ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ملک ریاض کیس میں برطانیہ سے شفافیت کا مطالبہ کردیا

  • اتوار 08 / دسمبر / 2019
  • 4740

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) سے ملک ریاض کیس میں مزید معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانوی حکام نے ملک ریاض کے اہلِ خانہ سے 19 کروڑ پاؤنڈ کا معاہدہ کیا تھا اور یہ رقم پاکستان کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل  نے کہا کہ کہ برطانیہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی میں شفافیت اور احتساب کے عمل کا احترام کرے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل برطانیہ کے عہدیدار نے کہا ہے کہ وہ اس خبر کا خیر مقدم کرتے ہیں جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پاکستانی عوام کو رقم واپس کی ہے۔ حالیہ اقدام ماضی کے مقابلے میں مؤثر اور بہتر ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کےڈائریکٹر برائے پالیسی ڈنکن ہیمز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ اس معاملے کی تفصیلات بہت محدود ہیں لیکن اصل ملک کو ضبط شدہ رقوم کی واپسی دراصل اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت ایک ذمہ داری ہے۔ انہوں نے برطانوی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی میں مکمل شفافیت اور احتساب کا کا احترام کریں۔

ڈائریکٹر برائے پالیسی ڈنکن ہیمز نے کہا کہ یہ جان کر حیرت ہوئی کہ برطانیہ کے ورجن آئی لینڈ میں ایک کمپنی رجسٹرڈ ہے جو اس کیس سے منسلک ہے۔ انہوں نے کہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ اثاثوں کو مخفی رکھنے والوں کے لیے اہم جگہ ہے۔  ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کو کیمین آئی لینڈز اور جبرالٹر کی طرح مثال قائم کرتے ہوئے کمپنیوں کے حقیقی مالکان کا نام ظاہر کرنے چاہیے۔

واضح رہے کہ 3 دسمبر کو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خاندان کے ساتھ 19 کروڑ پاؤنڈ کی رقم یا اثاثوں کی فراہمی کے عوض تصفیہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ لیکن اس بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔ پاکستانی وزیراعظم کے معاون خصوسی شہزاد اکبر نے بھی تصفیے کی شرائط بتانے سے گریز کیا اور کہا تھا کہ حکومت رازداری کے معاہدے کے پابند ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے 460 ارب روپے کے عوض ملیر یا کراچی سپر ہائی وے سے متعلق کیسز میں ملک ریاض کی ملکیتی کمپنی بحریہ ٹاؤن پرائیوٹ لمیٹڈ کی جانب سے تصفیے کی پیشکش قبول کی تھی۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے 4 مئی 2018 کے عدالتی حکم پر عملدرآمد کے حوالے سے مختصر سماعت کے بعد کہا تھا کہ 'پیشکش قبول کی جاتی ہے۔'

عدالت کے حکم میں کہا گیا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کو زمین کے لیے گرانٹ، زمین کی نجی ڈیولپر (بحریہ ٹاؤن) کی زمین سے تبدیلی اور سرکاری زمین کی نوآبادیات سے متعلق قانون 1912 کی دفعات کے تحت صوبائی حکومت کی طرف سے جو کچھ بھی کیا گیا وہ غیر قانونی تھا۔