آبی کوہسار کی بلندی سے: شیکھا پاچولی
- تحریر افروز عالم
- سوموار 25 / نومبر / 2019
- 7940
جھرنے،پہاڑوں سے اترتے ہیں،میدانی علاقوں سے ہوتے ہوئے اپنے ساگر سے جا ملتے ہیں، یعنی کہ فنا ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے کہ انسان کا وجود بھی جھرنے کی طرح شروع ہوتا ہے اور ساگر کے ساحل پر دم توڑ جاتا ہے۔ پہاڑوں سے اترتے ہوئے خوبصورت آبشاروں کو تو آپ نے دیکھا ہوگا، اگر نہ دیکھا ہو، تو اس کے بارے میں پڑھا ہوگا۔ نہ پڑھا ہو تو ضرورسنا ہوگا۔
یہ پہاڑی جھرنے سنگلاخ پہاڑوں کی وہ شریانیں ہیں،جس میں بہتے ہوئے پانی کی بدولت کوہسار کی فضا میں نمی ہوتی ہے اور بالائی حصے پر مفید نباتات، نادر و نایاب حیوانات او ر کم کم ہی سہی اشرف المخلو لقات کا وجود د بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ خوبصورت جھرنے جب اترے ہیں تو ان کی خوبصورتی قابل دید ہوتی ہے، پہاڑوں سے اترتے ہوئے یہ جھرنے ندی کی شکل اختیار کرتے ہیں، بل کھاتی اور اتٹھلاتی ہوئی یہ ندیاں جو کہ ساگر سے ملنے کو بیتاب رہتی ہیں، اپنے چنچل چال و بہاؤ کے سبب ہر ذی شعور کا من اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ ان ندیوں کی اپنی جغرافیائی، اور بائلوجیکل اہمیت ہے۔ دیوی، دیوتاؤں، صوفیوں، فقیروں اور سنتوں نے اپنی ریاضت اور بھکتی سے ہندوستان کی سرزمیں کو دیو بھومی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں ندیوں کی اہمیت بھی دیوی کی طرح ہے،جس کا اہم تصوریہ ہے کہ یہ پاکیزہ آب رواں خوشحالی کی علامت ہے، کاشت کاری کا سر چشمہ ہے، پیداوار کی ضرورت ہے، خوبصورتی کا کینا ہے اور دوشیزہ کا استعارہ ہے۔ تو آئیے آج آپ کی ملاقات ایک دیوی سے کرواتا ہوں جس میں ندی کی تعریف میں بیان کی ہوئی مذکورہ سبھی خوبیاں موجود ہیں۔ گو کہ اس ندی کی حیثیت بحر ادب میں ایک قطرہ سے زیادہ نہیں، پھر بھی:
تیری آنکھوں میں جو دیکھے اسے پیاس لگے
تو نے آنکھوں میں سمندر کو اٹھا رکھا ہے (نامعلوم)
پونہ شہرکے اطراف میں جو سنگلاخ وادیا ں آباد ہیں اس کی فضا قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ ان جیسے شاعروں اور ادیبوں کی موجودگی سے نہا یت ہی خوش نما لگتی ہیں۔ ہندوستان کے دیگر شہر وں کی فہرت میں مہاراسٹرا کا شہر پونہ پچھلی کئی دہائیوں سے کئی حوالوں سے سر فہرست رہا ہے۔ مراٹھی شہر ہونے کے باوجود پونہ شہر میں اردو ادیبوں اور ہندی ساہتہ کاروں کی الگ الگ کہکشاں آباد ہے۔ ان ستاروں کی بد ولت پونہ شہر کی فصا ہما وقت ادبی خوشبو سے معطر رہتی ہے۔ کبھی کہیں اردو شعرو ادب کی نششت و مشاعرے تو کبھی کہیں ہندی ساہتہ کی گوسٹھی اور کوی سمیلن۔ اسی سال یعنی اکتوبر میں اس کہکشاں کی سیر پر تھا، تو میری ملاقات ایک شفاف ندی سے ہوئی جس کے بطن میں عسل و حلیب کا ملا جلا بہاؤ تھا۔ اہلیان پونہ اس ندی کو شیکھا پاچولی کے نام سے پکارتے ہیں۔ شیکھا پا چولی ہندی ساہیتہ کی ایک خوبصورت اور پختہ کارکویتری ہیں۔
آپ کی شخصیت کا مختصر تعارف یہ ہے کہ آپ کا قلمی نام:۔ شیکھا، ولدیت:۔ اودھیش شرمااور شیلہ شرما، یوم پیدائش:۔ 11 فروری 1984 جائے پیدائش:۔ ناگ پور (مہاراسڑا) ہے۔ محترمہ کمپوٹر سائینس کی قابل پروفیسر بھی ہیں، انگریزی اور کمپوٹر سا ئینس کی پیجیدگی سے جب فرصت پاتی ہیں تو شعر و ادب کی وادیوں میں سیر کے لئے نکل پڑتی ہیں، اردو رسم الخط سے واقف نہیں ہیں، پھر بھی اشعار کی وادیوں میں غزل کے گیسو سنوارتی ہیں. ہندی غزل کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ، اردوغزل کی مقبولیت نے جب اپنے پنکھ پسارے تو اس کا اثر ہندی ادب نے قبول کیا۔ ایک ہی جغرافیائی حدود میں بولی اور برتی جانے والی زبانیں شانہ بہ شانہ چلتی رہیں اور کبھی کبھی ضرورتاً، کبھی کبھی مجبوراً اور کبھی فیشن کے طور پر ایک دوسرے کا دوپٹہ بدلنے لگیں۔ عہد جگر مرادا ٓ بادی میں مہاکوی نرالا اور ان کے ہم عصر ہندی شعرا نے وقتاً فوقتاً غزل پر اپنے لوح و قلم کا استعمال کرنا شروع کیا، لیکن ہندی شعرا کو نستعلیق حروف کی تعلیم و تربیت نہ ہونے کے سبب غزل کے کینوس پر نہ تو وہ کوئی رنگ بھر سکے نہ ہی قواید کی پاسداری کو برقرار رکھ سکے۔ ہندی شعرا کی لکھی گئی ان غزلوں نے ہندوستانی ادب کے منظرنامے پر ہندی غزل کے نام سے ایک نیا پرچم لہرانا شروع کیا۔
یہ سلسلہ جب طویل سے طویل تر ہوا تو ہندی غزل کا ایک شعری مجموعہ" سائے میں دھوپ" ازدشینت کمار نظر نواز ہوا۔ یہ وہ سنگ میل تھا جس نے ہندی شعرا کو ہندی غزل کے لئے سند بخشا، جو آج بھی ہندی غزل اور ہندی شعرا کے لئے مثل راہ ہے۔ اردو غزل عربی اور فارسی سے ہوتے ہوئے، اردو میں پہنچی اردو میں آنے کے بعد کلاسیکی، ترقی پسندی، جدیدیت اور معا بعد جدیدیت کے ادوار سے گزرتی گئی، 700 سال کے اس سفر میں جہاں اردو غزل کی رفتار 10 جی ہو چکی ہے و ہیں ہماری ٹکنولوجی نے 4جی کی رفتار سے کام کرنا شروع کیا ہے،کیوں کی جدید ٹکنولوجی کی عمر کم و بیش 100 سال ہے۔ ایسے میں ہندی غزل جس کی عمر ابھی ٹھیک سے 70 سال بھی نہیں ہوئی ہے، اس سے بہت ساری امیدیں لگانے سے بہتر ہے کہ اس کی تربیت کی جائے،اور ہندی غزل کاروں کی حوصلہ افزائی جاری رکھی جائے، یہی وہ نقطہ نظر ہے جس کی بنیاد پر میں اس مضمون میں الفاظ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ پیش نظر مضمون میں نے پونہ کی قلم کار شیکھا پاچولی کی غزلوں سے کچھ اشعار جمع کیا ہے، جو آپ کے حضور پیش کرتا ہوں تاکہ آپ شاعرہ کی ادبی صلاحیت اور ہندی غزلوں کے اشعار پر اپنا فیصلہ صادر کر سکیں، ملاحظہ فرمائیں::
کشمکش، مصر و فیت یا بس انا کی بات تھی
خوبصورت اک فسانہ بنتے بنتے رہ گیا
بے وفائی دل فریبی جانے کیا آنکھوں میں تھی
اس قدر جی بھر کے دیکھا، الوداع ہی کہ گیا
ایک ہی غزل کے دو اشعار آپ کے سامنے ہیں، الفاظ کا انتخاب، مصرعے کی بنت اور قواعد کے مد نظر یہاں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ مذکورہ اشعار ہندی کے ہیں یا اردو کے۔ ہندی غزلوں کا زیادہ تر حصے کا یہی رویہ اپنے اردو قارئین کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ دو شعر اور ملاحظہ فرمائیں:
د و قدم ہی عشق کی راہوں پہ چل کر رو پڑا
ایک پتھر پھول کو بانہوں میں بھر کر رو پڑا
کچھ ادھورے خواب لیکر، اک اندھیری رات میں
ایک لڑکا ، ایک لڑکی سے لپٹ کر رو پڑا
شاعرہ بنیادی طور پر کمپیوٹر سائینس کی پروفیسر ہیں، جس تعلیم کا دارو مدار انگریزی پر ہے، ایسے تعلیمی اداروں کے کیمپس میں آج کل جو ماحول بنا ہوا ہے اس کو جتنا بہتر شیکھا پاچولی سمجھتی ہیں اتنا بہتر ہم آپ نہیں سمجھ سکتے، اس لئے مذکورہ چار مصر عے میں اشارتا بہت ساری باتیں شاعرہ نے بیان کر دیا ہے۔ شیکھا پاچولی اس وقت عمر کے جس مرحلے سے گزر رہی ہیں، اس عمر کو سیاست کے میدان اور ادب کی دنیا میں جواں سال کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ اس لئے میں یہ کہ سکتا ہوں کہ شیکھا پاچولی نے اپنی عمر اور اپنی بسات سے زیادہ شاعری کی ہے۔ آیئے شیکھا پاچولی کے کچھ اشعار کے بندش و معنی سے محظوظ ہوتے ہیں تاکہ شاعرہ کو داد دے کر اس کا حوصلہ بڑھا سکیں:
چلو جستجو کا گلا گھونٹ ڈالیں، اور اپنی ارماں کی قیمت نکالیں
اب اس دور میں کیا محبت کا رونا، چلو ہم محبت کی میت نکالیں
میری رنگت تیرے چہرے سے رخصت ہی نہیں ہوگی
تو کوشش لاکھ کر لے اب محبت ہی نہیں ہوگی
ہماری جان ہو تم، اس لئے ہیں سو گلے تم سے
اگر تم غیر ہو تم سے شکایت ہی نہیں ہوگی
اس عشق والے گاؤں تک، نہ بیچ کا رستہ کوئی
یا روح کی تقریر سن، یا عقل سے ہی کام لے
شیکھا، نا گپور میں پیدا ہوئیں اور اب پونہ میں مقیم ہیں، پونہ والے خوش قسمت ہیں جن سب کے حصے میں یہ ادبی خزانہ آیا ہے۔ میری دعا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ شیکھا پاچولی یوں ہی اپنی ادبی کاوشیں جاری رکھیں گی:
یہ چڑیا بھی میری بیٹی سے کتنی ملتی
کہیں بھی شاخ گل دیکھے تو جھولا ڈال دیتی ہے (منور رانا)