اداروں میں تصادم کی خواہش رکھنے والے مایوس ہوں گے: عمران خان

  • جمعرات 28 / نومبر / 2019
  • 4830

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ہمارے بیرونی دشمنوں اور اندرونی مافیاز کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کردی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اداروں کو آپس میں لڑوانے کے خواہشمندوں کو آج بے حد مایوسی ہوئی ہوگی۔ ناکامی پر اندرونی مافیاز اور بیرونی دشمنوں کو خصوصی مایوسی کا سامنا ہوا ہوگا۔

ٹوئٹ پیغام میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مافیا ملک کو غیر مستحکم کرکے اپنے لوٹ کے مال کی حفاظت کے لیےکوشاں ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 23 سال قبل ہماری جماعت نے خود مختار عدالت اور قانون کی بالادستی کی بات کی تھی۔ 2007 میں تحریک انصاف عدلیہ کی آزادی کے لیے سب سے آگے تھی اور مجھے اس کے لیے جیل بھی بھیجا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ  میں چیف جسٹس کی عزت کرتا ہوں جو پاکستان میں پیدا ہونے والے بہترین منصف ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس میں سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں 6 ماہ کی مشروط توسیع دے دی ہے۔ اس اہم کیس پر سب کی نظریں تھیں کیونکہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت آج رات ختم ہورہی تھی اور حکومت کے پاس یہ آخری موقع تھا کہ وہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے اقدام پر عدالت کو مطمئن کرے۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ آئندہ 6 ماہ کے چیف آف آرمی اسٹاف رہیں گے جبکہ اس عرصے کے دوران پارلیمان آرمی چیف کی توسیع/دوبارہ تعیناتی کے لیے قانون سازی کرے گی۔