کشمیر اسٹیٹ پراپرٹی اور حکومت کی غیر منصفانہ حکمت عملی
- تحریر اطہر مسعود وانی
- اتوار 15 / دسمبر / 2019
- 16550
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسیں اور گاڑیاں فروخت کرنے کے بعد سرکاری محکموں کی املاک فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی مہاراجہ کشمیر اور مہاراجہ پونچھ کی پاکستان کے مختلف شہروں میں واقع کھربوں روپے مالیت کی جائیدادوں کی فروخت بھی شروع کی گئی ہے۔
وفاقی کابینہ نے1986میں کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی فروخت پر پابندی عائد کی تھی۔وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی فروخت پر عائد پابندی ختم کرنے کی سمری تیار کر کے وزیر اعظم کو ارسال کر دی گئی ہے۔وزیر اعظم آفس نے6دسمبر کووزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کو ہدایات جاری کی تھیں کہ ایک ہفتے کے اندر کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی فروخت پر عائد پابندی ختم کرنے کی سمری تیار کر کے منظور ی کے لئے وزیر اعظم کو ارسال کی جائے۔ عمران خان کی طرف سے کھربوں روپے مالیتی کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کو فروخت کرنے کی اس کارروائی پر دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس اقدام کی وسیع پیمانے پر مذمت کی جار ہی ہے۔وزیر اعظم عمران خان حکومت کے اس اقدام سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی نہایت منفی پیغام بھیجا جا رہا ہے۔ایک طرف وزیر اعظم عمران خان خود کو کشمیریوں کا ترجمان اور وکیل قرار د یتے ہیں اور دوسری طرف پاکستان میں واقع ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی ریاستی جائیدادوں کو فروخت کرنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔
کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی شہری جائیدادیں لاہور،گوجرانوالہ،سیالکوٹ،جہلم،راولپنڈی،آزاد پتن،کہوٹہ اور مردان میں جبکہ دیہی اراضی لاہور اور شیخو پورہ میں واقع ہیں۔ ایڈمنسٹریٹیو آفس کشمیر سٹیٹ پراپرٹی لاہور کے ریکارڈ کے مطابق کل1048 کنال شہری پراپرٹی میں سے 468 کنال فروخت کردی گئی ہے اور اب 580 کنال شہری جائیداد باقی بچی ہے جبکہ کل 2426 ایکڑ زرعی اراضی میں سے 462 ایکڑ فروخت کردی گئی اور اب 1974 ایکڑ باقی بچی ہے۔
کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی ان 35 جائیدادوں میں سے 14 جائیدادیں وزارت امورکشمیر کے خطوط پر مبنی اجازت کے ذریعے مختلف اوقات میں منظور نظر افراد کو فروخت کی جاتی رہی ہیں۔ کشمیرسٹیٹ پراپرٹی کی فروخت کردہ جائیدادوں کی مالیت کیا ہے؟کس کس کو کتنے کتنے میں فروخت کی گئیں؟ اس بارے میں کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ آزادکشمیر حکومت کے پاس پاکستان میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔ ایڈمنسٹریٹر آفس کشمیر سٹیٹ پراپرٹی لاہور کے ریکارڈ کے مطابق 2004-5 کے مالی سال میں آمدن تقریباًً 6 کروڑ روپے تھی جس میں سے 3 کروڑ روپے اخراجات ظاہر کئے گئے تھے۔سابق وفاقی وزیر امور کشمیر و انچارج کشمیر کونسل چودھری برجیس طاہرنے آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار یعقوب خان سے ملاقات میں بتایا تھاکہ پاکستان میں 22ارب سے زائد مالیت کی کشمیر پراپرٹی موجود ہے اوراس کی آمدنی صرف چار کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔
کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام 1947 سے1955 تک آزاد کشمیر حکومت کے پاس رہا۔ایڈمنسٹریٹنگ آف کشمیر پراپرٹی آرڈیننس 1961 کے تحت متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کی سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام و انصرام آزادکشمیر حکومت سے لے کر وفاقی وزارت امور کشمیر کو دیا گیا۔ 1947 میں آزادی کے بعد ریاست جموں وکشمیر کی جائیدادیں (یا مہاراجہ آف جموں کشمیر یا مہاراجہ پونچھ) جو ریاست جموں وکشمیر کی علاقائی حدود سے باہر واقع تھیں، ان کا انتظام آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر نے لے لیا اوراس سٹیٹ پراپرٹی کے قیام کیلئے منیجر مقرر کیا۔ پنجاب حکومت نے اس کشمیر پراپرٹی کو متروکہ جائیدادتصورکیا۔ قانونی و انتظامی مشکلات کی وجہ سے آزادکشمیر حکومت نے جون 1955 میں حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ وہ کشمیر پراپرٹی کا انتظام سنبھال لے۔ حکومت پاکستان ایڈمنسٹریٹنگ آف کشمیر پراپرٹی آرڈیننس 1961کے تحت کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ یوں 15 اگست 1947 سے ریاست جموں وکشمیر، مہاراجہ کشمیر و مہاراجہ پونچھ کی پاکستان میں واقع جائیدادیں حکومت پاکستان کے زیر انتظام قرار پائیں۔