عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی الحاق کے خلاف اقدامات کرے: وزیراعظم
- منگل 10 / دسمبر / 2019
- 4810
وزیراعظم عمران خان نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کہا ہے کہ عالمی برادری بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے غیرقانونی الحاق کے خلاف اقدامات کرے۔
ایک ٹوئٹ پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن پر مسلمانوں کو سب کے لیے مساوات، انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کا پیغام یاد کرنے کی ضرورت ہے جو نبی کریم ﷺ نے 14 سو برس سے زائد پہلے ہمارے دیا تھا اور اسی نے انسانی حقوق اور انسانی عظمت کے احترام کے اصولوں کی بنیاد رکھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ نبی کریمﷺ کی تعلیمات، خاص طور پر ان کے آخری خطبے سے اور ہمارے آئین میں شامل ذمہ داریوں سے متاثر ہوکر میری حکومت بلا تفریق تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ ایک اور ٹوئٹ میں وزیراعظم نے لکھا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن پر ہمیں عالمی برداری، عالمی قوانین کی عملداری یقینی بنانے والے اداروں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کرنی چاہیے کہ وہ قابض بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے غیرقانونی الحاق کے خلاف اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں چار ماہ سے جاری محاصرے کی مذمت کرتے ہیں اور بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیری مردوں، عورتوں اور بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔
ٹوئٹ میں وزیراعظم کا کہنا تھا ہم حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کرنے والے بہادر کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصٰ حیثیت ختم کردی تھی۔ اس اقدام سے ایک روز قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا جبکہ وہاں تمام مواصلاتی رابطے بھی منقطع کردیے گئے تھے۔7 اگست کو بھارتی لوک سبھا سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے ’جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل 2019‘ منظور کرلیا گیا تھا۔
31 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارتی حکومت کے 5 اگست کے احکامات پر عمل درآمد کا آغاز ہوا تھا۔ اس کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیر 2 وفاقی اکائیوں میں تبدیل ہوگیا۔ ان میں ایک جموں و کشمیر اور دوسرا بدھ مت اکثریتی لداخ کا علاقہ شامل ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر نے کے بعد مقبوضہ کشمیر اپنے پرچم اور آئین سے بھی محروم ہوگیا ہے۔
پاکستان نے 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ فوری طور پر مسترد کیا تھا۔