لوگوں کو جیل میں رکھنا نہیں چاہتے: شہزاد اکبر
- جمعرات 05 / دسمبر / 2019
- 4990
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ حکومت سول مقدمات میں معاہدوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور وہ لوگوں کو جیل میں رکھنا نہیں چاہتی۔
برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) اور پراپرٹی ٹائکون ملک ریاض کے 19 کروڑ پاؤنڈ کے تصفیے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب قانونی عمل کے ذریعے کسی دوسرے ملک سے رقم واپس ملک میں آئی ہو۔ یہ قابل ذکر بات ہے کہ یہ معاملہ فوجداری مقدمہ نہیں بلکہ سول نوعیت کا ہے ۔
رقم سپریم کورٹ کو دینے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ رقم سپریم کورٹ سے لی جائے گی اور ریاست کے حوالے کردی جائے گی۔ حکومت تحقیقات میں تیزی لانے اور پاکستان میں رقم واپس کرنے پر برطانوی حکومت اور این سی اے کے شکر گزار ہے۔ اس معاملے میں دوسرے ملک کی حکومت شامل ہے لہذا وہ رازداری کے پابند ہیں اور اس بارے میں تفصیلات پر تبصرہ نہیں کریں گے۔
برطانیہ میں 19 کروڑ کا معاہدہ کرنے کے بعد ملک ریاض نے ایک ٹوئٹ کہا تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں 19 کروڑ پاؤنڈز کی رقم جمع کروانے کے لیے برطانیہ میں موجود ظاہر شدہ قانونی جائیداد فروخت کی ہے۔
اس بارے میں جب این سی اے کے ایک عہدیدار سے پوچھا گیا کہ آیا یہ تصفیہ ملک ریاض کی جانب سے جائیداد فروخت کرنے کا نتیجہ ہے تو انہوں نے ڈان کو بذریعہ ای میل بتایا کہ ’این سی اے نے جائیداد کی ملکیت حاصل کرلی ہے جسے فروخت کرکے آمدنی پاکستان کو واپس کی جائے گی‘۔