لندن برج پر حملہ کرنے والا عثمان خان سزا یافتہ تھا: پولیس
- ہفتہ 30 / نومبر / 2019
- 4890
برطانیہ کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ جمعہ کو لندن برج پر چاقو سے دو افراد کو ہلاک کرنے والے حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے۔ عثمان خان نامی حملہ آور کو 2012 میں دہشت گردی کا جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی تھی۔ اور اسے ضمانت کے بعد گزشتہ سال رہا کیا گیا تھا۔
برطانیہ کی انسداد دہشت گردی پولیس کے اعلٰی افسر نیل باسو نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ 28 سالہ عثمان خان کو گزشتہ سال رہا کیا گیا تھا۔ تاہم تحقیقات جاری ہیں کہ آخر کیوں ملزم نے دوبارہ اس طرح کے جرم کا ارتکاب کیا۔
حکام کے مطابق برطانیہ میں مجرموں کو قید کی مدت مکمل ہونے سے قبل مختلف ضمانتوں اور یقین دہانیوں کے بعد ہی رہا کیا جاتا ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملزم کو 'الیکٹرونک ٹیگ' پہننے کی شرط پر رہا کیا گیا تھا۔ حملہ آور نے جمعہ کی دوپہر دو بجے لندن برج پر چاقو کے وار کر کے متعدد افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ بعدازاں پولیس کی گولی لگنے سے حملہ آور ہلاک ہو گیا تھا۔
پولیس کے مطابق واقعے میں دو شہری ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے جبکہ زخمی ہونے والی دو خواتین اور ایک مرد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
برطانوی حکام نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے۔ جس کے بعد برطانیہ میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ لندن کے میئر صادق خان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ انفرادی فعل لگتا ہے۔ لہذٰا پولیس کسی اور ملزم کو تلاش نہیں کر رہی۔ صادق خان نے لندن برج پر موجود شہریوں کی ہمت کو داد دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جب برج پر
برطانوی اخبار 'دی ٹیلیگراف' کے مطابق عثمان خان نے اپنی عمر کا ابتدائی حصہ آزاد کشمیر میں گزارا۔ عثمان خان کا تعلق برطانیہ کے علاقے سٹیفر شائر سے تھا اور وہ برطانیہ میں ہی پیدا ہوا۔ اخبار کے مطابق عثمان خان کشمیر میں اپنی والدہ کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ جہاں انہوں نے اپنی آبائی اراضی پر دہشت گردی کے لیے ٹریننگ کیمپ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ عثمان اپنے آبائی علاقے میں شرعی قوانین نافذ کرنے کے لیے بھی سرگرم رہا۔
اخبار میں کہا گیا ہے کہ والدہ کے بیمار ہونے پر عثمان خان برطانیہ آیا اور یہاں 2012 میں القاعدہ کے حمایتی گروپ میں شامل ہو کر اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی سازش میں ملوث پایا گیا۔ اخبار کے مطابق عثمان انٹرنیٹ اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے مذہبی انتہا پسندی کے فروغ میں بھی ملوث رہا تھا۔