ملک ریاض نے برطانوی کرائم ایجنسی سے 19 کروڑ پاؤنڈ کا تصفیہ کرلیا

  • منگل 03 / دسمبر / 2019
  • 4530

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خاندان کے ساتھ 19 کروڑ پاؤنڈ کی رقم یا اثاثوں کی فراہمی کے عوض تصفیہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ایجنسی کے بیان میں کہا گیا  ہے کہ 19 کروڑ پاؤنڈ کی رقم یا اثاثوں کی فراہمی کے عوض تصفیہ پاکستانی شہری ملک ریاض حسین کے حوالے سے این سی اے کی تحقیقات کے نتیجے میں کیا جائے گا، جو پاکستان کے نجی شعبے کی اہم ترین کاروباری شخصیت ہیں۔ این سی اے نے 19 کروڑ پاؤنڈ کے تصفیے کی پیشکش قبول کی جس میں برطانیہ میں موجود جائیدادیں بھی شامل ہیں۔  ان کے منجمد اکاؤنٹس میں موجود تمام فنڈز بھی اس ڈیل میں  شامل ہیں۔

یہ اثاثے ریاست پاکستان کو واپس کیے جائیں گے۔ نیشنل کرائم ایجنسی کے بیان میں کہا گیا کہ اگست 2019 میں لگ بھگ 12 کروڑ پاؤنڈز فنڈز کے حوالے سے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت سے 8 اکاؤنٹس منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے گئے تھے۔ اکاؤنٹس منجمد کرنے کے یہ احکامات دسمبر 2018 میں 2 کروڑ پاؤنڈز کے حوالے سے اسی تحقیقات سے منسلک احکامات کے بعد حاصل کیے گئے تھے۔ جبکہ اکاؤنٹس منجمد کرنے کے تمام احکامات برطانوی بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم سے متعلق تھے۔

رواں سال مارچ میں پاکستانی سپریم کورٹ نے 460 ارب روپے کے عوض ملیر یا کراچی سپر ہائی وے سے متعلق کیسز میں ملک ریاض کی ملکیتی کمپنی بحریہ ٹاؤن پرائیوٹ لمیٹڈ کی تصفیہ کی پیشکش قبول کرلی تھی۔  جسٹس شیخ عظمت سعید نے 4 مئی 2018 کے عدالتی حکم پر عملدرآمد کے حوالے سے مختصر سماعت کے بعد کہا تھا کہ 'پیشکش قبول کی جاتی ہے۔'

عدالت کے حکم میں کہا گیا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کو زمین کے لیے گرانٹ، زمین کی نجی ڈیولپر (بحریہ ٹاؤن) کی زمین سے تبدیلی اور سرکاری زمین کی نوآبادیات سے متعلق قانون 1912 کی دفعات کے تحت صوبائی حکومت کی طرف سے جو کچھ بھی کیا گیا وہ غیر قانونی تھا۔

عدالت عظمٰی نے پیشکش قبول کرنے کے بعد قومی احتساب بیورو کو بحریہ ٹاؤن کے ڈائریکٹرز اور حکام کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے سے روک دیا تھا۔

تاہم ڈیل کے مطابق مقررہ عرصے (جسے 8 سے کم کرکے 7 سال کر دیا گیا تھا) میں تصفیے کی رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں نیب ڈیولپر کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے میں آزاد ہوگا۔ لیکن اس کے لیے اسے عدالت سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔