حکومت 7 روز میں مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کرے: لاہور ہائی کورٹ
- سوموار 09 / دسمبر / 2019
- 5080
لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کی نظرثانی کمیٹی کو 7 روز میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی ن درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے مریم نواز کی درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر مریم نواز کے وکلا امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ پیش ہوئے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ ان کی موکلہ پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا الزام لگا کر نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کا موقف سنے بغیر ان کا نام ای سی ایل میں شامل کرکے وفاقی حکومت نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ آرڈیننس کی خلاف ورزی کی ہے۔
اس پر جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آرڈیننس کے سیکشن 3 کے تحت آپ وفاقی حکومت کے سامنے نظرثانی کی اپیل دے سکتے ہیں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ مریم نواز نے ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے حکومت کو کوئی درخواست نہیں دی کیونکہ عدالت سے بہتر ہمارے پاس کوئی فورم نہیں۔
مریم نواز کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ حکومتی وزرا بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ مریم نواز کو ملک سے باہر نہیں جانے دیں گے۔ حکومت خود مریم نواز کو باہر جانے نہیں دینا چاہتی تو حکومت کو کیسے درخواست دے دیں۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیاست میں تو مخالف جماعتیں ہوتی ہی ہیں، جس پر وکیل نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں۔ عدالت وفاقی حکومت کو درخواست دیے بغیر نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے سکتی ہے۔
اس پرعدالت نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ادارے اپنے اپنے کام کریں۔ وکیل نے کہا کہ نواز شریف کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے مریم نواز کو ان کے پاس جانا ہے اور مریم نوازحکومت کو کیسے درخواست دیں، حکومت تو ان کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔
عدالت نے حکومت کی نظرثانی کمیٹی کو 7 دن میں مریم نواز کا نام ایس سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر قانون کے مطابق فیصلے کا حکم دے دیا۔ ساتھ ہی درخواست کو نمٹا دیا۔ خیال رہے کہ ہفتہ 7دسمبر کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال کر 6 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔