جنید حفیظ کیس میں قانونی نکتہ پر اختلاف کے بعد سماعت ملتوی
- جمعرات 12 / دسمبر / 2019
- 12050
توہین مذہب کے الزام میں گرفتار بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے سابق لیکچرار جنید حفیظ کے خلاف کیس کی سماعت ایک بار پھر 16 دسمبر تک ملتوی ہو گئی ہے۔
جمعرات کو ملتان کی نیو سینٹرل جیل میں جاری سماعت میں اس قانونی نکتے پر طویل بحث ہوئی کہ دفعہ 342 کے تحت جنید حفیظ کے بیان کے بعد اب اس کیس پر حتمی دلائل پہلے کون دے گا۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل چوہدری ضیا نے عدالت سے درخواست کی کہ اس کیس پر پہلے وکیل دفاع یعنی جنید حفیظ کے وکیل اپنی بحث مکمل کر لیں۔
جنید حفیظ کے وکیل کا موقف تھا کہ قانونی طور پر پہلے استغاثہ کے وکلا دلائل دیں۔ لیکن پراسیکیوشن کے وکیل چوہدری ضیا نے عدالت سے درخواست کی کہ اس کیس میں پہلے حتمی دلائل وکیل دفاع کو دینے چاہئیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیے کہ پہلے وکیل دفاع ہی اپنے دلائل مکمل کریں۔ جس کے بعد کیس کی سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔
جنید حفیظ کے وکیل اسد جمال کا کہنا ہے کہ ہم عدالت کے اس فیصلے کو ممکنہ طور پر چیلنج کر سکتے ہیں۔ جنید حفیظ کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’یہ بات قانونی طور پر درست نہیں کہ ہمیں کہا جائے کہ پہلے وکیل صفائی حتمی دلائل دے۔ ہم ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو اعلٰی عدلیہ میں چیلنج کر سکتے ہیں‘۔ اس کیس میں 15 گواہوں کی شہادتیں اور دفعہ 342 کے تحت جنید حفیظ کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔
مارچ 2013 میں جنيد حفيظ کو توہينِ مذہب کے الزام ميں لاہور سے گرفتار کيا گيا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز پوسٹ کی تھی۔ جنید حفیظ پر ملتان میں توہینِ مذہب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جنيد حفيظ کے وکيل اسد جمال کے مطابق ان کے موکل پر توہين مذہب کا الزام لگانا ان کے خلاف سازش تھی۔ ان کے بقول ایف آئی آر میں جنید حفیظ پر یہ الزام ہے کہ کسی اور کی جانب سے لگائی گئی پوسٹ کو انہوں نے اپنی پروفائل سے حذف نہیں کیا تھا۔
جنید حفیظ کا کیس لڑنے پر ان کے وکلا کو ہراساں کیے جانے کی شکایات بھی منظرِ عام پر آتی رہی ہیں۔ جنید حفیظ کے ایک وکیل راشد رحمان کو مئی 2014 میں نامعلوم افراد نے ان کے دفتر میں گھس کر قتل کر دیا تھا۔ جنید حفیظ کے والد حفیظ النصیر نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے نام خط میں جنید کی رہائی کی اپیل کی تھی۔ امریکی حکام بھی جنید حفیظ کی رہائی کے لیے پاکستان پر زور دیتے رہے ہیں۔
راشد رحمان کو سات مئی 2014 کو ملتان میں ہلاک کیا گیا تھا۔ اسد جمال ایڈوکیٹ کے مطابق وہ اس مقدمے میں تیسرے وکیل ہیں کیونکہ بقول اُن کے راشد رحمان کے بعد اس مقدمے کی پیروی کرنے والا دوسرا وکیل مقدمے سے دستبردار ہو گیا تھا۔ اسد جمال نے بتایا کہ استغاثہ کے تمام گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں جبکہ جیند حیفظ بھی بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں۔ان کے مطابق استغاثہ کی جانب سے 26 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کروائے جانے تھے لیکن صرف 15 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہو سکے ہیں۔
یاد رہے اپریل 2014 میں سکیورٹی خدشات کی بنا پر جنید حفیظ کے خلاف مقدمے میں ملتان سینٹرل جیل میں سماعت کے موقع پر ملزم کے وکیل راشد رحمان اور اللہ داد مقدے کی سماعت کے دوران جج کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ جب وہ ملزم کی بریت کے لیے دلائل دے رہے تو تین افراد نے جج کی موجودگی میں راشد رحمان ایڈوکیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ اگلی مرتبہ عدالت نہیں آ سکیں گے کیونکہ آپ اب مز ید زندہ نہیں سکیں گے۔‘
ایڈوکیٹ رحمان نے جج کی توجہ دھمکی کی جانب دلائی تاہم اطلاعات کے مطابق جج صاحب نے مبینہ طور خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اس کے اگلے ہی ماہ سات مئی 2014 کو انہیں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ وکیل راشد رحمان کے قتل کے دو ماہ بعد 11جولائی 2014 کو مقدمے کی پہلی سماعت ایڈیشنل سیشن جج شہباز علی پراچہ کی غیر حاضری کی وجہ سے ملتوی ہو گئی تھی۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے جنید کا مقدمہ لڑنے کے لیے آٹھ وکلا کی ٹیم تشکیل دی تھی۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے وکیل راشد رحمان کے قتل کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکار کا بھی اس واقعے کے چند ہفتے بعد تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ بعض وکلا کے بقول اس تبادلے نے تحقیقات کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
دسمبر 2014 میں جنید حفیظ کے وکیل شہباز گرمانی کے مطابق انہیں ہراساں کرنے کے لیے نہ صرف ان کے گھر کے قریب ہوائی فائرنگ کی گئی بلکہ انہیں دھمکی آمیز خط بھی موصول ہوا تھا۔ جس میں انہیں کہا گیا تھا کہ ’ان کے ساتھ بھی راشد رحمان والا سلوک کیا جائے گا۔ اگر تم نے توہینِ رسالت کے ملزم جنید کی وکالت کی یا اس طرح کا کوئی بھی مقدمہ لڑا تو تمہارا سر قلم کر دیں گے‘۔
جنید حفیظ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر تھے۔ جنید آٹھویں جماعت کے بعد سے ہمیشہ اول پوزیشن لیتے آئے ہیں اور پی ایچ ڈی کے لیے اُس برس ان کا امریکہ پھر جانے کا ارادہ تھا۔ وہ پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی ہیں۔