آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع

  • جمعرات 28 / نومبر / 2019
  • 4570

سپریم کورٹ نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں  6 ماہ کی مشروط توسیع کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے توسیع سے متعلق کیس میں سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سنادیا۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی یا توسیع چیلنج کی گئی ہے۔ حکومت ایک سے دوسرا موقف اپناتی رہی، کبھی دوبارہ تعیناتی کبھی دوبارہ توسیع کا کہا جاتا رہا۔ آئین کے مطابق صدر افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں۔ آرمی چیف کو قانون سازی سے مشروط 6 ماہ کی توسیع دی گئی ہے کیونکہ آرمی چیف کی مدت تعیناتی کا قانون میں ذکر نہیں ہے۔ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ محدود یا معطل کرنے کا بھی کہیں ذکر نہیں۔

عدالت نے کہا کہ 6 ماہ میں اس بارے میں  قانون سازی کی جائے۔ اس وقت تک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہی رہیں گے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ آج عدالت کو نئی سمری نوٹیفکیشن پیش کیے گئے۔ نوٹیکفیشن کے مطابق جنرل باجوہ کو آرمی چیف تعینات کیا گیا۔ حکومت نے جنرل باجوہ کی نئی تعیناتی 28 نومبر سے کی۔ فیصلے کے مطابق حکومت، آرٹیکل 243 بی پر انحصار کر رہی ہے اور عدالت نے اسی آرٹیکل سے متعلق قوانین کا جائزہ لیا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت آج رات ختم ہورہی ہے اور حکومت کے پاس یہ آخری موقع تھا کہ وہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے اقدام پر عدالت کو مطمئن کرے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے جیورسٹ فاؤنڈیشن کے وکیل ریاض حنیف راہی کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست پر مسلسل تیسرے روز سماعت کی۔

عدالت کی جانب سے دوبارہ سماعت شروع کرنے سے قبل حکومت کو ان ہدایت پر عمل کرنے کا کہا گیا۔  الف) بیان حلفی جمع کروائیں کہ اس معاملے پر 6 ماہ میں قانون سازی کریں گے ب) ترمیمی نوٹیفکیشن پیش کیا جائے اس ترامیمی نوٹیفکیشن مییں سے سپریم کورٹ کا ذکر حذف کیا جائے اور آرمی چیف کی 3 سال کی مدت کا ذکر نکالا جائے ج) آرمی چیف کی تنخواہ و مراعات کو واضح کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت نے مسلح افواج کے قوانین میں ترامیم کے لیے چھ ماہ کا وقت مانگا ہے۔ ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں۔ ہمارے سامنے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن جمع کرایا گیا۔ عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ محدود یا معطل کرنے کا نوٹی فکیشن میں کہیں ذکر نہیں۔ عدالت تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑتی ہے اور پارلیمنٹ طے کرے گی کہ مدت کتنی ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران کہا کہ جنرل باجوہ کی تقرری یا توسیع ہمارے پاس چیلنج ہوئی۔ وفاقی حکومت اس تقرری پر ایک سے دوسرا موؑقف اپناتی رہی اور آرمی چیف کی مدتِ ملازمت سے متعلق کوئی قانونی شق نہیں دکھائی گی۔

​اٹارنی جنرل انور منصور خان نے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق نئی سمری اور بیان حلفی عدالت میں پیش کیا اور یقین دہانی کرائی ہے کہ آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر اس میں ضروری تبدیلیاں کریں گے۔ یاد رہے کہ جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت آج رات 12 بجے مکمل ہو رہی ہے۔ اس سے قبل حکومت نے اُن کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کی تھی جسے ایڈووکیٹ ریاض حنیف راہی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔