آصف زرداری کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کرلی گئی

  • بدھ 11 / دسمبر / 2019
  • 4310

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کرلی ہے۔

وفاقی دارالحکومت کی عدالت عالیہ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس عامر فاروق پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی۔ آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران آصف زرداری کے وکیل کے علاوہ ان کے صاحبزادے اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔ عدالت میں سماعت کے آغاز پر پمز ہسپتال کی جانب سے آصف زرداری کی میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی، جس پر عدالت نے پوچھا کہ کیا نیب نے رپورٹ دیکھ لی ہے۔

چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر کو میڈیکل رپورٹ اونچی آواز میں پڑھنے کی ہدایت کی۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے سابق صدر آصف علی زرداری کی میڈیکل رپورٹ پڑھنا شروع کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ میڈیکل بورڈ نے آصف علی زرداری کا تفصیلی معائنہ کیا۔ میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا کہ آصف زرداری مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور انہیں دل کا عارضہ بھی ہے۔ ملزم طویل عرصہ سے شوگر کا مریض ہے جبکہ ان کے 3 اسٹنٹ بھی پڑے ہوئے ہیں۔

میڈیکل رپورٹ کے مطابق آصف زرداری ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریض ہیں۔ ان کو دل کا عارضہ بھی لاحق ہے جبکہ انہیں انجیوگرافی کی ضرورت ہے۔ عدالت کو پیش کردہ میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا کہ آصف زرداری کے اسٹنٹ ڈالنے کے دوران انجیوپلاسٹی کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے اور جیل میں رہتے ہوئے ان کا علاج ممکن نہیں ہے۔ طبی رپورٹ میں بتایا گیا کہ آصف زرداری کا جیل میں رہنا ان کی جان کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے۔ اس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سابق صدر ہسپتال میں ہی زیرعلاج ہیں۔ ان کے معاملے میں تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور ریفرنس بھی دائر کیا جاچکا ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا اس رپورٹ کے بعد ملزم کو اسی ہسپتال میں رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی عدالت نے پوچھا کہ کیا سابق صدر اپنی مرضی کے معالج سے علاج کرا رہے ہیں، کیا نیب چاہتا ہے کہ آصف زردای کو قید کر کے قومی خزانے سے علاج جاری رکھا جائے؟ اس پر نیب پراسیکیوٹر کوئی جواب نہیں دے سکے۔

عدالت نے پاک لین اور میگا منی لانڈرنگ ریفرنس میں آصف زرداری کی ضمانت کو منظور کرتے ہوئے ایک، ایک کروڑ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ فریال تالپور کی درخواست پر نیب کا جواب نہ آنے پر معاملے کو 17 دسمبر تک ملتوی کردیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی ضمانت بعد از گرفتاری کے معاملے پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی سربراہی میں میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیا تھا۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کو 10 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نے گرفتار کیا تھا۔