میانمار کی نوبل امن انعام یافتہ لیڈر نے فوجی مظالم کو جائز قرار دیا

  • اتوار 15 / دسمبر / 2019
  • 9300

میانمار کی لیڈر آنگ سان سوچی نے ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں خطاب کے دوران ان الزامات کی تردید کی کہ میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلم آبادی کے خلاف استبدادی کارروائیاں کی تھیں۔

روہنگیا پر ہونے والے مظالم کے وکلائے استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں قتل عام تک کے ضمرے میں آتی ہیں۔  بہت سے نقادوں کا کہنا ہے کہ مسلم اقلیت کے ساتھ مسلسل ایذا رسانی کی کچھ ذمہ داری سوچی پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ان کارروائیوں کی وجہ سے دس لاکھ کی مسلم آبادی میں سے تین چوتھائی ملک سے فرار ہو چکی ہے۔  اس ماہ کے شروع میں میانمار کے مغربی قصبے پاتھین میں درجنوں روہنگیا مسلمانوں کو گنجائش سے زیادہ بھری جیل کی کوٹھریوں میں ٹھونس دیا گیا۔ انہیں ملک میں غیر قانونی طور پر سفر کے الزامات پر جیل میں ڈالا گیا۔

فورٹی فائی رائٹس گروپ کے جان کونلی کا کہنا ہے کہ روہنگیا کو نقل و حرکت کی آزادی نہیں دی جاتی۔ ہم نے حال ہی میں روہنگیا سے جبری مشقت اور قومیت کے حقوق پر پابندی کے بارے میں رپورٹ دی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کو ریاست راکھین میں روہنگیا کے خلاف جاری ایذا رسانی اور تشدد کے خاتمے کے لیے فوری طور پر عارضی اقدامات کرنے چاہیئں۔

آنگ سان سوچی نے عدالت میں ملک کی فوج کے خلاف ان الزامات کا دفاع کیا کہ اس نے روہنگیا کے خلاف قتل عام کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کے اقدامات دہشت گردی کے خلاف جائز ردعمل تھے۔ انہوں نے کہا کہ میانمار عدالت سے درخواست کرتا ہے کہ اس مقدمے کو اپنی فہرست سے ہٹا دے۔ ایسے اقدامات مصالحت کو متاثر کر سکتے ہیں جو شبہ پیدا کریں، شکوک کے بیج بوئیں، یا ان کمیونٹیز کے درمیان رنجشیں پیدا کریں، جنہوں نے ابھی حال ہی میں اعتماد کی نازک بنیادیں استوار کرنا شروع کی ہوں۔

نوبل امن انعام یافتہ لیڈر کی ان باتوں سے اور عالمی عدالت انصاف میں فوج کے تشدد اور انسانیت سوز مظالم کے دفاع پر مغربی ممالک کے بہت سے لوگوں کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔ روہنگیا کے لیے انسانی حقوق سے متعلق سرگرم کارکن یاسمین اللہ کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت کہ سوچی  اور ان کی ٹیم نے اس قتل عام کو چھپایا جن کا ارتکاب ہوا یا اس حقیقت کا ذکر نہیں کیا کہ کوئی انفرادی یا اجتماعی آبرو ریزی، یا کوئی جنسی اور جنس کی بنیاد پر تشدد ہوا تھا، یہ انتہائی پریشان کن صورت حال تھی۔

آنگ سان سوچی کو کسی زمانے میں انسانی حقوق کی ایک عالمی امید سمجھا جاتا تھا، جو اس فوجی حکومت کے خلاف کھڑی ہو گئی تھیں جس نے انہیں 2010 تک بیس سال سے زائد مدت تک قیدی بنا کر رکھا تھا۔ 1991 میں امن کا نوبل انعام جیتنے والی شخصیت 2016 میں میانمار کی سویلین حکومت کی لیڈر بن گئی تھیں۔ ان کے سابق حامی ان پر روہنگیا کے خلاف استبداد روکنے میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے ان کے کھلم کھلا نقاد بن چکے ہیں۔

برما مہم کے مارک فارمنر کہتے ہیں کہ وہ ایک ایسی شخصیت تھیں جو لوگوں باہم منظم رکھ سکتی تھیں۔ انہیں ملک بھر کی تمام مذہبی اور نسلی گروپس کی پذیرائی حاصل تھی۔ اور انہوں نے اس کی بجائے اس کے برعکس کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی انتہا پسند بودھ قوم پرست جذبات کی حامل ہیں۔  وہ بھی روہنگیا کے خلاف تعصب رکھتی ہیں اور وہ ان کے خلاف امتیازی پالیسیوں کی کوشش کر رہی ہیں۔

میانمار کے بودھ میں ابھی تک آنگ سان سوچی کے حامی  ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ وہ ایک ایسے متنوع نسلی ملک کو چلانے کے لیے اپنی بہترین کوشش کر رہی ہیں، جس کی عنان اقتدار ابھی تک فوج کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن میانمار کی اقلیتیں یہ محسوس کرتی ہیں کہ ان کے ساتھ دھو کہ ہوا ہے۔  برما مہم کے مارک فارمنر کہتے ہیں کہ دوسرے نسلی گروپس کے لوگ اس عدالت میں انہیں فوج کا، ایک ایسی فوج کا دفاع کرتے دیکھ رہے ہیں جو برسوں ان کے خلاف اسی قسم کے جرائم کا ارتکاب کر چکی ہے۔ اور وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم کس طرح اس شخصیت پر کبھی بھی اعتماد کر سکتے ہیں، ہم اب اس خاتون پر کس طرح اعتماد کر سکتے ہیں۔

دنیا بھر میں بہت سے لوگ بھی سوچی کے بارے میں اب یہی جذبات رکھتے ہیں۔  ان کا کہنا ہے کہ آنگ سان سوچی کا اپنے مقام سے گرنا تکلیف دہ  ہے۔