دادو میں 10 سالہ لڑکی کو سنگسار کرنے کے الزام میں والدین سمیت 4 افراد گرفتار
- اتوار 01 / دسمبر / 2019
- 5210
ضلع دادو پولیس نے 10 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر سنگسار کرنے کے الزام میں والدین سمیت 4 افراد کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ 21 اور 22 نومبر کی درمیانی شب ضلع دادو کے کیرتھر میں پہاڑی علاقے میں پیش آیا۔
10 سالہ لڑکی کو سنگسار کرنے سے متعلق خبروں کے بعد ایس ایس پی دادو ڈاکٹر فرخ رضا نے واہی پانڈھی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ افسوس ناک واقعے سے متعلق معلومات جمع کریں۔ واضح رہے کہ واقعہ ضلع دادو میں تعلقہ جوہی کے علاقے واہی پانڈھی میں پیش آیا ہے۔
واہی پانڈھی پولیس نے پہلے ایک مذہبی شخص کو حراست میں لیا، جس نے لڑکی کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔ اور پھر اس کی رہنمائی میں لڑکی کے والدین کے گھر پہنچے۔ ایس ایس پی رضا نے بتایا کہ 'ہم حقائق کی مزید تحقیقات کررہے ہیں تاہم اب تک متاثرہ بچی کے والدین سمیت 3 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا'۔ انہوں نے بتایا کہ بچی کے والدین کے علاوہ بھی ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس نے مقتولہ کی تدفین میں سہولت فراہم کی تھی۔
ایس ایس پی رضا نے بتایا کہ چاروں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق لڑکی کے والد، ان کے رشتہ دار اور 4 دیگر افراد نے بچی کے قتل کی سازش کی اور لڑکی کو پتھر مار مار کر قتل کردیا گیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ بعد ازاں ملزمان نے کفن خریدا اور اسے لک قبرستان کے قریب دفن کردیا۔
ایس ایس پی رضا نے کہا کہ 'ہم واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں کیونکہ لڑکی کی موت کی نوعیت کے بارے میں طرح طرح کے دعوے کیے جارہے ہیں'۔ مذکورہ واقعے کے بارے میں وہی پنڈھی سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے سندھ اسمبلی رکن صالح شاہ جیلانی نے بتایا کہ ' یہ واقعہ میرے حلقے میں ہوا لیکن میں پولیس کا انتظار کر رہا ہوں کہ وہ واقعے کی کچھ تفصیلات شیئر کریں کیونکہ مجھے اس حوالے سے صرف سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے'۔
دریں اثنا پولیس نے اسسٹنٹ سب انسپکٹر غلام قادر گوپانگ کی مدعیت میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 ، 201 ، 120-B کے تحت ایف آئی آر درج کرلی۔ ایس ایس پی نے لڑکی کے والدین کے حوالے سے بتایا کہ لڑکی حادثاتی طور پر پہاڑ پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے دم توڑ گئی تھی۔ ڈی آئی جی نعیم شیخ نے دعویٰ کیا کہ ملزمان کے ریمانڈ اور بچی کی لاش نکالنے کے لیے متعلقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دائر کی جائے گی۔
بتایا جاتا ہے کہ بچی کے اہل خانہ کا تعلق بلوچستان سے ہے لیکن وہ کیرتھر کے پہاڑی علاقے سے سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے میں سفر کرتے رہتے ہیں اور اس راستے کے حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ اس سے گزرنا مشکل ہے۔