بریکسٹ کے بعد برطانوی حکومت کو علیحدگی پسندی کا سامنا ہوگا
- اتوار 15 / دسمبر / 2019
- 6400
برطانیہ کے حالیہ انتخابات کے بعد وزیر اعظم بورس جانسن کو یورپی یونین سے علیحدگی کا ہی مرحلہ درپیش نہیں ہے۔ ملک کے متعدد حصوں میں پیدا ہونے والی بے چینی اور علیحدگی کی تحریک بھی اہم مسائل میں سے ایک ہوگی۔
انتخابات میں اس ہفتے جانسن کو واضح اکثریت ملی ہے۔ وہ انتخابی مہم کی کامیابی کا نعرہ 'گیٹ بریگزٹ ڈن' تو شاید پورا کر لیں لیکن اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئیرلینڈ کا معاملہ ایسا ہے جو برطانیہ کے مستقبل کو خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئیرلینڈ نے بریگزٹ سے علیحدگی کے حق میں ووٹ نہیں ڈالا۔ جب کہ اسی نعرے کی بنیاد پر ووٹروں نے کنزرویٹو پارٹی کو واضح اکثریت سے جتوایا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ علاقے ہمیشہ کے لیے لندن سے دور ہو جائیں۔
کامیابی سے ہمکنار ہونے کے بعد اپنے خطاب میں جانسن نے کہا کہ انتخابی نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ یورپی یونین کو چھوڑنے سے ''انکار ممکن نہیں۔ یہ برطانوی عوام کا ایک پرکشش اور یقینی فیصلہ ہے''۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ یہ انگریز کی پسند ہو سکتی ہے، جن کی برطانیہ کی چھ کروڑ 60 لاکھ آبادی میں سے تعداد 56 فی صد ہے۔ 2016 میں یورپی یونین کی رکنیت کے معاملے پر ہونے والے ریفرنڈم میں، انگلینڈ اور ویلز کے چھوٹے علاقے نے تنظیم سے الگ ہونے کے حق میں ووٹ دیا، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ نے ایسا نہیں کیا۔
جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں انگلینڈ نے 345 کنزرویٹو قانون سازوں کو منتخب کیا، یعنی 365 کے دارالعوام میں ماسوائے 20 نشستوں کے تمام ارکان انہی کی جماعت کے منتخب ہوئے۔ ایسے میں جب جانسن کی پارٹی نے ملک بھر سے کامیابی حاصل کی۔ اسکاٹ لینڈ میں 59 نشستوں میں سے اسکوٹس نیشنل پارٹی (ایس این پی) نے 48 نشستیں جیتیں، جو بریگزٹ کی مخالف ہے اور برطانیہ سے آزاد ہونا چاہتی ہے۔
ایس این پی رہنما نکولا سٹرجن نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کی ذبردست کامیابی سے پتا چلتا ہے کہ 'برطانیہ کے باقی علاقے کے مقابلے میں اسکاٹ لینڈ کی اکثریت اپنے مستقبل کے بارے میں مختلف سوچ رکھتی ہے۔ کئی عشروں سے ایس این پی نے اسکاٹ لینڈ کو آزاد کرانے کی مہم چلائی ہے۔ 2014 میں اس کوشش میں تقریباً کامیاب ہو گئی تھی، جب اسکاٹ لینڈ نے برطانیہ سے الگ ہونے پر ریفرنڈم کرایا تھا۔ ملک کا حصہ رہنے والوں نے یہ ریفرنڈم 45 کے مقابلے میں 55 فی صد سے جیتا تھا۔
اب ایس این پی دلیل دیتی ہے کہ بریگزٹ کے نتیجے میں صورت حال بدل چکی ہے، چونکہ اسکاٹ لینڈ کو اپنی مرضی کے خلاف یورپی یونین سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسٹرجن نے جمعہ کے روز کہا کہ جانسن کو اسکاٹ لینڈ کو یورپی یونین سے نکالنے کا مینڈیٹ نہیں ملا، اور آزادی پر نیا ریفرنڈم کروا کے اسکاٹ لینڈ کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہو گا۔
جانسن کہتے ہیں کہ جب تک موجودہ پارلیمان اقتدار میں ہو گی وہ ریفرنڈم کی اجازت نہیں دیں گے، جو اب 2024 تک اقتدار میں رہے گی۔ جانسن کے دفتر نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم نے جمعہ کو اسکاٹ لینڈ کی لیڈر کو بتایا کہ ''2014 کے ریفرنڈم کے نتائج فیصلہ کن تھے، جن کی پاسداری کی جانی چاہیے''۔
اخبار اسکاٹ مین نےہفتے کے روز مقابلے کی اس صورت حال کو مختصراً یوں بیان کیا۔ روزنامہ نے پہلے صفحے پر اسٹرجن اور جانسن کی بڑی تصاویر کے اوپر جلی حروف میں یہ سرخی چسپاں کی: ''دو واضح کامیاب۔ تصادم کا ایک ہی راستہ''۔