لندن برج کے حملہ آور عثمان خان کو پاکستان میں دفن کردیا گیا
- ہفتہ 07 / دسمبر / 2019
- 9490
لندن برج کے حملہ آور عثمان خان کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے کوٹلی میں دفنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے سکائی نیوز کو تصدیق کی ہے کہ 28 سالہ عثمان خان کی میت برطانیہ سے ایک مسافر طیارے کے ذریعے جمعہ کی صبح اسلام آباد پہنچی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق عثمان خان کی میت کے ہمراہ ان کے والدین اور بہن بھی پاکستانی پہنچے تھے۔عثمان خان کو کوٹلی کے گاؤں کجلانی میں دفنایا گیا۔
عثمان خان نے چند روز پہلے لندن کے مشہور تفریحی علاقے لندن برج میں راہگیروں پر چاقو کے وار کرکے دو افراد کو ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد موقع پر موجود پولیس نے لوگوں کو بچانے کے لیے اسے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
اخباری اطلاعات میں عثمان خان کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ برطانیہ میں پیدا ہونے والا پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھا۔ اس کا آبائی گاؤں پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ہے۔ اس نے چند سال پاکستان میں گزارے اور مبینہ طور پر ایک جہادی تربیتی کیمپ بھی قائم کیا تھا۔ برطانیہ واپسی کے بعد اس کے نظریات متشددانہ ہو گئے تھے۔ کئی سال قبل ایک دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں اسے سزا ہوئی۔ جیل میں چند سال گزارنے کے بعد اسے رہا کر دیا گیا تھا۔
لندن برج پر حملے کے بعد پاکستان کے روزنامہ ڈان کو اس وقت شدید تنقید اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے عثمان خان کو پاکستانی نژاد لکھا۔ پیر کے روز نامعلوم مظاہرین نے اسلام آباد میں ڈان اخبار اور نیوز چینل کے دفتر کا دوسری بار محاصرہ کیا اور اخبار کی کاپیاں نذر آتش کیں۔ اس سے قبل پیر کو بھی نامعلوم افراد نے ڈان کے دفتر پر حملہ کیا تھا۔
سکائی نیوز کی رپورٹ میں عثمان خان کے ایک کزن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس کی تدفین پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی میں اس کے آبائی گاؤں کجلانی میں کی گئی۔ کزن نے مزید بتایا کہ عثمان کے والدین اس واقعہ پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ اس لیے اس کی تدفین برطانیہ کی بجائے پاکستان میں کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میت کو پاکستان روانہ کرنے سے پہلے برمنگھم کی ایک مسجد میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ کوبرج سٹوک کے علاقے میں عثمان خان کی برادری کے بہت سے لوگ رہتے ہیں۔ انہیں دہشت گرد حملے کے واقعہ سے گہرا صدمہ ہوا اور انہوں نے یہ طے کیا کہ اس کی میت مقامی غوثیہ مسجد کے قبرستان میں دفن کرنے کی بجائے پاکستان بھیج دی جائے۔
سٹوک میں عثمان خان کے خاندان کے افراد نے سکائی نیوز کو بتایا کہ عثمان ایک اچھا اور شریف نوجوان تھا۔ لیکن وہ غلط ہاتھوں میں پڑ گیا جنہوں نے اسے انتہاپسندی کی جانب دھکیل دیا۔