۔ جس کی آب و تاب دیکھ کر یورپ کے سفیروں اور مندوبین کی آنکھیں چکاچوند اور دماغ ماؤف ہو جاتے تھے۔ جب یہ شہر آباد ہو گا تو یہ پہاڑ کوہ قاف جیسا ہوگا۔ اور یہ شہر پریوں کادیس۔ عربوں کی بنائی ہوئی دوسری عمارات کی طرح یہاں بھی محرابیں، اشکال اور خوبصورت ستون موجود ہیں۔ عجائب گھر سے حاصل شُدہ معلومات یہاں بہت کام آئیں۔ اور مجھے گائیڈ کی کمی کہیں بھی محسوس نہ ہوئی۔ میں نے شہر کے مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا۔ واپسی پہ بھی شٹل بس دستیاب تھی۔ اس نے عجائب گھر کے باہر اُتارا۔ مجھے وہاں کوئی ٹیکسی نظر نہ آئی۔ کافی دیر انتظار کرتا رہا اور گُنگناتا رہا:
سانوں نہر والے پُل تے بُلا کے
تے ہورے ماہی کتھے رہ گیا

یہاں ماہی سے مُراد ٹیکسی تھی ورنہ میں محترم مستنصر حسین تارڑ جیسا "خوش نصیب" واقع نہیں ہوا۔ جنہیں ہر جگہ کوئی نہ کوئی ماہی مل جاتا ہے۔ بہرحال میں یہ گُنگُنا ہی رہا تھا کہ بارش شروع ہوگئی۔ میرے پاس چھتری بھی نہیں تھی اور درخت بھی چھوٹے تھے۔ میں اس کشمکش میں تھا کہ کیا کروں کہ اتنے میں مجھے اردو بولتی ہوئی نسوانی آواز آئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے نظریں جھکائے چلے آرہے ہیں۔ اور خاتون ان کی عزت افزائی کر رہی ہیں۔  مجھے دیکھتے ہی وہ خاموش ہو گئیں۔ اس جوانمرد نے تشکر بھری نگاہ مجھ پہ ڈالی۔ اب ظاہر ہےایک مرد کا دُکھ ایک مرد ہی سمجھ سکتا ہے۔  کچھ کہہ سکتا تو کہتا بھائی مردوں کے دُکھ سانجھے ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں مردوں کے دُکھ الگ الگ تھے۔ مجھے قرطبہ واپس جانے کے لیئے ٹیکسی نہیں مل رہی تھی اور ان صاحب کو پناہ۔ میں سمجھا کہ وہ گاڑی پہ آئے ہوں گے۔ ان سے لفٹ لے لیتا ہوں۔ میں نے بڑے احترام اور قدرے لجاجت سے لفٹ لینے کی درخواست جمع کروا دی اور مخاطب بھی بھائی مظلوم کو کیا۔ لیکن  پردھان منتری جی میری رہنمائی فرماتے ہوئے گویا ہوئیں۔ کہ وہ لوگ بس پہ آئے تھے۔  اور وہی بس آدھے گھنٹے بعد قرطبہ واپس جائے گی۔ میرا پروگرام اب مسجد قرطبہ جانے کا تھا۔ آدھے گھنٹے بعد بس چلی اور تقریبا پندرہ منٹ بعد ہم مسجد قرطبہ پہنچ گئے۔ میں گزشتہ موسم گرما میں بھی مسجد قرطبہ آیا تھا۔ لیکن یہ ایک ایسی جگہ ہے۔ جس کے بارے میں بے اختیار کہنے کو جی چاہتا ہے کہ:
گُلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ

علامہ اقبال جب اس مسجد میں آئے تو انہوں نے ایک طویل نظم لکھی جو فن شاعری کا ایک شہ پارہ ہے۔ مسجد کو عربوں کی ایک عظمت کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اس وقت دمشق کی مسجد کے مقابلے میں بنائی گئی۔ میں اس کے بارے میں حرم قرطبہ کے عنوان سے ایک مفصل مضمون لکھ چُکا ہوں۔ جو روزنامہ دن لاہورمیں شائع ہو چُکا ہے۔ اس دفعہ مسجد میں بہت رش تھا۔ حالانکہ اس موسم میں سیاح عموماً کم ہوتے ہیں۔ لیکن آج مسجد سیاحوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے مسجد میں تھوڑا وقت گزارا کیونکہ دو بجنے والے تھے اور مجھے ہوٹل سے سامان لے کے ریلوے سٹیشن پہنچنا تھا۔ جہاں سے میں نے میڈرڈ کے لیئے ٹرین لینی تھی۔  لہذا میں نے ٹیکسی لی اور ہوٹل کی جانب چل دیا۔ آج مدینة الزہرا اور مسجد قرطبہ دیکھنے کے بعد میں زمانے کی بے ثباتی اور انسانوں کی بد اعمالیوں کے نتائج دیکھ کے افسردہ سا ہو گیا۔ علامہ اقبال نے اپنی نظم مسجد قرطبہ میں ہی لکھا ہے:

اول و آخر فنا ظاہر و باطن فنا
نقش کہن ہوکہ نو منزل آخر فنا

ایک سوال ان تین دنوں میں میرے ذہن میں گردش کرتا رہا۔ کہ کیا یہ حکومت واقعی مسلمانوں کی تھی  یا عربوں کی تھی جن کا مذہب اسلام تھا؟  کیونکہ اندلس میں کئی ریاستیں تھیں جن پہ مسلمان حکمران قابض تھے۔ وہ آپس میں لڑتے ، قتل و غارت کرتے اور ایک دوسرے کے شہر اور بستیاں تباہ کرتے رہتے تھے۔  اس کی واضح مثال مدینة الزہرا کی بربر مسلمانوں کے ہاتھوں تباہی ہے۔ میں نے طوالت سے بچنے کے لئےاس کی تفصیل نہیں لکھی ۔ ورنہ وہ رونگے کھڑے کر دینے والی کہانی ہے۔ عرب مسلمان ایک دوسرے کو شکست دینے کے لئے عیسائیوں سے بھی مدد لیتے تھے۔ حتیٰ کہ آخری مسلمان فرمانروا ابوعبداللہ نے اپنے باپ اور چچا کی پیٹھ میں چُھرا گھونپا۔ جب اس کا باپ اور چچا فرڈیبنیڈ اور ازابیلا کو شکست دینے کے قریب تھے۔ تو ابو عبداللہ نے اُن کے خلاف بغاوت کر دی۔ اور غرناطہ پہ قبضہ کر لیا۔ ہم انگریزوں کو غاصب قرار دیتے ہیں۔ تو عربوں کا سپین پہ قبضہ کرنے کا مقصد کیا تھا ؟ ہم غاصبین کو اپنی سرزمین سے نکالنے پہ کمر بستہ رہے تو کیا یہ حق سپین کے رہنے والے عیسائیوں کو نہیں تھا؟

میں جب ریلوے سٹیشن پہنچا تو ٹرین صحیح وقت پہ آ گئی تھی۔ مجھے سیٹ بھی کھڑکی کےساتھ ملی جب ٹرین روانہ ہوئی تو ارد گرد کے مناظر تیزی سے بدلنے لگے۔ اور ٹرین ان بدلتے نظاروں سے بے خبرجانب منزل رواں تھی۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ ہم سب وقت کی ٹرین میں بیٹھے ہیں۔  اور ہر منظر لمحہ بہ لمحہ بدل رہا ہے۔ کہیں مصائب و مشکلات کے پہاڑ ہیں۔ تو کہیں تشنہ تعبیر خوابوں کےلق و دق صحرا، کہیں خوشیوں کی سرسبز اور گل و گلزار وادیاں ہیں تو کہیں آنسوؤں کے بہتے دریا۔ زندگی کی ٹرین ان سب کے بیچ و بیچ ان سب سے بے خبر چلی جا رہی ہے۔ اور جہاں کسی کا سٹاپ آ جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ کے لیئے ٹرین سے اُتر جاتا ہے۔ یہ سفر ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہے گا۔ بس رہے نام اللہ کا۔