امراض قلب کے ہسپتال پر دھاوا کے 250 وکلا کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات

  • جمعرات 12 / دسمبر / 2019
  • 4800

لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مبینہ طور پر ڈاکٹروں اور عملے کو تشدد کا نشانہ بنانے، ہسپتال کی املاک اور پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے پر 250 سے زائد وکلا کے خلاف 2 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔

پولیس دستاویز کے مطابق گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کے تناظر میں 52 وکلا کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز وکلا نے چند ہفتے قبل پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مار پیٹ کا شکار ہونے والے وکلا کے ایک گروہ کا بدلہ لینے کے کے لئےپی آئی سی میں پرتشدد مظاہرہ کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں کچھ ڈاکٹروں کو اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جس میں مبینہ طور پر وکلا کا 'مذاق' اڑایا گیا تھا۔ لاہور کے ہسپتال پر دھاوا بولنے والوں میں اکثر سیاہ لباس اور ٹائی میں ملبوس نوجوان تھے جنہوں نے ہسپتال کی حدود میں کسی شخص کو نہیں بخشا۔

صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب مشتعل گروہ نے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ پر کچھ ڈاکٹروں کو تلاش کرتے ہوئے دھاوا بولا تھا جبکہ خطرے کے پیشِ نظر ڈاکٹرز فرار ہوگئے۔ ڈاکٹروں کی غیر موجودگی میں کچھ مریضوں کی حالت بگڑنے پر ایک لڑکی اور عمر رسیدہ خاتون سمیت پی آئی سی کے 3 مریض جاں بحق ہوگئے تھے۔

گزشتہ روز پہلی ایف آئی آر پی آئی سی کی شکایت پر شادمان پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی جس میں لاہور بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ملک مسعود کھوکر، لاہور بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر اعجاز بسرا اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدارتی امیدوار رانا انتظار کو وکلا کی قیادت کرنے، انہیں اشتعال دلانے اور ہدایات دینے پر نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق کئی گروہوں میں تقسیم وکلا انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو)، آپریشن تھیٹر اور ریڈیالوجی سمیت پی آئی سی کے مختلف ڈپارٹمنٹس میں داخل ہوئے تھے جہاں انہوں نے سیکیورٹی گارڈز، طبے عملے اور ڈاکٹروں کو زد و کوب کیا۔ وکلا نے ہسپتال کے قیمتی آلات بھی توڑے جس سے ہسپتال میں زیرِ علاج مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ میں خوف و ہراس پیدا ہوا۔

ہسپتال میں تباہی کے نتیجے میں مریضوں کو دی جانے والی طبی سہولیات معطل ہوگئیں جو 3 مریضوں کی اموات کا باعث بنی۔ پارکنگ لاٹ میں موجود ڈاکٹروں کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق وکلا کی جانب سے ہسپتال میں تعینات 2 سیکیورٹی گارڈز کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جنہیں تشویشناک حالت میں علاج کے لیے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس نے دوسری ابتدائی معلوماتی رپورٹ (ایف آئی آر) بھی درج کی ہے جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔  شکایت کنندہ انسپکٹر سید انتخاب حسین کے مطابق پستول اور ڈنڈوں سے لیس وکلا ان کی پولیس گاڑی کے پاس آئے اور انہیں جان سے مار دینے کی نیت سے ان پر فائرنگ کی۔

امراض قلب ہسپتال میں صفائی کا کام جاری ہے جبکہ مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ گزشتہ روز گرینڈ ہیلتھ الائنس نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا اور 24 گھنٹے میں پارلیمنٹ میں سیکیورٹی بل آرڈیننس پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔  انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیر قانون پنجاب راجا بشارت اور صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد مستعفی ہوں۔

پی آئی سی کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یاسمین راشد نے کہا کہ انہوں نے ڈاکٹروں سے اظہار یکجہتی کے لیے ہسپتال کا دورہ کیا تھا۔  یاسمین راشد نے کہا کہ حکومت تمام ذمہ داران کو سزا دلوانے کی یقینی کوشش کرے گی۔  دوسری جانب میو ہسپتال کے عملے نے مذکورہ واقعے کے خلاف واک کا انعقاد کیا۔

وکلا کی جانب سے گزشتہ روز حملے میں ملوث افراد کی حمایت میں ہڑتال کی گئی اور گرفتار وکیلوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔  پنجاب بار کونسل کے مطابق وکلا آج (12 دسمبر کو) عدالتوں میں موجود نہیں ہوں گے۔ وکلا کی گرفتاری کے خلاف لائرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا تھا، جس کے اراکین لاہور ہائی کورٹ چیف جسٹس کے لیے نامزد مامون رشید شیخ سے بھی ملاقات کریں گے۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب چند روز قبل کچھ وکلا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی میں ایک وکیل کی والدہ کے ٹیسٹ کے لیے گئے۔ وہاں مبینہ طور پر قطار میں کھڑے ہونے پر وکلا نے اعتراض کیا۔ اسی دوران وکلا اور ہسپتال کے عملے کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا اور مبینہ طور پر وہاں موجود وکلا پر تشدد کیا گیا۔

مذکورہ واقعے کے بعد دونوں فریقین یعنی وکلا اور ڈاکٹرز کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور ایک دوسرے پر مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد ازاں ڈاکٹرز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مقدمے کے اندراج کے بعد وکلا کی جانب سے کہا گیا کہ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کریں، ابتدا میں ان دفعات کو شامل کیا گیا بعد ازاں انہیں ختم کردیا گیا تھا۔

ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں مذکورہ واقعے پر معافی مانگ لی گئی اور معاملہ تھم گیا۔ تاہم گزشتہ روز ینگ ڈاکٹرز کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک ڈاکٹر کو اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس میں مبینہ طور پر وکلا کا 'مذاق' اڑایا گیا تھا، جس پر وکلا نے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر کے خلاف مہم شروع کردی۔