وزیراعظم نے چیف الیکشن کمشنر کیلئے 3 نام تجویز کردیے
- جمعرات 05 / دسمبر / 2019
- 5780
وزیر اعظم عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے 3 افراد کے نام کی تجویز کردیے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی تین نام تجویز کرچکے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) سردار محمد رضا 6 دسمبر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ وزیراعظم کی جانب سے اس عہدے پر تعیناتی کے لیے بابر یعقوب، فضل عباس مکین اورعارف خان کے نام تجویز کیے گئے۔
واضح رہے کہ بابر یعقوب فتح محمد اس وقت سیکریٹری الیکشن کمیشن کے عہدے پر کام کر رہے ہیں جبکہ فضل عباس مکین بھی سابق سیکریٹری کے طور پر مختلف وزارتوں میں کام کر چکے ہیں۔ تجویز کردہ تیسری شخصیت عارف خان چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے عہدے پر تعینات ہیں۔
اس سے قبل قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم کو ایک خط میں چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے نام تجویز کیے تھے۔ انہوں نے ناصر سعید کھوسہ، جلیل عباس جیلانی اور اخلاق احمد تارڑ کے نام کی تجویز دی تھی۔
خیال رہے کہ آئین کی دفعہ 213 کی شق نمبر 2 حصہ الف کے تحت وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے پارلیمانی کمیٹی کو چیف الیکشن کمشنر کے تقرر یا سماعت کے لیے نام بھجواتا ہے۔ شہباز شریف نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کو بھی خط ارسال کیا تھا۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) سمیت متحدہ اپوزیشن نے گزشتہ روز چیف الیکشن کمشنر اور سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے دو اراکین کی تقرری کے معاملے پر حکومتی کمیٹی سے عدم اتفاق کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے 2 ارکان بھی ریٹائرڈ ہوچکے ہیں، جن کی تعیناتی کے لیے بھی حکومت اور اپوزیشن کے مابین اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔ سپریم کورٹ کو دی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ 5 دسمبر 2019 کو چیف الیکشن کمشنر کی معیاد ختم ہونے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان غیر فعال ہوجائے گا جس کے باعث ملک کا پورا انتخابی نظام رک جائے گا۔
اپوزیشن کا کہنا تھا کہ اراکین اور الیکشن کمشنر کی تقرری پر پارلیمانی کمیٹی میں اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں آئین کا آرٹیکل 213 خاموش ہے جو ملک میں آئینی بحران کا باعث ہوگا۔ درخواست میں مزید کہا گیا جپ کہ اراکین و چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے معاملے پر اتفاق رائے یا مسئلے کے حل کے لیے آئینی ترمیم میں ناکامی پر واحد حل معزز عدالت سے رجوع کرنا ہے۔
متحدہ اپوزیشن نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ ان حالات میں عدالت سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ آئینی بحران کے خاتمے کے لیے مناسب حکم جاری کرے جو چیف الیکشن کمشنر کی مدت ختم ہوتے ہی 5 دسمبر 2019 کے بعد پیش آئے گا۔