بھارت کے شہریت بل کے خلاف احتجاج
- منگل 10 / دسمبر / 2019
- 5180
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں مسلم مخالف متنازع بل پیش کرنے اور اسے منظور کیے جانے پر سینکڑوں لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ بیرون ملک سے پناہ کے لئے بھارت آنے والے مسلمانوں کو اس بل کے تحت شہریت کے حق سے محروم کردیا جائے گا۔
بل کے تحت بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والی غیر مسلم اقلیتی باشندے بھارت میں شہریت حاصل کرسکے گی۔ پاکستان نے اس امتیازی قانون سازی کی مذمت کرتے ہوئے اسے انتہا پسند ہندوتوا کے زہریلے نظریے کا عکاس قرار دیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک ٹوئٹ کی اور کہا ہے کہ ہم لوک سبھا میں متنازع شہریت سے متعلق قانون سازی کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس میں انسانی حقوق کے تمام قوانین اور پاکستان کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ توسیع پسندی دراصل آر ایس ایس کے 'ہندو راشٹرا' عزائم کا ایک حصہ ہے جس کو فاشسٹ مودی سرکار نے پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا ہے۔
اس قانون پر بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے احتجاج کیا ہے۔ اس کے تحت پہلی مرتبہ مذہب کی بنیاد پر بھارتی شہریت دینے کے لیے ایک قانونی راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔ بل مودی سرکار نے پہلی مرتبہ 2016 میں پیش کیا تھا لیکن احتجاج اور اتحادیوں کی جانب سے دستبرداری کے بعد معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔
بل میں 2015 سے پہلے بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے بھارت آنے والے غیر مسلموں کو بھارتی شہریت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
بھارتی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف اور متعدد بھارتی شہروں میں مظاہروں کے دوران شرکا نے کہا کہ یہ بل دراصل مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے اور بھارت کے سیکولر آئین کی خلاف ورزی ہے۔ حزب اختلاف کے رکن ششی تھرور نے کہا کہ یہ بل مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔
اس بل کو راجیہ سبھا سے منظور ہونا ہے جہاں حکمران جماعت کی اکثریت نہیں ہے۔ کسی بھی بل کی قانون سازی لیے بھارتی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (لوک سبھا اور راجیہ سبھا) کی توثیق ضروری ہوتی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بل لوک سبھا سے منظور ہونے پر ٹوئٹ میں کہا ہے کہ 'شہریت سے متعلق بل بھارت کی صدیوں پرانی خواہش کا امتزاج ہے جو انسانیت پسندی کا جزو ہے'۔
تاہم مسلم تنظیموں، انسانی حقوق گروہوں اور دیگر لوگوں کے نزدیک یہ بل نریندر مودی کی جانب سے بھارت کے 20 کروڑمسلمان کو پسماندہ کرنے کا حصہ ہے۔