اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں طلبا گروپوں میں تصادم، ایک طالبعلم جاں بحق، درجنوں زخمی

  • جمعہ 13 / دسمبر / 2019
  • 6370

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں دو طلبا تنظیموں کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں ایک طالبعلم جاں بحق جب کہ دو درجن سے زائد طلبا زخمی ہو گئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے ایک طالبعلم کے ہلاک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ نے یونیورسٹی کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی ہے جب کے صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے رینجرز کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے جمعہ یونیورسٹی کو بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایک ترجمان کی جانب سے فراہم کی گئی اطلاعات کے مطابق ہسپتال میں 29 زخمی طلبا کو لایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک طالبعلم، جس کی بعد میں شناخت طفیل الرحمان خان کی نام ہوئی ہے، مردہ حالت میں ہسپتال میں لائے گئے تھے جن کا پوسٹ مارٹم پولیس کی موجودگی میں رات گئے کیا گیا۔

اسلامی جمعیت طلبا کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والے طالبعلم طفیل کا تعلق ان کی تنظیم سے ہے۔ جمعیت کے کارکنان کی جانب سے سوشل میڈیا پر ہلاک ہونے والے طالبعلم کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں۔ ترجمان اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان راجہ عمیر کے مطابق طفیل کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا اور وہ یونیورسٹی میں معاشیات کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

پمز ترجمان کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کا سلسلہ جمعرات کی رات آٹھ بج کر 20 منٹ پر شروع ہوا۔ معمولی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتال سے روانہ کر دیا گیا ہے جبکہ دو طلبا کی حالت نازک ہے۔

جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد کے سیکریٹری اطلاعات سجاد عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں گذشتہ تین روز سے ایجوکیشنل ایکسپو جاری تھی جس کا انعقاد جمعیت کے کارکنان کی جانب سے کیا گیا تھا۔ ایکسپو کا افتتاح منگل کے روز امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کیا تھا اور جمعرات کو اس کا آخری روز تھا۔ واقعہ عشا کی نماز کے اوقات میں اس وقت پیش آیا جب جمعیت کے سابق اراکین اور عہدیدارن کی ایک نشست جاری تھی۔

طلبا میں تصادم کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سماجی کارکنان، طلبا اور دیگر افراد نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔