سی پیک کی آڑ میں۔۔۔
- تحریر
- جمعہ 29 / نومبر / 2019
- 5110
سی پیک ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ امریکہ کے مشہور پالیسی تھنک ٹینک ووڈورڈ ولسن سنٹر میں امریکہ کی جنوبی و وسطی امریکہ کے لئے نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے گزشتہ ہفتے ایک سیمینار میں سی پیک کو شدید الفاظ میں ہدف ِ تنقید بنایا۔ بظاہر تو چین کے عالمگیر منصوبے ون بیلٹ ون روڈپر امریکہ کی تشویش اور تنقید کو اجاگر کرنا مقصود تھا لیکن اصل ہدف تنقید سی پیک منصوبہ ہی رہا۔
سی پیک کو ایک گیم چینجر کے طور پر پیش کرنے اور کریڈٹ لینے میں مسلم لیگ ن بہت فعال رہی۔البتہ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے قبل سی پیک منصوبوں پر شدید تحفظات رہے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد سی پیک منصوبوں پر پی ٹی آئی کا انداز اور لہجہ دھیرے دھیرے بدلتا گیا لیکن ایک واضح فرق بہت نمایاں دیکھا گیا۔ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد سی پیک کے بیشتر منصوبوں کی رفتار سست ہوگئی۔ وزارت منصوبہ بندی کے ُ اس وقت کے وزیر خسرو بختیار نے دو تین ماہ قبل اپنی حکومت کے دفاع میں پریس کانفرنسیں اور ٹاک شوز میں اس تاثر کی نفی کی کہ ان کی حکومت کو سی پیک منصوبوں سے کوئی بیر ہے۔ ان منصوبوں پر کام کیوں سست روی کا شکار ہے، ان کے بقول حکومت ان منصوبوں کی ترجیحات اور ان کی تکنیکی افادیت اور تفاصیل پر نظرِ ثانی کر رہی ہے۔ کچھ مہینوں کی بات ہے، پھر آپ دیکھیں گے کہ یہ منصوبے ہوں گے اور ان کی حکومت کی پھرتیاں!
ایلس ویلز نے سی پیک کو پاکستان کے لئے ایک جال سے تعبیر کیا، قرضوں کا جال۔ ان کے بقول ان منصوبوں کو تین پیمانوں پر پرکھا جائے تو انکشاف ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے۔ اول: سی پیک میں قرضوں اور امداد پر شرح سودکا حجم ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد قرضوں کی ادائیگی کے سالوں میں پاکستان کو شدید دباؤ میں لے آئے گا۔ دوم: ان منصوبوں کی لاگت عالمی پیمانوں کے مقابلے میں تقریباٌ دو گنا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ دنیا میں تھرمل بجلی پیداواری یونٹ لگانے کی قیمت تقریباٌ 750 0. ملین ڈالرز فی میگاواٹ ہے جبکہ پاکستان میں یہی منصوبے 1.5 ملین ڈالر فی میگاواٹ کی اوسط سے تعمیر ہوئے۔ سوم: یہ بھی خام خیالی تھی کہ ان منصوبوں سے پاکستان میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوئے۔ چینی کمپنیوں نے ہر چھوٹی بڑی چیز اپنے ہاں سے منگوائی، یوں مقامی صنعتوں کو فائدہ نہ ہوا۔ رہی روزگار کی بات تو ان منصوبوں کے لئے مزدور تک وہیں سے لائے گئے۔
ایلس ویلز کے بقول پاکستان کے عوام کو اندازہ ہی نہیں کہ ان منصوبوں کی صورت میں وہ قرضے کے جنجال میں پھنس رہے ہیں۔ ان قرضوں کی واپسی کے وقت اَن چاہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مالدیپ اور سری لنکا کی مثالیں دیں کہ کس طرح مہنگے قرضے اور محیر العقول تعمیری لاگت نے ان دونوں ممالک کی حکومتوں کو چین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ سری لنکا کو اپنی ایک بندرگاہ ننانوے سال کے لئے چین کے حوالے کرنی پڑی۔
ایلس ویلز کے بقول چین دنیا کا سب سے بڑا قرض خواہ ملک ہے۔ دنیا بھر میں پانچ ٹریلین ڈالرز کے قرضے دینے کے باوجود پیرس کلب، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے پاس ان قرضوں کی شفاف تفصیلات ہیں اور نہ ہی چین کی حکومت اتنی خطیر رقوم کے قرضوں کی تفصیلات کا ریکارڈ عالمی اداروں کے ساتھ شئیر کرتی ہے۔ پراسراریت کے اس دبیز پردے اور چین کے ظاہری بیانئے میں کہ وہ باہمی تعاون اور مفاد یعنی win win situation کے اصول پر کاربند ہیں پر امریکہ کو بہت تشویش ہے۔
چین کے پاکستان میں سفیر نے اس تنقید پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا۔ ان کے بقول اس وقت امریکہ کہاں تھا جب پاکستان اندھیروں کا شکار تھا، چین کے سی پیک کے تحت انرجی کے منصوبوں نے پاکستان میں ان اندھیروں کو دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ رہی بات ادائیگی کے بوجھ کی تو اگر پاکستان کو ادائیگی میں دشواریاں آئیں تو چین نرمی کا معاملہ کرے گا۔ بیجنگ میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جواب دیا کہ ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک پر امریکہ نے پھر سے وہی راگ الاپنا شروع کر دیا ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں۔ چین کے ترجمانوں کے علاوہ حکومت کے وزیر اسد عمر نے کہا کہ چین کے کل قرضوں کا تناسب پاکستان کے مجموعی قرضوں میں ایک چوتھائی سے بھی کم ہے، لہٰذا قرضوں کے جال کی بات خلافِ واقعہ ہے، اور یہ بھی کہ زیادہ تر قرضوں کی شرح سود بہت رعایتی ہے۔ مسلم لیگ ن کے سابق وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی اسی طرح کی وضاحت کرتے ہوئے اس تنقید سے اڑائی گئی گرد جھاڑنے کی کوشش کی۔
عالمی سطح پر امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ نے پوری دنیا کو بے یقینی کی سولی پر ٹانگ رکھا ہے۔ علاقائی برتری اور ایشیا اور دنیا کے دیگر ممالک کے درمیان اثرورسوخ کی کھینچا تانی اب شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔ چین کا تجارتی حجم اور فاضل سرمایہ ورلڈ آرڈر میں امریکہ کی پوزیشن کے لئے چیلنج ہے۔ اکیسویں صدی میں علاقائی، تجارتی اور سیاسی برتری کے لئے نئی صف بندیاں ترتیب پا رہی ہیں۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے ذریعے چین اپنی تجارت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ تک رسائی کو دنیا کے پچپن ممالک تک ایک مربوط انداز سے پھیلانے کا خواہاں ہے، امریکہ کو اندازہ ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل اس کے وضع کردہ ورلڈ آرڈر میں بہت بڑا شگاف ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر ملک کے لئے اس کا مفاد مقدم ہے۔ اسے ہماری غفلت کہئے یا ہماری کاہلی پر مبنی گورننس، ہمارا ماضی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ بالعموم تمام حکومتوں نے عالمی معاہدوں کے لئے درکار ہوم ورک اور چھان پھٹک کی بجائے بیشتر فیصلہ کن موقعوں پر وقتی ترجیحات، اکثرغیر ضروری عجلت اور تن آسانی کو اپنایا۔ سی پیک بھی اسی روایت کا مظہر رہا۔
1994 کی انرجی پالیسی نے امریکی سرمایہ کاروں کو اس قدر فیاضی سے نوازا کہ اس وقت کے امریکہ کے سیکرٹری تجارت ہیزل او لیری نے آن ریکارڈ کہا کہ پاکستان کی انرجی پالیسی دنیا بھر میں بہترین ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان کے ساتھ آئے اسّی سرمایہ کاروں کے وفد کے ساتھ 3,400 میگاواٹ کے لئے چار ارب ڈالرز کے سولہ معاہدے ہوئے، ڈالرز کو بنیاد بنا کر 25 سے 30 سال کے طویل مدت معاہدوں کے تحت 15-18% یقینی منافع، حکومتی گارنٹیوں سمیت دو حصوں پر مبنی ادائیگی کا ماڈل اپنایا گیا۔ انرجی ادائیگی اور عدم استعمال کی صورت میں کیپیسٹی ادائیگی۔ اس پالیسی کے تسلسل کا اعجازتھا کہ پاکستان کے بجلی پیداواری مکس میں تھرمل کا حصہ ساٹھ فی صد کی خطرناک حدوں کو چھو گیا۔ امریکی سرمایہ کاروں کی تو چاندی ہو گئی لیکن پاکستان خطے میں سب سے مہنگی بجلی کی دلدل میں پھنس کر رہ گیاہے۔
سی پیک کے منصوبوں میں بیشتر حصہ انرجی پروجیکٹس کا ہے اور شرائط کا ماڈل تقریباٌ وہی ہے جو ایک وقت میں امریکی سرمایہ کاروں کو پیش کیا گیا۔ وزرا کی باتیں قرضوں کے حجم اور شرح سود کی حد تک وزن رکھتی ہوں گی لیکن لگے ہاتھوں وہ باقی دو پہلوؤں پر بھی لب کشائی کر دیتے تو معاملہ واضح اور شفاف ہو جاتا یعنی سی پیک پروجیکٹس کی تعمیری لاگت عالمی پیمانوں سے دوگنا نہیں ہے اور یہ کہ ان منصوبوں کی تعمیر سے مقامی انڈسٹری کو کس قدر فائدہ ہوا اور مستقل روزگار کے کتنے مواقع پیدا ہوئے۔ سی پیک منصوبوں کی شفافیت اور افادیت کے لئے یہ سوالات بھی ہم ہیں۔