شہباز شریف، حمزہ اور سلمان شہباز کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم
- منگل 03 / دسمبر / 2019
- 4650
قومی احتساب بیورو (نیب) نے کرپشن کے جرائم کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ان کے صاحبزادوں حمزہ اور سلمان شہباز کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
نیب کی جانب سے جو احکامات جاری کیے گئے ان میں لاہور، چنیوٹ، ہری پور اور ایبٹ آباد میں موجود اثاثوں کو منجمد کئے گئے ہیں۔ یہ احکامات آئندہ 15 روز کے لیے برقرار رہیں گے، جس کے دوران نیب ان کی تصدیق کے لیے متعلقہ احتساب عدالت میں درخواست دائر کرے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی بھی محکمہ شہباز شریف خاندان کی جائیدادیں فروخت یا منتقل کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔
احتساب کے قومی ادارے کی جانب سے 6 احکامات جاری کیے گئے۔ جن میں شہباز شریف، حمزہ اور سلمان شہباز کی الگ الگ جائیدادوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ شہباز شریف اور ان کے دونوں صاحبزادے کرپشن کیسز میں نامزد ہیں اور نیب ان کے خلاف تحقیقات کررہا ہے۔
نیب کا کہنا ہے کہ اب تک ان تینوں کے خلاف حاصل کیے گئے ثبوت یہ 'یقین کرنے کے لیے کافی' ہیں کہ شہباز شریف، سلمان اور حمزہ شہباز کرپشن میں ملوث تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور ان کے بچوں کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس ہیں۔
نیب کے مطابق شہباز شریف نے لاہور، ایبٹ آباد اور ہری پور میں متعدد جائیدادیں اپنی بیویوں نصرت شہبازاور تہمینہ درانی کے نام پر حاصل کیں، جنہیں اب منجمد کردیا گیا ہے۔ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز نے بھی لاہور اور چنیوٹ میں کئی جائیدادیں لیں۔
شہباز شریف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف (اپوزیشن لیڈر) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں۔ تاہم ان کے خلاف صاف پانی کیس اور آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں نیب تحقیقات کررہی ہے۔ انہیں گزشتہ برس 5 اکتوبر کو آشیانہ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فروری میں لاہور ہائی کورٹ نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔
11 جون 2019 کو مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو بھی قومی احتساب بیورو نے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمات میں گرفتار کیا تھا۔