ڈیجیٹل وژن پہ خوش گمانیاں مگر دھیان سے!

  • تحریر
  • ہفتہ 14 / دسمبر / 2019
  • 6230

با لآخر پی ٹی آئی حکومت  نے اپنا  ڈیجیٹل وژن  با ضابطہ پیش کر دیا جس کا  فخریہ  اعلان وزیر اعظم  عمران خان نے  گزشتہ ہفتے کیا۔ پورے جوش و خروش کے ساتھ اس کا اعلان بنتا بھی تھا کہ پی ٹی آئی نے گوگل کی ایک سابق پاکستانی نژاد  سینئر ایگزیکٹو کو قائل کیا کہ وہ اس  ڈیجیٹل وژن منصوبے کی سربراہی کریں۔ یوں تانیہ ایدرس  بھاری مشاہرے پرلگی لگائی ملازمت چھوڑ کر  اس منصوبے کے لئے پاکستان آ گئیں۔

ان کا نام اور کام  بہت سوں کے لئے نامانوس تھا۔ پی ٹی آئی  کا ماضی میں ایک دعویٰ رہا ہے کہ جب ان کی حکومت قائم ہو گی  تو ملکوں ملکوں بسنے والے کامیاب پاکستانی بڑی تعداد میں ان کے ساتھ نئے پاکستان کی بنیاد رکھنے پہنچیں گے۔  گزشتہ پندرہ مہینوں کے دوران مسائل  کی افراط اور  وسائل  کی تنگ دستی  کی وجہ سے  حکومتی ترجیحات کے درمیان رولر کوسٹر  کا سا معاملہ رہا۔ کئی ٹاسک فورسز اور اصلاحات کی کمیٹیاں بنیں،  غیر ممالک   بسنے والے کئی  پاکستانی نامزد بھی ہوئے اور کئی ایک نے  کام کرنے کی بھی کوششیں کیں  مگر جس کا گمان تھا  وہ سماں بن نہ سکا۔ 

تانیہ ایدروس کی صورت میں پی ٹی آئی کو ایک پوسٹر پرسنیلیٹی  میسر آگئی۔ گزشتہ کئی ماہ سے حکومت پر بڑھتی ہوئی تنقید کے جھکڑ میں  یہ  ایک تازہ ہوا کا جھونکا  تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ہمدردوں نے اس ڈیجیٹل وژن اور اس کی سربراہ کو  نئے پاکستان کی   تعبیر   بنا کر پیش کیا۔ جس گرما گرم سیاسی ماحول  کے ہم سب  عادی ہیں، اس میں  مخالفین نے  اسی سرعت کے ساتھ اس تعیناتی میں حسبِ توفیق کیڑے نکالے اور خوش گمانیوں پر  شرطیہ ناکامی کی پیشین گوئیاں بھی اشٹام پیپر پر لکھ کر دے دیں تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئیں۔

پی ٹی آئی  نے انتخاب  سے قبل منشور کے طور پر ایک  ڈیجیٹل پالیسی کا بھی اعلان کیا تھا۔  یوتھ کی پارٹی  ہونے کے ناتے اس پالیسی کو ایک گیم چینجر کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس پالیسی کے مطابق پاکستان کو ایک نالج اکونومی بنایا جائے گا  جس کی مدد سے اکونومی کے لئے  ویلیو ایڈڈ اور نوجوانوں  کے لئے دس لاکھ سے زائد ملازمتوں کی صورت پیدا ہو سکے گی۔  اس پالیسی کی تحریک دنیا کے کئی ممالک کی آئی ٹی میں حیران کن کامیابی سے لی گئی۔  بھارت کی آئی ٹی کی برآمدات 126 ارب ڈالرز،  فلپائن کی 26  ارب ڈالرز جبکہ پاکستان کی آئی ٹی کی برآمدات فقط دو ارب ڈالرز سالانہ،  اس  قدر  تفاوت کا کچھ حصہ بھی اگردور کر دیا جائے تو ملک اور اس کے  نوجوانوں  کو ایک  نئے  جہان کا راستہ دکھایا جا سکتا ہے۔ 

اس سادہ سی بات سے کسے اختلاف ہوگا؟  اختلاف  تو کسی کو بھی  نہیں البتہ دنیا کے مختلف ممالک  کا  دو سو سالوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ صرف ٹیکنالوجی تک رسائی ہی کافی نہیں بلکہ اس ٹیکنالوجی کو  بھرپور انداز میں استعمال کرنے کی  صلاحیت بنیادی اور فیصلہ کن امر  ہے۔  آئی ٹی  کی ٹیکنالوجی اور اس کے ماہرین صرف بھارت اور فلپائن ہی میں تو نہیں  ہیں  لیکن کیا وجہ ہے کہ  آئی ٹی میں ڈیڑھ دو درجن مزید  بھارت یا فلپائن کیوں نہیں بن پائے؟  گزشتہ دو سو سالوں میں ہونے والی ایجادات میں شاید انٹرنیٹ سب سے سرِ فہرست ہو  جس کی بنا پر  ای کامرس کے میدان میں ہونے والی  ترقی نے سب  کو حیران کر دیا ہے ۔ ٹریڈ اور ڈویلپمنٹ کے عالمی ادارے UNCTAD  کے مطابق  دنیا میں  اندرون اور بیرون ممالک  ای کامرس کا حجم 2013   میں 16   ٹریلین ڈالرز رہا  جو دو سال میں نصف سے بھی بڑھ کر 25 ٹریلین ڈالرز ہو گیا۔ 

 ورلڈ ٹریڈ رپورٹ 2018 کے مطابق انٹرنیٹ کی بنیاد پر ایجادات  (Innovations) اور ٹیکنالوجی میں نت نئی جدتوں   نے  لاگت اور کاروبار کے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان جدتوں نے  کاروبار میں رابطے  (Communication)،  اشیا  و خدمات  کی پیداوار، ان کے استعمال اور ان کی عالمی تجارت ٹریڈکا ڈھانچہ اور سانچہ ہی بدل ڈالا ہے۔  اس نئے جہان میں کامیابی ان کے ہاتھ رہی جنہوں نے ان جدتوں اور ایجادات  کے بل بوتے پر بنیادی یعنی  Structural changes کی صلاحیت پیدا کی، یہ صلاحیت عالمی تجارت میں اسکندری یا پسپائی کیلئے کھل جا سم سم والی کلید ثابت ہوئی۔ 

پاکستان میں آئی ٹی  کے بل بوتے پر  ای گورننس اور ای کامرس  امکانات کا احساس گزشتہ دو عشروں سے ہے۔  مشرف دور میں ڈاکٹر عطاء الرحمان  نے انٹرنیٹ کی رسائی پر جنونی انداز میں کام کیا۔  سمارٹ فونز کے استعمال، موبائل  نیٹ ورک  کے پھیلاؤ اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی  مناسب قیمتوں نے پاکستان کے کاروباری انداز اور عام معاشرتی انداز میں انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ فون بینکنگ، ای میلز، سوشل میڈیا،  ڈیٹا ٹرانسفر ، انٹرنیٹ کالزسمیت بہت سی سروسز نے سمارٹ فون  کو عام زندگی کا حصہ بنا دیا ہے۔ 

ای گورننس کی اہمیت کا سبھی کو احساس ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے ہاں لگے بندھے معمولات  اور ان کی بنیاد پر معاشرتی و معاشی گورننس کا نظام تبدیلی سے گریزاں ہے بلکہ اسے ناکام بنانے میں پیش پیش ہے۔ پنجاب  میں ورلڈ بنک کی مدد سے زمینوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا تاکہ پٹواری نظام کی چیرہ دستیوں  کا خاتمہ ہو سکے۔ دو  دِہائیاں گزرنے کے باوجود پنجاب میں یہ نظام مکمل نافذ نہیں ہوسکا۔ کیوں؟  اس لئے کہ اس نئے نظام میں پراپرٹی  اور زمینوں کے ہیر پھیر  کے مواقع بند ہونے سے  بالا دست طبقات  کے انتظامی اور سیاسی مفادات کا راستہ رک سکتا ہے۔

دور کیا جانا، عمران خان وزیر اعظم بنے تو اعلان کیا کہ عوام کی شکایات کے لئے ایک سٹیزن پورٹل بنادیا ہے۔ان کی شکایت کا مکمل ریکارڈ اور فالو اپ ایک مربوط آئی ٹی نظام کے تحت ہو گا۔ لاکھوں کی تعداد میں شکایات رجسٹر ہونے لگیں، کچھ داد رسی بھی ہوئی لیکن پھر چند مہینوں بعد وہی چال بے ڈھنگی اس میں بھی در آئی۔  چند ہفتے قبل وزیر اعظم کو سر عام ان عناصر پر تنقید کرتے سنا جنہوں نے اس پورٹل کے بظاہر فول پروف  ڈیجیٹل سسٹم  کے بھی اپنی پرانی  ڈگر پر لگا لیا۔  اس ڈیجیٹل  ماحول میں حالیہ چند سالوں میں نئے کاروباری امکانات میں سے  ایک  مہارت  Apps  یعنی  آئی ٹی ایپلیکیشن بنانے کی ہے۔   دنیا میں سب سے بڑی ٹیکسی کمپنی کے پاس اپنی ایک بھی ٹیکسی نہیں لیکن اپنے ڈیجیٹل  ایپس کے پلیٹ فارم سے اس کمپنی نے دنیا کے روایتی ٹیکسی نظام کو یکسر بدل  ڈالا ہے۔ 

گوگل، امیزون، ای بے سمیت ایسے  نئی کمپنیوں نے  ایسے ایسے آئیڈیاز کو جنم دیا ہے کہ  حیرت کو بھی حیرت گھیر لیتی ہے۔  نوجوانوں میں اب نت نئی ایپس کی مدد سے  کاروبار کھڑا کرنے  کا چلن بہت عام ہورہا ہے۔ لیکن کیا حکومتی اور کاروباری شعبوں میں  صرف ایپس اور عمدہ بنے ہوئے سافٹ وئیر   ہی ای گورننس اور ای کامرس  انقلاب  کی بنیاد بن سکتے ہیں؟

دنیاکا تجربہ شاہد ہے کہ  ٹیکنالوجی تب ہی کامیاب ہے جب حکومتی اور نجی  شعبوں  میں گورننس کی بنیادیں  صحیح خطوط پر  استوار ہوں۔ حکومتی  نظام میں شفافیت،  میرٹ، انصاف اور  ریگولیشنزکا کلچر راسخ ہو،  بے  لاگ  فیصلہ سازی  کی  قوت اور اہلیت   موجود ہو۔ کرپشن اور بدعنوانی اگر حکومت کے آنگن میں سیاسی مصلحتوں  اور مفادات کی پائل باندھ کر کلانچیں بھرے گی تو پھر یہ ایپس اور ڈیجیٹل ویژن کے ٹھاٹھ پڑے کے پڑے رہ  سکتے ہیں۔ڈیجیٹل ویژن سے خوش گمانیاں ضرور رکھنی چاہیں مگر ذرا سوچ سمجھ کے!