بھارت کے نئے شہریت بل کا بائیکاٹ، احتجاج میں دو افراد ہلاک
- ہفتہ 14 / دسمبر / 2019
- 7080
بھارت کی چھ ریاستوں نے حکومت کی جانب سے منظور کیے متنازع شہریت بل پر عمل درآمد سے انکار کر دیا ہے۔ اس دوران اس متنازع شہریتی بل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں۔ احتجاج مین دو افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔
بھارت کی ریاستوں پنجاب، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، کیرالہ اور چھتیس گڑھ کے وزرائے اعلٰی نے اس متنازع بل پر عمل درآمد نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ متنازع بل کے خلاف بھارت کی مختلف ریاستوں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں انتظامیہ نے کرفیو لگا رکھا ہے۔ بھارت کی حکومت کی جانب سے متنازع شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے خلاف حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے نئی دہلی میں 'بھارت بچاؤ' ریلی کا اہتمام کیا ہے۔
ہفتے کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی، سابق وزیر اعظم، راہول گاندھی، پریانکا گاندھی سمیت دیگر رہنما خطاب کریں گے۔ بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شہریت ترمیمی بل کو بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور کرا لیا گیا تھا۔ جس کے بعد بھارت کے صدر نے بھی اس بل پر دستخط کر دیے تھے۔
اس بل کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہب کی بنیاد پر نشانہ بننے والے غیر مسلموں کو بھارت کی شہریت دی جا سکے گی۔ بھارت کی حزبِ اختلاف کی جماعتیں اس بل کو آئین سے متصادم قرار دے رہی ہیں۔ ہفتے کو ہونے والی ریلی کے حوالے سے کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ وہ بی جے پی کے آمرانہ طرز حکمرانی، معاشی بدحالی اور جمہوریت کے قتل کے خلاف جلسے سے خطاب کریں گے۔ راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کو 'آئی سی یو' میں ڈال دیا ہے۔
ریلی میں بڑی تعداد میں کارکنوں کو لانے کے لیے پنجاب، ہریانہ، اتر پردیشں اور دہلی کی تنظیموں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ بھارت کے مختلف شہروں سے آنے والے کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں کے استقبال کے لیے ریلوے اسٹیشنز اور ایئر پورٹس پر خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
جلسہ گاہ کے اطراف سونیا گاندھی، راہول گاندھی سمیت کانگریس رہنماؤں کی تصاویر آویزاں کی گئ ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی کانگریس کے رہنما ریلی میں شریک ہو رہے ہیں۔ متنازع بل کی منظوری کے خلاف بھارت میں بڑے پیمانے پر ہنگامے ہو ہیں۔ بھارت کی ریاست آسام میں مشتعل مظاہرین نے توڑ پھوڑ کے علاوہ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
امریکہ اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو وارننگ جاری کی ہے کہ وہ شمال مغربی بھارت میں جانے سے گریز کریں۔ جہاں احتجاج زور پکڑ رہا ہے۔ ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں پرتشدد مظاہروں کے دوران اب تک دو افراد ہلاک اور 26 زخمی ہو چکے ہیں۔ مغربی بنگال، کرناٹک، کیرالہ، گجرات اور دارالحکومت نئی دہلی میں بھی بل کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔
بھارت کی مسلمان تنظیموں نے بھی اس ترمیمی بل کی مذمت کرتے ہوئے اسے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندوتوا پالیسی کا تسلسل قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کی جانب سے ایک بیان میں بھارت کے شہریت کے ترمیمی آرڈیننس ایکٹ برائے 2019 پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اسے امتیازی قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کے دفتر نے کہا ہے کہ بھارت کے ترمیمی قانون سے، شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق انٹرنیشنل کنونشن اور نسلی امتياز کے خاتمے کے کنونشن کی نفی ہوتی ہے جس کا ایک ریاست کے طور پر بھارت رکن ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین نسلی اور مذہبی بنیادوں پر امتياز برتنے سے روکتے ہیں۔
انسانی حقوق کے دفتر نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ اس نئے قانون کا جائزہ لے گی اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اس قانون کا باریک بینی کے ساتھ بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق بھارتی ذمہ داریوں کا تقابل کرے گی۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق، جاپان کے وزیرِ اعظم شنزو ایبے نے بھارت میں پر تشدد احتجاج کے باعث دورہ بھارت منسوخ کر دیا ہے۔ جاپان آسام میں مختلف ترقیاتی منصوبوں میں معاونت کر رہا ہے۔ شنزو ایبے نے منی پور میں اس مقام کا بھی دورہ کرنا تھا جہاں جاپانی فوجی مدفون ہیں۔