وکلا کی ملک گیر ہڑتال، گرفتار وکیلوں کی رہائی کا مطالبہ
- جمعہ 13 / دسمبر / 2019
- 4540
لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے میں ملوث ہونے پر گرفتار وکلا پر مقدمات درج ہونے کے خلاف لیگل باڈیز کی کال پر ملک بھر میں وکلا احتجاج کررہے ہیں۔
ملک بھر کی لیگل باڈیز کی جانب سے گرفتار کیے گئے وکلا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ پاکستان بار کونسل کی جانب سے ہڑتال کی کال پر ملک بھر میں وکلا احتجاج کررہے ہیں۔ گزشتہ روز پاکستان بار کونسل سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ احتجاج مقامی پولیس اور وکلا کے خلاف لاہور انتظامیہ کے جزوی اور متعصبانہ سلوک کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل کے خلاف کارروائی کے خلاف ہے۔
اس معاملے پر تشکیل دی گئی لائرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ زیرِ حراست وکلا کو پولیس کی جانب سے تشدد کیا جارہا ہے۔ وکلا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
پی آئی سی پر حملے کے بعد پولیس نے 81 وکلا کو گرفتار کیا تھا۔ گزشتہ روز لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 46 وکلا کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا تھا۔ عدالت نے الزامات کی تحقیقات کے لیے ان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی تھی۔ شادمان پولیس نے 200 سے 250 وکلا کے خلاف کے 2 ایف آئی آرز درج کی تھیں جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ نمبر 7 شامل ہے۔
پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین امجد شاہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ مقامی انتظامیہ نے ایف آئی آرز درج کرنے کے علاوہ ایڈووکیٹس کی بڑی تعداد کو گرفتار کیا۔ یہاں تک کہ انہیں بھی گرفتار کیا جو جائے حادثہ پر موجود نہیں تھے
اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے نئے ججز کی تقریب حلف برداری کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری محمد عمیر بلوچ کو عدالت میں پیشہ ورانہ رویہ اختیار نہ کرنے اور توہین کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے میر بلوچ کا ہائی کورٹ کی حد تک وکالت کا لائسنس بھی 19 دسمبر کو ہونے والی سماعت تک معطل کردیا تھا۔
وکلا نے ملک بھر میں احتجاج کیا ہے۔ احتجاج کرنے والے وکلا نے ڈاکٹروں اور میڈیا کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ پاکستان بار کونسل کے علاوہ بلوچستان بار ہائی کونسل اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز نے بھی احتجاج کی کال دی ہے جس کے نتیجے میں بلوچستان بھر کی عدالتوں میں وکلا احتجاج کررہے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، کراچی بار ایسوسی ایشن اور ملیر بار ایسوسی ایشن نے پاکستان بار کونسل کی ہڑتال کی حمایت کی۔ کراچی میں سندھ ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور دیگر عدالتوں میں وکلا نے عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا۔ سندھ ہائی کورٹ کے مرکزی دروازے پر وکلا کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں کے پی بار کونسل کی جانب سے لگاتار پانچویں روز احتجاج جاری ہے۔ گزشتہ 3 روز سے وکلا ایںٹی نارکوٹکس قانون کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ گزشتہ روز وکلا نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مقامی رہنما اور سوات میں وکیل ایڈووکیٹ فیروز شاہ کے قتل کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
تاہم پاکستان بار کونسل کی کال پر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے کے بعد وکلا کی گرفتاریوں پر احتجاج کررہے ہیں۔