حکومت میڈیا کے مسائل حل کرے گی: فردوس عاشق اعوان

  • جمعہ 13 / دسمبر / 2019
  • 4040

حکومت نے میڈیا ہاؤسز میں کام کرنے والے افراد کی نوکریوں، تنخواہوں کے مسائل، اشتہارات کی مد میں حکومت کے ذمہ واجب الادا رقم اور کچھ صحافیوں کی جانب سے مبینہ طور پر مخصوص پروپیگنڈے جیسے مسائل کے تدارک کے لیے کمیٹی قائم کی ہے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے بتایا ہے کہ کمیٹی میں صحافتی تنظیموں کے عہدیداران، حکومتی اراکین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ میڈیا کے 85 فیصد اشتہارات نجی شعبے سے منسلک ہوتے ہیں لہذا نجی کاروباری شعبے میں مشکلات کا اثر میڈیا ہاؤس پر مرتب ہوتا ہے۔ اسی لئے کارکنان کی نوکریاں بھی ختم کی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان مسائل کا وزیراعظم نے نوٹس لیا  ہے اور میڈیا مالکان کے ساتھ براہِ راست گفتگو کی ہے تاکہ ورکرز کے روزگار کو یقینی بنایا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مسئلے کو ایک ہی مرتبہ بیٹھ کر حل کرلیا جائے۔

اطلاعات کی معاون خصوصی  نے کہا کہ  یہ اقدام ڈس انفارمیشن ختم کرنے اور ایک مخصوص سوچ کے حامل لوگوں کی جانب سے صحافتی آزادی کی آڑ میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کا تدارک کرے گا۔  وزیراعظم نے ورکرز کے مسائل، میڈیا مالکان کے ایشوز اور اس صنعت کو درپیش مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کی سربراہی وزیراعظم خود کریں گے جبکہ فردوس عاشق اعوان کووآرڈینیٹر ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی میں فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر، آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی کے صدر، پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین، سی پی این ای کے نمائندے اور پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کے صدر اور میڈیا کے ساتھ منسلک دیگر اسٹیک ہولڈرز کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اس کمیٹی کے ذریعے حکومت میڈیا ورکرز اور مالکان کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ میڈیا ہاؤسز کے اشتہارات کی مد میں حکومتی واجبات کا مسئلہ حل کیا جائے گا۔ جن میڈیا ہاؤسز مالکان کے ذمہ ان کے کارکنان کی تنخواہیں واجب الادا اور ان کی نوکریوں سے منسلک دیگر مسائل ہیں ان کا تدارک کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی سال 2020 میں میڈیا مالکان اور کارکنان کے مابین پائی جانے والی وسیع خلیج کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اور صحافی برداری کے درمیان دوستانہ روابط قائم ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی دباؤ سے آزاد اس فورم پر ان افراد کو بھی بلایا جائے گا جو آزادی اظہار پر قدغن کی بات کرتے ہیں اور ان کی بات اور تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے گا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ میں کمیٹی سے درخواست کروں گی کہ جو صحافی آزادی صحافت کے نام پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں انہیں بلایا جائے اور پوچھا جائے کہ آزادی صحافت سے ان کی کیا مراد ہے۔ اگر انہیں واقعی آزادی چاہئے تو مقبوضہ کشمیر کے حالات دکھائے جائیں۔

فردوس عاشق اعوان کے مطابق کچھ صحافی ہر بات کو ایک مخصوص نقطہ نظر سے پیش کرتے ہیں لہٰذا وہ صحافی جو اپنے ذاتی حصار میں بیٹھ کر میڈیا کی آزادی کے گرویدہ ہیں انہیں ہم بلا کر ان سے گلے شکوے دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔