سپریم کورٹ نے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا حکم معطل کردیا

  • منگل 26 / نومبر / 2019
  • 5360

پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئِے جنرل باجوہ سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر کو ریٹائر ہونا تھا تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی انہیں تین برس کے لیے توسیع دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس توسیع کے خلاف درخواست پیر کو جیورسٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی اور منگل کو چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔

آج کی سماعت میں درخواست گزار ریاض حنیف راہی پیش نہیں ہوئے بلکہ ان کی جانب سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی تاہم عدالت نے اسے مفادِ عامہ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے از خود نوٹس میں تبدیل کر دیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ علاقائی سکیورٹی کی صورتحال کے ہیش نظر آرمی چیف کو توسیع دی جا رہی ہے۔

سماعت کے دوران ججوں نے کہا کہ علاقائی سکیورٹی سے نمٹنا فوج کا بطور ادارہ کام ہے، کسی ایک افسر کا نہیں اور 'علاقائی سکیورٹی کی وجہ مان لیں تو فوج کا ہر افسر دوبارہ تعیناتی چاہے گا۔' عدالتِ عظمیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل مدت ملازمت میں توسیع یا نئی تعیناتی کا قانونی جواز فراہم نہیں کر سکے۔

عدالت کے مطابق فوجی قوانین کے تحت صرف ریٹائرمنٹ کو عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے اور ریٹائرمنٹ سے پہلے ریٹائرمنٹ معطل کرنا گاڑی کو گھوڑے کے آگے باندھنے والی بات ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل نے قانون کی کوئی ایسی شق نہیں بتائی جس میں چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع اور دوبارہ تعیناتی کی اجازت ہو۔

وزیر اعظم نے خود آڈر پاس کر کے موجودہ آرمی چیف کو ایک سال کی توسیع دی۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں آرٹیکل 243 کے تحت صدر مجاز اتھارٹی ہوتا ہے۔ منگل کو دورانِ سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار نہیں اور صرف صدر پاکستان ہی ایسا کر سکتے ہیں جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع صدر کی منظوری کے بعد کی گئی اور کابینہ سے بھی اس سمری کی منظوری لی گئی۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے 19 اگست کو اپنے طور پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور نوٹیفکیشن کے بعد غلطی کا احساس ہوا تو وزیراعظم نے صدر کو سمری بھجوائی۔ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ کیا کابینہ نے اس معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل مناسب سوچ بچار کی۔ جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ دستاویزات کے مطابق کابینہ کی اکثریت نے اس معاملے پر کوئی رائے نہیں دی اور 25 ارکان میں سے 11 اس کے حق میں تھے جبکہ 14 ارکان نے عدم دستیابی کے باعث کوئی رائے نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ کیا حکومت نے ارکان کی خاموشی کو ان کی ہاں سمجھ لیا۔ اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کابینہ کے جن ارکان نے رائے نہیں دی وہ ووٹنگ میں شریک نہیں تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کابینہ نے 14 ارکان نے ابھی تک آرمی چیف کی توسیع پر مثبت جواب نہیں دیا تو کیا آپ کابینہ کے ارکان کو سوچنے کا موقع بھی نہیں دینا چاہتے۔

مختصر سماعت کے بعد عدالت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا حکم نامہ معطل کرتے ہوئے فوج کے سربراہ، وفاقی حکومت اور وزارتِ دفاع کو نوٹس جاری کر دیا جبکہ سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

خیال رہے کہ وزیرِاعظم عمران خان نے 19 اگست کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں تین برس کے لئے توسیع کی تھی۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کا فیصلہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔