بے بسی کے آنسو
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 16 / دسمبر / 2019
- 8860
قلم پر سکتہ طاری ہے کہ کیا لکھے ۔ اب میرے لکھنے کو رہ ہی کیا گیا ہے ؟ بہت بہادر ہیں وہ لوگ جو ہر سیاسی موسم میں اپنے قلم پستول کی طرح چلاتے ہیں اور کُشتوں کے پُشتے لگاتے چلے جاتے ہیں ۔
معمولی معمولی سی سیاسی مراعات پر مٹھائیاں بانٹتے اور کھاتے کھلاتے ہیں اور اپنے ہونے یانہ ہونے پر پھول نچھاور کرنے والوں کی تقریب منعقد کروانا کبھی نہیں بھولتے۔ یہاں ہر شخص اپنی اَنا کا شہید ہے اور ہر ایک کے لیے کسی دوسرے کے نقطہ نظر کوبرداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔ مجھے یہ سطور لکھتے ہوئے یہ خدشہ لاحق ہے کہ کہیں مجھ پر یہ الزام نہ لگا دیا جائے کہ میں اپنے الفاظ دوسروں کے مونہہ میں ڈالتا ہوں ، جب کہ میری نظریں پاکستان پر لگی ہیں ، جہاں سابقہ حکمران خاندانوں کی جمہوریت کی کشتی ایک اناڑی کھلاڑی کے ہاتھوں ہچکولے کھا رہی ہے ، حالانکہ وہ تجربہ کار اور جہاں دیدہ ملاحوں کے ہاتھوں میں بھی ڈانواں ڈول ہی تھی ۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پورا معاشرہ مونہہ کے بل گرا دھول چاٹ رہا ہے ۔ گزشتہ روز لاہور میں دل کے ہسپتال پر وکیلوں کے حملے سے یہ عندیہ ملا کہ ملک کا ہر ادارہ دوسرے کی جان کو آیا ہوا ہے ۔ گویا ہر ادارہ جاتی کُتا دوسرے ادارے کےکُتے کا بیری ہے ۔ میں اس صورتِ حال کو یوں دیکھتا ہوں کہ باہمی معاشرتی رشے ابتذال سے دوچار ہیں ۔ مجھے اس صورتِ حال میں منیر نیازی کی ا یک دو مصرعی پنجابی نظم یاد آ رہی ہے :
نفرت ساڈی پھوکی جہی اے
یاریاں وچ نہیں زور
اس نظم کا اطلاق ہمارے معاشرتی ڈھانچے کے کے تارو پود پر ہوتا ہے کہ وہ ادارہ جسے ہم ایسٹبلشمنٹ کہتے ہیں اُسے زیر کرنے کے لیے ہم نے سوشل میڈیا پر مورچے قائم کر رکھے ہیں اور مورچوں کے عقب میں خیمہ زن سیاسی دیوتا خود کو کسی غلط فہمی یا خوش فہمی سے نظریاتی سمجھنے لگے ہیں اور ایسٹبلشمنٹ کو شکست دینے کے لیے سوشل میڈیا بریگیڈ کو محاذ پر بھیجا گیا ہے جو دن رات قلم سے گولہ باری کرتا ہے ۔اب مجھے یہ سمجھنے میں دقت ہو ری ہے کہ اداروں کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟ کیا وہ قومی وحدت کے رشتے میں بندھے سچے دوست ہیں یا ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں جو ایک دوسرے پر پھوکے فائر کرتے ہیں ، ایک دوسرے کا پیٹ پھاڑنے اور ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی قسمیں کھاتے ہیں مگر اپنے مفادات اور مراعات کو ہر گز ہر گز قربان نہیں ہونے دیتے ۔
جب ایسٹبلشمنٹ سے کسی سیاسی گروہ کے اپنے تعلق پر آنچ آتی ہے تو یہ دشمن ایک دوسرے کی ڈھال بن جاتے ہیں اور طرفین بھول جاتے ہیں کہ ایک فریق کو سڑکوں پر گھسٹنا تھا اور دوسرے کو گھسیٹنا تھا ۔ اور یہ نعرے اُن بادلوں کی گرج تھی جو کبھی برسا نہیں کرتے لیکن اب وہ دھمکیاں صرف میڈیا کا تماشہ بن کر رہ گئی ہیں اور کچھ لوگ اُنہیں یاد کر کے قہقہے لگاتے اور کچھ اپنا سا مونہہ لے کر رہ جاتے ہیں ۔ آج 16دسمبر ہے ۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کا تاریک دن مگر صرف مغربی پاکستان کے لیے ۔ یعنی صرف پاکستان کے لیے کیونکہ مشرقی اور مغربی کا باہمی رشتہ باقی ہی نہیں رہا ۔ اب مشرقی پاکستان ایک الگ مُلک بنگلہ دیش ہے جو پاکستان سے بہتر اقتصادی صورتِ حال میں ہے اور اپنی آزادی کی سالگرہ منا رہا ہے ۔
بنگالی بھائیو ! میرے پچیس برس کے ہم وطنو ! آزادی مبارک ہو اور یہ کہتے ہوئے میرا دل کانپ رہا ہے ۔ مگر ٹھہریے ، یہ کس سے آزادی کی سالگرہ ہے ؟ مجھے اپنا نام لیتے ہوئے شرم محسوس ہو رہی ہے ۔ اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مغربی پاکستان جو اب صرف پاکستان رہ گیا ہے اپنی معاشی نا آسودگی کا نوحہ بن کر چار دانگِ عالم میں گونج رہا ہے ۔
16 دسمبر کی وہ شام بھی عجیب تھی ۔ شاعرانِ کرام حسب معمول ٹی ہاؤس میں بیٹھے تھے کہ اچانک جالب نے میرے کان میں سرگوشی کر کے کہا کہ اے سست آدمی ، شام ہو رہی ہے ، چراغ جلانے کا انتظام کر ۔ وہ منیرِ نیاز ی بھی شریکِ روشنی ہو گا ۔ میں روشنی لانے کے لیے ٹی ہاؤس سے نکلا تو سامنے بارک اللہ خان ایڈوکیٹ اپنا سکوٹر کھڑا کر رہے تھے ۔ وہ جماعتِ اسلامی سے وابستہ تھے مگر اُن کے وجود میں ایک دوست دار روح مقیم تھی ۔ میں نے کہا کہ بھائی جان ! لاہور ہوٹل تک جانا ہے جہاں جالب اپنے گہنے بھول آ ئے ہیں ۔ جلدی سے لے کر واپس آتے ہیں ۔ جب لاہور ہوٹل سے یو ٹرن لیتے ہوئے خان موصوف نے میرے ہاتھ میں لیمپ دیکھا تو بولے ، یار! مجھ سے کیسے کیسے کام کرواتے ہو ۔ میرا تعلق جماعتِ اسلامی سے ہے تو میں نے جواباً عرض کیا کہ بھائی جان ! میرا اور جالب کا تعلق اسلام سے ہے ۔ جالب نے کہا ہے :
روٹی کپڑا اور دوا
گھر رہنے کو چھوٹا سا
مفت مجھے تعلیم دلا
میں بھی مسلماں ہوں واللہ
پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الاللہ
اور ہم یو ٹرن لے کر واپس ٹی ہاؤس پہنچے تو ٹی ہاؤس بند ہو چکا تھا ۔ بلیک آؤٹ کا اعلان ہو چکا تھا ۔ ٹی ہاؤس کے بند دروازے کے باہرحضرت ظہیر کاشمیری کھڑے تھے ۔ مجھے دیکھ کر بولے ، وہ دونوں تو چلے گئے اب میں تیرا شریکِ غم ہوں ۔ اور اس کے بعد جو کچھ بلیک آؤٹ کے اندھیرے میں ہوا ، کسی نے نہیں دیکھا ۔ البتہ میری آنکھوں نے آنسو دیکھے اور لاہور کی گلیوں نے لوگوں کو روتے سنا ۔ اور دور کہیں اس اندھیرے میں عدیم ہاشمی نوحہ گری کے لہجے میں رو رہے تھے:
ہم ایک لاکھ تھے ہم نے تو سر جھکا ڈالے
حسین! تیرے بہتر سروں کو لاکھ سلام