پاکستان میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ضم کرنے کی لابنگ
- تحریر اطہر مسعود وانی
- جمعہ 13 / دسمبر / 2019
- 11020
آزاد کشمیر میں اس بات کا خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ انڈیا کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو مدغم کرنے کے جارحانہ اقدام کے بعد آزاد کشمیر کے خطے کو ملحقہ پاکستانی علاقوں میں مدغم کیا جا سکتا ہے۔
اس خطرے کا اظہار عوامی سطح پر ہی نہیں بلکہ حکومتی سطح سے بھی اسی طرح کے خطرات ظاہر ہو رہے ہیں۔وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے آزاد کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے حلف کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ مجھے کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ آخری وزیراعظم ہو۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ تحریک آزاد ی کشمیر کی کامیابی اور تقسیم کشمیر کی سازش کوناکام بنانے کے لئے بھرپور کردار ادا کرے۔کچھ لوگ اس حوالے سے میری باتوں پر اپنے سیاسی مفادات کے لئے تاک لگائے بیٹھے ہیں۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام عالم کو ہندوستانی مظالم سے آگاہ کرنے اور کشمیر کی آواز بین الاقوامی سطح تک پہنچانے کے لئے آزاد کشمیر حکومت اور حریت کانفرنس کو کردار تفویض کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ ختم نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ ہمارا تعلق ریاست پاکستان سے ہے،ہم وفاقی اکائی نہیں ہیں۔
وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ہم آزاد کشمیر میں 12ویں اور 13ویں آئینی ترامیم لائے جس سے آزاد کشمیر کے کئی دہائیوں سے زیر التوا آئینی مسائل کو حل کیا گیا۔13ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آزاد کشمیر اسمبلی کو با اختیار بنایا اور مالیاتی مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے۔وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ آزادکشمیر کی عزت و وقار پر نہ حرف پہلے آنے دی نہ آئندہ آنے دوں گا۔
پاکستان کے سابق آمر حکمران جنرل ضیاء الحق کے دور میں وفاقی حکومت کی سطح پر آزاد کشمیر کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے امکانات پر غور کے دوران اس بات کا جائزہ بھی لیا گیا تھا کہ آزاد کشمیر کو پاکستان کے ملحقہ علاقوں کے ساتھ ملا دیا جائے۔ اس حوالے سے ایک دلیل یہ بھی دی گئی کہ مظفر آباد کا کلچر،قبیلے وغیرہ پاکستانی علاقے ہزارہ کے مماثل ہیں اور اسی طرح باغ وغیرہ مری اور میرپور جہلم و گجرات کے ساتھ ملتے ہیں۔آج تین عشرے گزرنے کے بعد ایک بار پھر اسی طرح کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں۔
اس سے پہلے سوشل میڈیا پہ اس حوالے سے ایک مہم بھی دیکھنے میں آئی جس میں کہا گیا تھا کہ آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع کو ملحقہ پاکستانی علاقوں کے اضلاع میں مدغم کیا جائے گا۔دریں اثناء وفاقی حکومت آزاد کشمیر حکومت کی13ویں ترامیم کے بعض نکات سے خوش نہیں ہے اور اس میں کئی تبدیلیاں چاہتی ہے۔اس کے لئے وفاقی حکومت آزاد کشمیر کے آئین میں 14ویں آئینی ترامیم کی کوشش کر رہی ہے۔14ویں ترمیم کے حوالے سے وفاقی حکومت کے پانچ چھ اعلی سطحی اجلاس بھی ہو چکے ہیں۔
گزشتہ دنوں ہی پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سے صحافی رانا مبشرکا پروگرام نشر کیا گیا جس میں انہوں نے پروگرام کے شرکاء مسلم لیگ (ن) کے رہنماریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرل عبدالقیوم خان،پیپلز پارٹی کے چودھری منظور احمد،ریٹائرڈایئر وائس مارشل شہزاد چودھری اور ایک پاکستانی تھنک ٹینک کی نمائندہ ڈاکٹر طلعت فاروق سے خاص طور پر یہ سوال دریافت کیا کہ کیا پاکستان کے مفاد میں یہ بات ہے، کیا ہمیں یہ سوٹ کرتا ہے یا نہیں ہے کہ آزاد جموں و کشمیر،گلگت بلتستان کو بھی آئینی ترامیم کر کے پاکستان کے ساتھ ضم کر لیں،جیسا کہ انڈیا نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیا ہے۔ اگر یہ ہمیں سوٹ نہیں کرتا تو اس کی وجوہات ہیں،جنہیں جاننا اور ان پر بات کرنا ضروری ہے۔اگر اسی قسم کو کئی ’سٹیپ‘ ہم لیں گے جیسے انڈیا نے انڈین مقبوضہ کشمیر کو آئینی ترامیم کے بعداپنے اندر مدغم کر لیا،اسی طرح اگر ہم گلگت بلتستان کو اور آزاد کشمیر کو اپنے اندر ضم کر لیں تواس میں ’ایل او سی‘ (لائین آف کنٹرول) لازمی طور پر مستقل لائن آف کنٹرول بن جائے گی۔اس کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے؟
لوگوں کے سیاسی اور مقامی جذبات ہیں،ان کے اثرات کیا ہوں گے؟
لداخ کی بات اس لئے نہیں کی کہ لداخ میں چین کی دلچسپی ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ چین لداخ کو کیسے ’ہینڈل‘ کرناچاہتا ہے؟لازمی طور پر انیس بیس کے فرق سے ہم چین کی پیروی کریں گے۔رانا مبشر نے اپنے پروگرام میں درج بالا جملے پانچ،چھ بار دہرائے کہ کیا پاکستان کو بھی انڈیا کے5اگست کے اقدام کی طرح آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنے اندر ضم کر لینا چاہئے۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اس تجویز کی مخالفت کی جبکہ ایک تھنک ٹینک کی نمائندہ ڈاکٹر طلعت فاروق نے آزاد کشمیر کے عوام کے رائے کی بات کی۔تاہم دفاعی تجزیہ نگار ریٹائرڈایئر وائس مارشل شہزاد چودھری نے گلگت بلتستان کوپاکستان میں ضم کرنے اور آزاد کشمیر کو موجودہ حالت میں برقرار رکھنے کی بات کی۔
اس پروگرام سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کے ارباب اختیار عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے حوالے سے ا س بات کو موضوع بنا رہے ہیں کہ انڈیا کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو اپنے اندر ضم کرنے کے آئینی اقدام کے بعد پاکستان بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان آئینی ترامیم کے ذریعے اپنے اندر ضم کر لے۔اس طرح کی بات کو موضوع بنانے سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ آئندہ اس بات پہ بھی رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے یہ موضوع بھی زیر بحث لایا جا سکتا ہے کہ کیا انڈیا سے لڑائی جھگڑے ختم کرنے کے لئے، یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ’اکھنڈبھارت‘قائم کر دیا جائے۔
یوں آزاد کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی یہ تشویش بے جا نہیں ہے کہ مسئلہ کشمیر کو تقسیم کشمیر کی بنیاد پر حل کرنے کا فارمولہ عالمی سطح پر زیر کار ہے اور پاکستان کی انتظامیہ بھی اس میں ممد و معاون ہے۔اس تمام صورتحال سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے پاس کشمیر سے متعلق کوئی لائحہ عمل نہیں ہے، وہ خود عالمی طاقت کی ہدایات اور احکامات کے پابند ہیں۔پاکستان کے وسیع تر مفادات،سلامتی اور بقاء کے حوالے سے درپیش خطرات اس ضرورت میں مزید اضافہ کرتے ہیں کہ ملک میں حقیقی آئینی بالا دستی کو یقینی بنایا جائے اور ملکی پالیسیوں کے حوالے سے بھی پارلیمنٹ کی بالادستی قائم کی جائے۔ایسا نہ کرنے سے پاکستان اور کشمیر کے خلاف خطرناک عزائم کی راہ ہموار ہوتی ہے۔