وزیراعظم عمران خان کا ایک روزہ دورہ سعودی عرب
- ہفتہ 14 / دسمبر / 2019
- 4600
وزیراعظم عمران خان پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے ایک روزہ دورے سعودی عرب پہنچے ہیں۔
عمران خان اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں مدینہ منورہ پہنچے ہیں۔ وزیراعظم روضہ رسول ﷺ پر حاضری دیں گے اور نوافل کی ادائیگی کے بعد سرکاری مصروفیات کے لیے ریاض روانہ ہوں گے۔
سرکاری اعلان کے مطابق وزیراعظم سعودی قیادت سے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال میں حالیہ تبدیلیوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ وزیراعظم کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور وفود کے تبادلوں کا حصہ ہے، جس کے دوران وزیراعظم روضہ رسول ﷺ پر بھی حاضری دیں گے۔
اس دورے سے متعلق عرب ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت ملائیشیا میں 18 سے 20 دسمبر تک منعقد ہونے والے کوالالمپور سربراہی اجلاس میں پاکستان کی شرکت پر خوش نہیں ہے۔ اسی لئے عمران خان سعودی قیادت کو اعتماد میں لینے کے لئے سعودی عرب پہنچے ہیں۔
خیال رہے کہ کوالالمپور سربراہی اجلاس ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کی تجویز ہر منعقد ہورہا ہے۔ اس میں ترک صدر رجب طیب اردوان، قطری امیر شیخ تميم بن حمد آل ثانی اور ایران کے صدر حسن روحانی بھی شریک ہوں گے۔ انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو کے اجلاس میں شرکت کا بھی امکان تھا تاہم اطلاعات ہیں کہ وہ سعودی دباؤ کے باعث اب اپنا کوئی نمائندہ اجلاس میں بھیجیں گے۔
یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ملائیشیا کے اس اقدام سے کیا نتائج سامنے آئیں گے۔ تاہم سعودی حکام اسے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا متبادل سامنے لانے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم سعودی قیادت کے تحت کام کرتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان اس اجلاس میں گہری دلچسپی رکھتا ہے اور اس سلسلے میں وزارت خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’کوالالمپور سربراہی اجلاس مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز خاص طور پر حکمرانی، ترقی، دہشت گردی اور اسلاموفوبیا کے پر تبادلہ خیال کرنے اور ان کے حل تلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
اس معاملہ پر ریاض کی ناراضی دور کرنے کے لئے اس سے پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سعودی عرب کا دورہ کرچکے ہیں۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے دو طرفہ ایجنڈے پر تبادلہ خیال کے علاوہ خطے میں حالیہ پیش رفت اور بین الاقوامی امور پر بھی بات چیت کی تھی۔
وزیراعظم نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش بھی کی تھی۔ تاہم اس بارے میں ماضی کی طرح زیادہ کامیابی نہیں ہوئی تھی۔