ملک بھر میں طلبہ یکجہتی مارچ، سٹوڈنٹ یونینز بحال کرنے کا مطالبہ

  • جمعہ 29 / نومبر / 2019
  • 5390

اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی  کی قیادت میں ملک بھر میں طلبہ یکجہتی مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں دیگر مطالبات کے علاوہ تعلیمی ادروں میں اسٹوڈنٹ یونینز کی بحالی کا مطالبہ پیش کیا گیا ہے۔

ان ریلیوں میں طلبہ، رضاکار و مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔ پروگریسو اسٹوڈنٹس کلیکٹو (پی ایس سی) کی جانب سے پاکستان کے 50 شہروں میں ہونے والے مارچ کے حتمی مقامات کی تفصیل شیئر کی گئی۔ ملک کے کچھ مقامات پر یہ مارچ صبح کے وقت میں شروع ہوا جبکہ دیگر شہروں میں اس کے آغاز کا وقت سہ پہر تھا۔

کراچی میں بھی طلبہ یکجہتی مارچ کا آغاز ریگل چوک سے ہؤا۔ اور یہ کراچی پریس کلب تک  گیا۔ اس مارچ میں طلبہ سمیت سول سوسائٹی کے اراکین محمد حنیف، جبران ناصر اور دیگر شریک تھے۔ مارچ میں شریک طلبہ کی جانب سے 'ہم کیا چاہتے؟ آزادی!" کے نعرے لگائے گئے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ 'میں اپنے مستقبل کی حمایت کے لیے باہر نکلا ہوں، طلبہ ہمارا مستقبل ہیں اور ہمیں یہ احساس کرنا چاہیے کہ اگر ہم ماضی کے کارناموں پر روشنی ڈالتے رہے تو ہمارا مستقبل کبھی روشن نہیں ہوگا'۔ جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ملک میں  حقیقی اور نئی قیادت  آبپارا اور پنڈی کے راستوں سے نہیں آئے گی بلکہ کالجز اور یونیورسٹیز سے آئے گی۔

کراچی میں ہونے والے مارچ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی شریک ہوئے اور انہوں نے طلبہ کو ہراساں کرنے میں ملوث ہونے پر بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی مارچ میں شریک ہوئے اور انہوں نے علاقے میں سہولیات کی کمی اور ہائر ایجوکیشن پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں طلبہ یکجہتی مارچ میں شرکت کرنے کے ناصر باغ میں جمع ہوئے اور وہاں سے پنجاب اسمبلی کی طرف مارچ کیا۔  خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں طلبہ اور سول سوسائٹی کے اراکین نے پشاور پریس کلب سے احتجاجی ریلی نکالی اور صوبائی اسمبلی پہنچ کر شرکا پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

بلوچستان یونیورسٹی سمیت مختلف جامعات میں طلبہ تنظیموں پر سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے پابندی کے خلاف اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ احتجاجی ریلی میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔