ٹکراؤ کی سیاست اور عمران خان کا مستقبل
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 25 / نومبر / 2019
- 7770
عمران خان بنیادی طورپر پاپولر سیاست کے حامی ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی حکومت یا طرز حکمرانی میں ہمیں حزب اختلاف کی سیاست کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
عمران خان کے سیاسی مخالفین یا سیاسی پنڈت بھی اس نکتہ کو بیان کرتے ہیں کہ عمران خان کی سیاست میں جذباتیت یا ٹکراؤکی پالیسی کا غلبہ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے دو دن کی ذاتی چھٹی کے بعد جو تقریر کی، اس میں بھی ان کی گفتگو میں ٹکراؤ، مزاحمت یا آسانی سے سمجھوتہ نہ کرنے کی پالیسی بالادستی نظر آئی۔یہ تقریر ظاہر کرتی ہے کہ عمران خان حکومت میں ہونے کے باوجود آسانی سے ان معاملات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے جو ان کی سیاسی سوچ کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ان کے بقول وہ فائٹر ہیں اور ہار کر بھی جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ایسا نکتہ ہے کہ اس سے ان کے سیاسی عزائم کو سمجھا او رپرکھا جاسکتا ہے کہ ان کی مستقبل کی سیاست کا عملی نقشہ کیا ہوگا۔
یقینی طور پر وزیر اعظم عمران خان اپنی حکمرانی کے معاملات سے نالاں نظر آتے ہیں۔ وہ واحد وزیر اعظم ہیں جو اپنی حکومتی داخلی ناکامیوں کا کھل کر اعتراف بھی کرتے ہیں۔ ان کے بقول حکمرانی کے معاملات کو شفافیت او رفعالیت کے ساتھ چلانے میں ان کو مختلف سطح پر موجود بڑے مافیا کا سامنا ہے۔ یہ مافیا انفرادی سطح پر ہیں بھی ہیں او راجتماعی سطح پر بھی مختلف اداروں کے درمیان ان کا گٹھ جوڑ ہے جو حکمرانی کے نظام میں شفافیت یا جوابدہی پیدا کرنے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کو چار بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اول مخالف سیاسی قوتیں ہیں جو ان کو سیاسی یا اقتدار کے منظر سے دورکرنا چاہتی ہیں۔ دوئم ان کا مسئلہ معاشی صورتحال میں بہتری پیدا کرنا اور عام آدمی کی ریلیف کے تناظر میں توقعات کو پورا کرنا۔ سوئم اپنی اتحادی جماعتوں کو حکومت کا حصہ دار قائم رکھنا، چہارم حکومت اور اداروں کے درمیان رضا مندی پر مبنی پالیسی کے تاثر اور عملی شکل کو قائم کرنا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عمران خان کی سیاست کی بنیاد کرپشن کے خاتمہ او رکڑا احتساب کو یقینی بنانا تھا۔ ان کے بقول وہ اس پر کوئی بھی ایسا سمجھوتہ نہیں کریں گے جو ان کی اپنی سیاست کو کمزور کرنے کا سبب بن سکے۔یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان کے نظریاتی ساتھی او رخود بھی وہ نواز شریف کو بغیر کسی شرط کے باہر علاج کے لیے بھیجنے کو تیار نہیں تھے۔ ان کے بقول ان کی کابینہ کے بیشتر افراد نواز شریف کو باہر جانے کی کسی بھی طور پر اجازت دینے کے حامی نہیں تھے۔ وزیر اعظم عمران خان کے لب ولہجہ میں جو تلخی یا مایوسی ہے اس کی وجہ ظاہر ہے کہ وہ بہت سے معاملات سے خوش نہیں او ران کو لگتا ہے کہ ان کو پس پشت ڈال کر فیصلے کیے جارہے ہیں۔
سیاسی پنڈتوں کے بقول نواز شریف کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان تناؤ بھی نظر آیا۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ اس معاملے پر حکومت یا عمران خان اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان حکمت عملی کا ٹکراؤ تھا۔عمران خان حکومت کے بارے میں یہ منطق دی جاتی ہے کہ اس کے اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان کافی ہم آہنگی ہے۔ ان کے سیاسی مخالفین تو عمران خان پر براہ راست الزام لگاتے ہیں وہ عملی طور پر اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے ہی اقتدار کی سیاست کا حصہ بنے ہیں۔بہت سے لوگ چوہدری برادران کی حالیہ سرگرمیوں اور میڈیا میں فعال انداز سے نواز شریف کے حق میں بیان بازی کو بھی اسٹیبلیشمنٹ کا ہی سیاسی کارڈ سمجھتے ہیں جس کا مقصد حکومت یا عمران خان پر دباؤ ڈال کر نواز شریف کے لیے بغیر شرائط کے ریلیف کے عمل کو یقینی بنانا تھا۔کچھ لوگوں کا خیال ہے حالیہ عمران خان او راسٹیبلیشمنٹ میں بڑھتے ہوئے فاصلے کو بنیاد بنا کر ان کے درمیان تعلقات کو اور زیادہ کمزور یا بداعتمادی میں ڈالا جاسکتا ہے۔
یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وزیر اعظم عمران خان کے اپنی حالیہ تقریر میں اسٹیبلیشمنٹ اور عدلیہ کو بھی صاف لفظوں میں پیغام دیا ہے کہ وہ موجودہ جاری صورتحال سے خوش نہیں۔ عدلیہ کو یہ پیغام دینا کہ وہ اس تاثر کی نفی کرے کہ ملک میں طاقت ور او رکمزور کے لیے دو مختلف قوانین ہیں اور سیاسی و غیر سیاسی قوتوں کو چیلنج کرنا کہ وہ ان کا ہر سطح پر مقابلہ کریں گے، بہت کچھ سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔بنیادی طو رپر عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کی کرپشن، بدعنوانی او رکڑے احتساب کے بیانیہ کو اس حد تک مضبوط بنادیا ہے کہ ان کو لگتا ہے کہ اگر اس میں جھول آیا یا اس تاثر کو تقویت ملی کہ حکومت یا تو سمجھوتے کی سیاست کا شکار ہوئی ہے یا بے بس ہے دونوں صورتوں میں ان کی پاپولر سیاست کو ضرب لگے گی۔نواز شریف کے بغیر شرط پر باہر جانے بھی جو ردعمل وزیر اعظم یا وزیروں نے دیا یا دیا جارہا ہے وہ بھی عملی طور پر اپنے ووٹ بینک کو تاثر دینا ہے کہ ہم نے کوئی سمجھوتہ تہ نہیں کیا،بلکہ عدالتی فیصلہ پر پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
یہ بات بجا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو اصل خطرہ اپنے سیاسی مخالفین سے نہیں ہے۔ ان کا بڑا مسئلہ بلاول، زرداری، نواز شریف، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی خان یا محمود خان اچکزئی نہیں ہیں۔بلکہ ان کے برعکس ان کو بڑا خطرہ طاقت کے مراکز سے ہے جو ان کو ان کی مرضی کے مطابق کام کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں یا سمجھوتے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ وہ کچھ لوگوں کو کہہ چکے ہیں کہ اگر ان کو کھل کر حکومت کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تو وہ دوسرا متبادل راستہ بھی اختیار کرسکتے ہیں۔ اگرچہ فوری طور پر جو لوگ حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان کسی بڑی سیاسی مہم جوئی او راس کے نتیجے میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھ رہے ہیں، اس کے فوری طور پر امکانات نہیں ہیں او رنہ ہی یہ کوئی بڑی سیاسی تبدیلی پیدا کرے گا۔لیکن حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان دوستی یا ناراضگی کا پہلو کبھی بھی ابھر سکتا ہے او ران کا براہ راست تعلق مختلف فیصلوں سے ہوسکتا ہے، مگر اچھی بات یہ ہے کہ طاقت کے مرکز او روزیر اعظم عمران خان دونوں ایک دوسرے کی ضرورتوں کو محسوس کرتے ہیں او رساتھ چلنے کی صلاحیت بھی۔اسی طرح وزیر اعظم عمران خان کو بخوبی انداز ہے کہ ان کی حکومت اتحادیوں کی بنیاد پر کھڑی ہے اور یہ اتحادی بھی اسٹیبلیشمنٹ کے قریب سمجھتے ہیں اس لیے وہ بھی فوری بڑی مہم جوئی سے گریز کریں گے۔
نواز شریف کے جانے کے بعد یہ امکان موجود ہے کہ مستقبل قریب میں آصف زرداری کو بھی طبی بنیادوں پر ملک سے باہر بھیجا جاسکتا ہے اور اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کا طرز عمل مفاہمت سے زیادہ جارحانہ ہوگا۔ کیونکہ وہ حال سے زیادہ مستقبل کی پیش قدمی کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ سیاست کے مراکزکے ساتھ ان کا ٹکراؤ ہوسکتا ہے۔یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ کابینہ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہمیں اپنی حکمرانی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے جارحانہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی اور گو مگوکی کیفیت سے نکل کر عوامی ریلیف کو بنیاد بنا کر اپنی سیاسی طاقت کو اور زیادہ طاقت ور بنانا ہوگا۔اس میں کوئی شبہ نہیں عمران خان کی حکومت کا چیلنج معاشی بحران کو درست میں آگے بڑھانا ہے او راس کی درستگی کے ساتھ ہی وہ اپنی داخلی سیاست کو مستحکم کرسکیں گے۔
ہماری سیاسی او ر سماجی روایت بھی یہ ہی ہے کہ جب دو بڑوں میں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے تو عمومی طور پر بڑے بھائی کا کردار نمایاں ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ چھوٹے بھائی کے تحفظات کو دور کرے اس کو ساتھ چلاسکے او راسی بنیاد پر بڑوں کے معاملات بھی کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر چل سکتے ہیں۔ لیکن ابھی بڑوں کی سیاست میں ایک بڑا ٹکراؤ مریم نواز کی صورت میں سامنے آئے گا۔کیونکہ مریم نواز ہر صورت میں اپنے والد کی تیماداری کی بنیاد پر عدالتی ریلیف چاہتی ہیں او ران کی کوشش ہوگی کہ وہ کسی مصالحت کے تحت عدالتی ریلیف حاصل کرسکیں۔ لیکن اس معاملے پر حکومتی سطح پر اور خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان کا ردعمل سخت ہوگا اور آسانی سے ان کے باہر جانے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جائے گااور یہ عمل طاقت کے مراکز میں ایک نئے ٹکراؤکو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔