الا ماشااللہ اور مارشل آرٹ
- تحریر سرور غزالی
- ہفتہ 14 / دسمبر / 2019
- 19800
سروتہ جیسا ایک اوزار ہوتا ہے اور اس کا ترجمہ اردو میں جرمن زبان سے کیا جائے تو 'اخروٹ توڑ' کہا جاسکتا ہے ۔
ویسے تو یورپین کسی ایسے پھل کو، جس کا اوپری خول سخت ہو اور جس کے اندر گودا ذائقہ دار ہو، اسے 'نٹ' کہتے ہیں۔ ایسے ہی جیسے ہمارے یہاں کے نٹ کھٹ جرنیل۔ آپ دیکھیں اوہر سے کتنے سخت دکھائی دیتے ہیں پر اندر سے کتنے معصوم، نرم خو اور انسانی ہمدردی کا نمونہ ہوتے ہیں۔
نمونہ بھی بڑا برا لفظ ہے۔ ذہن نمونیہ کی طرف چلا جاتا ہے۔ آپ جانتے ہیں نا یہ گردن توڑ دیتا ہے۔ تو خیر بات ہورہی تھی جرنیلوں کی، ہمارے پرانے دور کے، مطلب بہت پرانے دور کے بھی نہیں، ماضی قریب کے ایک جرنیل نے ملک کو، مارشل لاء میں یہ کہہ کر کہ یہ مارشل لاء نہیں اللہ کا لاء ہے، جکڑ دیا تھا۔ مولوی تو سارے فوراً ہی اللہ کے نام پر ساتھ ہوگئے۔۔۔۔۔مگر بہت سارے اعزازات پانے والے سیاست دان، دانشور، ادیب اور شاعر بھی ساتھ ساتھ چلنے لگے کہ ان سب کا بھی یہی خیال تھا کہ ملک چلانے کے لیےمارشل لاء تو ناکام ہوچکا ہے اس لیے اب مارشل اللہ لگا کر کام چلاتے ہیں۔
یہ اس 'نٹ' یعنی گودے دار پھل سے سب سے زیادہ مماثلت رکھنے والے جرنیل تھے۔ مگر اخروٹ توڑ تو بس چھوٹے چھوٹے 'نٹ' توڑنے کا اہل ہے۔ ناریل یعنی کوکونٹ اس 'اخروٹ توڑ' اوزار سے نہیں توڑا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس 'نٹ کریکر' کا ترجمہ اخروٹ توڑ کیا ہے۔ یعنی چھوٹے گودے دار پھل کو توڑنے کا اوزار۔ آپ کو پتہ ہے اخروٹ کی بناوٹ انسانی دماغ کی بناوٹ سے حیران کن حد تک مماثلت رکھتی ہے۔۔۔۔۔اگر جب انسانی دماغ کو سکڑی، خشک حالت میں تصور میں لایاجائے۔
کہتے ہیں کہ اخروٹ کھانے سے دماغ قوی ہوتا ہے۔ مجھے شبہ ہے کہ کہیں اخروٹ کھانے سے دماغ خشک ہوکر سکڑنے تو نہیں لگتا۔ صدیاں بیت رہی ہیں اردو زبان میں نہ تو سائنسی تحقیق ہورہی ہے نہ اعلی تراجم۔ مگر واٹس ایپ گروپ اور فیس بک پر مجرد نسخے اور ڈاکٹری اکسیر مشورے پڑھ کر اپنی ہی بات مضحکہ خیز لگتی ہے۔ لو بھلا اور کسے تحقیق کہتے ہیں۔۔۔تحقیق کو تہہ قیف لکھیں سب سمجھ میں آجائے گا۔
اب اخروٹ توڑ کی افادیت پر سوچیں، سوچنا تو ہمارا مشغلہ ہے ہی نہیں۔ ہم اللہ میاں کے پسندیدہ بندے ہیں۔ یہ کام ہم نے اللہ میاں کی ناپسندیدہ قوموں کے لیے چھوڑ رکھا ہے۔ سوچنا اور دلائل دینا ہمارے قومی اخلاقی معیار کے زمرے میں نہیں۔ اب ہمارے وکلاء بھی دلائل سے کام چلانے کی بجائے مارشل آرٹ پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ نسل مارشل لائی نسل ہے، جس نے صرف یہ دیکھا اور سیکھا کہ پس پشت ہو، سامنے ہو، وردی میں ہو یا سادہ لباس میں سب مایا ہے۔۔۔۔۔۔
ماشااللہ لاء ہے۔
یوں تو تمام دنیا سے دلائل اور افہام و تفیم کا کلچر رخصت ہورہا ہے۔ مگر ہمارے یہاں تو یہ آیا ہی نہیں تو رخصت ہونے کا کیا سوال۔