سابق صدر آصف علی زرداری رہا ہوگئے
- جمعرات 12 / دسمبر / 2019
- 4360
احتساب عدالت سے پاکستان پیپلزپارٹی ( کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی رہائی کی روبکار جاری ہونے کے بعد انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) سے رہا کردیا گیا۔
سب جیل قرار دیے گئے پمز ہسپتال سے آصف زرداری کی رہائی کے موقع پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ان کی بہن آصفہ بھٹو بھی موجود تھی جبکہ جیالوں کی بڑی تعداد بھی وہاں پہنچی تھی۔ پمز ہسپتال سے روانگی کے بعد زرداری ہاؤس اسلام آباد پہنچے، جہاں کارکنان کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ آصف زرداری آج رات زرداری ہاؤس میں قیام کریں گے، وہ کل کراچی جائیں گے۔
آصف زرداری کی رہائی کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی رہائی کو جمہوریت کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں جیالوں کو مبارکباد دیتی ہوں جنہوں نے 4 ماہ کی طویل حق و سچ کی جدوجہد کی۔ اور باہمت طریقے سے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس مقدمے کا مقابلہ کیا۔ اس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔
وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں آصف زرداری کے رب نواز اور سردار توقیر نے آصف زرداری کے ضمانتی مچلکے رجسٹرار احتساب عدالت کو پیش کیے۔ جس کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے آصف زرداری کی رہائی کی روبکار سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے نام پر جاری کی۔
سابق صدر آصف علی زرداری طبیعت کی ناسازی کے باعث پاکستان انسٹی ٹیوٹ میڈیکل سائنسز (پمز) میں زیر علاج تھے۔ 11 دسمبر 2019 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کرلی تھی۔
عدالت عالیہ نے اپنے 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ آصف زرداری پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں لیکن الزامات جب تک ثابت نہیں ہوتے آصف زرداری معصوم اور بے گناہ ہیں۔ لہٰذا انہیں ایک، ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض طبی بنیادوں پر ضمانت دی جارہی ہے۔
گزشتہ دنوں عدالت عالیہ میں سابق صدر کی جانب سے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے توسط سے عدالت میں جعلی اکاؤنٹس اور پارک لین کیسز میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی۔ آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر افراد جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کرپشن اور پارک لین پرائیویٹ لمیٹڈ اور پارتھینن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے لیے مالی معاونت میں غبن کے الزمات کا سامنا کررہے ہیں۔
نیب کی جانب سے الزام ہے کہ ان بے ضابطگیوں کی وجہ سے 3 ارب 77 کروڑ روپے کا قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کو 10 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ابتدائی طور پر ان کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا تھا۔