دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں حافظ سعید پر فرد جرم عائد

  • بدھ 11 / دسمبر / 2019
  • 4630

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور ان کے 4 ساتھیوں پر فرد جرم عائد کردی ہے۔

حافظ سعید اور ان کے دیگر ساتھیوں کو سخت سیکیورٹی حصار میں آج عدالت پہنچایا گیا اور سماعت کے دوران ان کے وکیل نے اپنے دلائل پیش کیے۔ الزامات عائد کیے جانے کے بعد عدالت نے مدعا علیہان کے گواہوں کو طلب کیا جس کے بعد مقدمے کی سماعت کرنے والی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج ملک ارشد بھُٹہ نے کل تک سماعت ملتوی کردی۔

دہشت گردوں کی مالی امداد کا یہ مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی نے درج کیا تھا اور ہفتے کو ایک مشتبہ ملزم کی عدم دستیابی کے سبب عدالت نے فرد جرم عائد نہیں کی تھی۔ جماعت الدعوۃ نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور پاکستان پر عالمی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا کہ انہیں کالعدم لشکر طیبہ کا رہنما بتا کر اس مقدمے میں شامل کیا گیا۔

ملزمان نے استدعا کی کہ وہ کالعدم لشکر طیبہ پر 2002 میں لگائی گئی پابندی سے قبل ہی اسے چھوڑ چکے تھے اور یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے جس کا ذکر اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے میں بھی موجود ہے۔1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے الزام میں 3جولائی کو جماعت الدعوۃ کے صف اول کے 13رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔