برطانیہ میں کنزرویٹوز پارٹی نے انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کرلی
- جمعہ 13 / دسمبر / 2019
- 5290
برطانیہ کے عام انتخابات میں حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی پارلیمان کی 650 میں سے 326 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگئی جبکہ مزید نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ برطانوی عوام نے کنزرویٹو جماعت کی حکومت کو بریگزٹ اور ملک کو متحد کرنے کے لیے نیا اور طاقتور مینڈیٹ دیا ہے۔ ایگزٹ پول اور ابتدائی نتائج یہ بات ظاہر کررہے تھےکہ کنزرویٹو پارٹی جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کرلے گی۔ برطانوی پارلیمان کی 650 نشستوں میں سے قدامت پسند جماعت کے 368 نشستیں جیتنے کی پیش گوئی کی گئی تھی جو اس جماعت کی 3 دہائیوں میں سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
اب تک کے سامنے آنے والے نتائج میں 650 میں سے 600 نشستوں کا نتیجہ سامنے آچکا ہے جس میں کنزرویٹوز نے 326 نشستیں حاصل کرلیں۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں 5 سال سے کم عرصے میں یہ تیسرے عام انتخابات ہیں جو 100 برس میں پہلی مرتبہ دسمبر میں ہوئے۔
انتخابی مہم کے دوران بورس جانسن کی مہم میں واضح پیغام دیا گیا وہ بریگزٹ کے عمل کو مکمل کریں گے جبکہ لیبر پارٹی نے پبلک سروس اور نیشنل ہیلتھ سروس پر اضافی رقم خرچ کرنے کے وعدے پر اپنی مہم مرکوز رکھی۔ اس کامیابی کے بعد کنزرویٹو پارٹی کے بورس جانسن مارگریٹ تھیچر کے بعد سب سے بڑی انتخابی کامیابی حاصل کرنے والے رہنما بن گئے۔
حالیہ انتخابات میں 1987 میں مارگریٹ تھیچر کے دور کے بعد کنزرویٹو کو پہلی بار اتنی بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ لیبر پارٹی کو 1935 کے بعد کم ترین تعداد میں نشستیں ملی ہیں۔
انتخابات سے قبل 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ نے کہا تھا کہ اگر بورس جانسن وزیراعظم کے دفتر میں واپس آئے تو کابینہ میں معمولی رد و بدل کیا جائے گا۔ یورپی یونین سے اخراج کے معاہدہ کے بل پر دوسری بحث 20 دسمبر کو ہوگی جس کے ذریعے31 جنوری کو بریگزٹ کا عمل مکمل ہوجائے گا۔
لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن کے لیے یہ انتخابات تباہ کن ثابت ہوئے جن سے نتائج مکمل ہونے سے قبل ہی استعفیٰ کا مطالبہ کیا جانے لگا ہے۔ جرمی کوربن کا کہنا تھا کہ انتخابی نتائج ان کی جماعت کے لیے انتہائی مایوس کن ہیں اور وہ آئندہ انتخابات میں لیبر پارٹی کی سربراہی نہیں کریں گے۔
بریگزٹ مخالف جماعت لبرل ڈیموکریٹس کو بھی مایوس کا سامنا کرنا پڑا جس کے بارے میں 13 نشستیں حاصل کرنے میں کامیابی کی پیش گوئی کی جارہی تھی جبکہ 2 سال قبل ہونے والے انتخابات میں اس جماعت نے 12 نشستیں حاصل کی تھیں۔
حالیہ انتخابات میں بریگزٹ مخالف 2 جماعتوں کے سربراہان کو بھی شکست ہوئی جن میں لبرل ڈیموکریٹس کی سربراہ جو سونسن اور شمالی آئرلینڈ کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ نیگل ڈوڈس بھی اپنی نشست سے محروم ہوگئے۔
پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کے بھائی زیک گولڈ اسمتھ منتخب ہونے میں ناکام رہے۔ ۔
انتخابی نتائج کے بعد پاؤنڈز کی قدر ڈالر کی قدر کے مقابلے میں 2 فیصد بڑھ گئی ہے جو گزشتہ ڈیڑھ سال میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ خیال رہے کہ برطانیہ میں 2016 میں یورپی یونین سے اخراج کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کے بعد سے سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں میں غیر یقینی کیفیت پائی جاتی ہے جنہیں کنزرویٹوز کی کامیابی سے یقین ہے کہ بریگزٹ کا عمل جلد مکمل ہوجائے گا۔