اسموگ ختم کرنے کے لئے جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے: وزیر اعظم

  • ہفتہ 30 / نومبر / 2019
  • 5260

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ  لاہور اور پشاور میں اسموگ کے بہت مسائل ہیں اور اسموگ اور ماحولیاتیی آلودگی کے خاتمے کے لیے جامع پلان ترتیب دیا گیا ہے۔

لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان سمیت دیگر حکومتی اراکین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم  نے کہا کہ اسموگ سے پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور اس سے بزرگ اور بچے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ اسموگ جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے ماضی میں توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہوا میں زیادہ آلودگی گاڑیاں کرتی ہیں اور اس کے لیے ہم نے کچھ فیصلے کیے ہیں۔ ہم نے باہر سے آنے والے تیل کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب ہم یورو 2 کے بجائے یورو 4 درآمد کریں گے جبکہ 2020 کے آخر تک یہ یورو 5 پر چلایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں موجود آئل ریفائنریز کو وقت دیں گے کہ وہ 3 سال میں اپنے فیول کو صاف کریں، اگر وہ اس طرف نہیں جائیں گے تو پھر ہم انہیں بند کردیں گے۔ ہم نے الیکٹرک گاڑیوں کا فیصلہ کیا ہے اور کار کی صنعت سے متعلق بات چیت جاری ہے جبکہ ہم نے بسوں کو بھی ہائبرڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فضائی آلودگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم نے لاہور میں 60 ہزار کینال زمین مختص کی ہے جہاں ہم جنگلات اگائیں گے تاکہ ہوا صاف ہو تاہم اس کے اثرات آہستہ آہستہ مرتب ہوں گے کیونکہ گزشتہ 20 برس میں جو قدم اٹھانے چاہیے تھے کسی نہیں اٹھائے حالانکہ اس پر تجاویز بھی آتی تھیں لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔

ایک صحافی کی جانب سے میڈیا بحران پر سوال کیا گیا جس پر عمران خان نے کہا کہ آج کل کے دن مشکل ہیں اور پاکستان اس سے نکل رہا ہے اور سب سے مشکل وقت نکل گیا ہے۔ ہمارا روپیہ ٹھیک ہوگیا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آرہی ہے، سرمایہ کاری آرہی ہے اور یہ آگے بڑھ رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو بھی میڈیا مالکان اپنے کارکنان کو وقت پر تنخواہ نہیں دیتے ہیں اس کی تحقیقات کی جائیں کیونکہ اس وقت کوئی کرائسس نہیں ہے اور نہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ تنخواہ نہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جب ملک اٹھنے لگا تو پہلے واردات کی کہ فضل الرحمٰن اسلام آباد فتح کرنے آرہا ہے۔ وہ ڈیزل کے پرمٹ فتح کرنے اسلام آباد آیا تھا۔ سب اس کے ساتھ اکٹھے ہوئے لیکن ان کو پتہ نہیں تھا کیوں اکٹھے ہورہے ہیں۔ مافیا کا مفاد پاکستان نہیں بلکہ اپنا پیسہ بچانا ہے اور انہیں ڈر ہے کہ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو ان کی دکانیں بند ہوجائیں گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ سارا مافیا ہے، ان کا مقصد پاکستان نہیں بلکہ اپنا پیسہ بچانا ہے اس لیے ہر روز افراتفری مچی ہوتی ہے کہ پنجاب فیل ہوگیا حالانکہ کسی سیمینار میں ہم بتائیں گے کہ پہلے کیا اصلاحات ہوئیں اور اب کیا ہوئیں۔