خصوصی عدالت ہائی کورٹ کے فیصلے کی پابند نہیں

  • جمعرات 28 / نومبر / 2019
  • 5970

سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو 5 دسمبر تک اپنا بیان ریکارڈ کروانے کا حکم دیتے ہوئے مقدمے کی روزانہ بنیادوں پر سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔

خصوصی عدالت نے 19 نومبر کو سنگین غداری کیس کا فیصلہ 28 نومبر تک کے لیے محفوظ کیا تھا۔ تاہم خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکنے کے لیے حکومت نے اسلام آباد ہائی میں درخواست دائر کی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ روز خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا۔

اس فیصلہ کی روشنی میں خصوصی عدالت سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ آج نہ سنا سکی۔ خصوصی عدالت میں مقدمے کی سماعت جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں جسٹس شاہد کریم اور جسٹس نذر اکبر پر مشتم 3 رکنی بینچ نے کی۔

سماعت میں عدالت نے سرکاری وکیل رحا بشیر کی جانب سے تحریری جواب جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کیا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے بریت کی درخواست دائر کر رکھی ہے جس پر جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ریمارکس دیے کہ آپ نے ہمارے احکامات نہیں پڑھے۔ ہم ہائی کورٹ کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

سماعت میں جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس میں واضح کیا کہ ہم ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے پابند نہیں۔ ہم صرف سپریم کورٹ کے احکامات کے پابند ہیں۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے آپ کو 5 دسمبر تک پروسیکیوشن تعینات کرنے کا حکم دیا ہے، ہم 5 دسمبر کے بعد آپ کو مزید وقت نہیں دیں گے اور 5 دسمبر کے بعد روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں گے۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ہدایت کی کہ اگلی سماعت تک بیان ریکارڈ کروانے کا موقع دے رہے ہیں۔ پرویز مشرف اگلی سماعت سے قبل جب چاہیں آکر بیان ریکارڈ کرواسکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ سماعت کے بعد کوئی درخواست نہیں لی جائے گی۔

بعدازاں عدالت نے پروسیکویشن ٹیم کو پوری تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں حکومت کا موقف  تھا کہ حکومت کی طرف سے نئی استغاثہ ٹیم تعینات کرنے تک خصوصی عدالت کو کارروائی سے روکا جائے۔

جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے وزارتِ داخلہ کے ذریعے سنگین غداری کیس کی درخواست دائر کی گئی تھی، جسے خصوصی عدالت نے 13 دسمبر 2013 کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سابق صدر کو اسی سال 24 دسمبر کو طلب کیا تھا۔