انتہا پسندی کا علاج کیسے ممکن ہوگا
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 16 / دسمبر / 2019
- 9970
بنیادی نوعیت کا سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں نفرت، تعصب او راس کے نتیجے میں تشدد کی فکر کیسے آگے بڑھی۔کیا وجہ ہے کہ ہم پرامن انداز میں اپنے معاملات کو حل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔
تنازعات کا ابھرنا ایک فطری امر ہوتا ہے۔لیکن اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ہم مجموعی طور پر تنازعات سے کیسے نمٹتے ہیں۔کیونکہ دیکھنے کو یہ ملتا ہے کہ ہم تنازعات کو حل کرنے کی کوشش میں نئے تنازعات کو جنم دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سماج میں ہمیں لوگ ایک دوسرے سے الجھے ہوئے یاناراضگی کے انداز میں نظر آتے ہیں اور یہ عمل لوگوں میں مزید انتشار اور تشدد پر مبنی مزاج کو طاقت فراہم کرتا ہے۔
پاکستان میں نفرت، تعصب، عدم برداشت، غصہ اور بدلہ لینے کی سوچ اور فکر گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف طبقات میں بہت زیادہ غالب نظر آتی ہے۔ ریاستی و حکومتی سطح پر سیاسی، سماجی، قانونی او رانتظامی پالیسیوں میں جو تضاد یا ٹکراؤ ہے اس کے نتیجہ میں لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ جو ہمیں مختلف منفی شکلوں میں قومی سطح پر دیکھنے کو مل رہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں۔ہمارا قومی بیانیہ یا نصاب لوگوں میں یکجہتی، محبت، امن، رواداری، بھائی چارہ، سماجی قبولیت، عزت و احترام، عدم تفریق کوپھیلانے میں ناکام ہوا ہے۔ طاقت کی حکمرانی کا نشہ ریاست، حکومت سے لے کر نچلی سطح تک موجود تمام سیاسی، سماجی او رانتظامی اداروں میں غالب نظر آتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی بڑا فریق اپنی غلطیوں یا کوتاہیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ قومی وطیرہ بن چکا ہے کہ اپنے حصے کی غلطیوں کو دوسروں پر ڈال کر خود کو معصوم ظاہر کرو۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سب ایک دوسرے پر الزامات لگاکر مسئلہ کے حل کی بجائے اس میں اور زیادہ بگاڑ کو پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ماضی میں ریاستی، حکومتی اور سیاسی سطح پر ہم نے جو بڑے سیاسی فیصلے خود کیے یا یہ فیصلے بیرونی طاقتوں کے دباؤ کی صورت میں کرنے پڑے، وہ نفرت اور جنگ کا ماحول بنانے کا سبب بنے ہیں۔ ماضی میں ہم نے یقینی طور پر غلطیاں کی ہوں گی لیکن کیا ہم ماضی سے غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کی سوچ، فکر، تدبر اور فہم و فراست سے عاری ہیں؟ اس وقت ماتم کی سیاست سے کیسے باہر نکلا جائے او راس کی کیا حکمت عملی ہونی چاہیے۔ یہ قومی نوعیت کا سوال ہے او راس کا جواب سب فریقین کو اپنی اپنی سطح پر تلاش کرکے قومی ایجنڈا تیار کرنا چاہئے۔
اے پی ایس کے واقعہ کے بعد ہم نے بیس نکاتی قومی نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا تھا اس سے کیوں غفلت برتی جارہی ہے۔یہ قومی سطح کا بیانیہ بنیادی طور پر انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے معاملات یا رجحانات سے نمٹنے کے لئے تھا۔یہ بات واضح تھی کہ اگر ہم نے انتہا پسندی پر مبنی رجحانات کے خلاف جنگ لڑنی ہے تو یہ کسی سیاسی تنہائی میں نہیں لڑی جائے گی۔ ریاست او رحکومت کی سطح سے یہ کوشش ہونی تھی کہ نیشنل ایکشن پلان کے ایجنڈے کو ملک کے بڑے سیاسی، انتظامی، قانونی، اصلاحی ایجنڈے کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسا قومی بیانیہ ترتیب دیا جائے گا جو معاشرے میں نفرت کے مقابلے میں امن او ررواداری کی سیاست کو فروغ دے گا۔لیکن ہماری سابقہ او رموجودہ سطح پر وفاقی اورصوبائی حکومتوں ہوں یا سیاسی قیادت سمیت اہل دانش یا میڈیا کے محاذ پر لڑی جانے والی جنگ ہو یا تعلیمی میدان میں علمی مراکزہوں۔۔۔ یہ سب قومی فکر کی آبیاری کرکے لوگوں کو تقسیم یا نفرت کی بجائے محبت میں جوڑ تی ہیں۔ یہ سب ادارے فکری انحطاط کا شکار ہوکر قومی بحران میں شدت پیدا کررہے ہیں۔سیاسی جماعتوں اور رائے عامہ بنانے والے اداروں کی ترجیحات میں معاشرے کی سیاسی او رسماجی طرز پر تشکیل نو او رنئی سوچ و فکر کو اجاگر کرنا شامل ہی نہیں۔ کیونکہ معاشرے کی تقسیم او رنفرت کا کھیل ایک سطح پر ان کے ذاتی اور سیاسی مفادات سے بھی جڑا ہوتا ہے۔
ہمارا تعلیمی نصاب چاہے اس کا تعلق رسمی یا غیر رسمی تعلیم سے ہویا مدارس میں دی جانے والی تعلیم سے اس کے نتیجے میں جو کچھ نئی نسل میں پیدا ہورہا ہے وہ سوچ وبچار کا باعث ہے۔کیونکہ نئی نسل میں جو غصہ یا نفرت ہے اس کی وجہ جہاں ہمارا تعلیمی نظام ہے وہیں ہم اس نئی نسل کے سامنے مثبت انداز میں آگے بڑھنے یا مثبت ترقی کے مواقع پیدا نہیں کرسکے ۔ نئی نسل میں غصہ،نفرت اور بغاوت یا بدلہ لینے یا سماج میں بہتری پیدا کرنے کی بجائے لاتعلقی کی سوچ ہے اس کی وجہ ملک میں رائج سیاسی او رانتظامی بنیادوں حکمرانی کا وہ نظام ہے جو لوگوں میں مایوسی پیدا کرتا ہے۔محض نوجوان نسل پر غصہ نکالنا او ریہ ثابت کرنا کہ وہ پیدا ہی شدت پسند ہوئے ہیں درست فکر نہیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ نئی نسل میں انتہا پسندی کے رجحانات کی وجہ قومی سطح پر ہماری مجموعی سیاسی، سماجی،معاشی اور عدم انصاف پر مبنی نظام ہے۔
نفرت یا تعصب کی سیاست کی ایک وجہ معاشرے کا کلچر، آرٹ، شاعری، ڈرامہ، فلم سمیت ایسے عمل جو ذہنی سطح پر لوگوں کی فکر میں اعتدال پسندی پیدا کرتے ہیں وہ معاشرے میں ناپید ہوگئے ہیں۔یہاں جو ڈرامے، فلمیں، شاعری جو کچھ ہورہا ہے اس میں بھی انتہا پسندی کو پھیلایا جاتا ہے اور ہماری فلمیں تشدد پر مبنی ہوتی ہیں او ران عوامل کو ہیرو ز بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ذہنوں کو امن او ررواداری کے ساتھ جوڑنے کی جنگ میں آرٹ او رکلچرل کو بنیاد بنا کر ڈراموں، فلموں اور شاعری کی مدد سے لوگوں کی ذہن سازی کی تشکیل نو کرنا ہوگی۔ تعلیمی اداروں کو اس جنگ میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا، ان اداروں کا کام ڈگری بانٹنے سے بڑا ہونا چاہیے او روہ کا م ایک نئے بیانیہ کی تشکیل میں علمی و فکری مواد سمیت نئی قیادت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ایسا مواد جو نفرت پھیلاتا ہو یا وہ لوگ یا ادارے جو نفرت پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں، ان کے خلاف ہر سطح پر مضبوط مزاحمت درکار ہے۔
جو کچھ میڈیا اور سوشل میڈیا پر چل رہا ہے او راس میں جس انداز سے نفرت کو بنیاد بنایا گیا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف ہر سطح پر سیاسی، مذہبی او رسماجی منافرت یا کفر کے فتوے او ران کے ذاتی عقائد پر حملے یا شکوک و شبہات پیدا کرکے ان کی زندگیوں کو مشکل بنانے کا عمل ہے اس کے خلاف ایک مؤثر او رمثبت انداز میں جنگ لڑنا ہوگی۔اس کام میں علمائے کرام، مذہبی جماعتیں، مذہبی قیادت اور مذہب سے لگاؤ رکھنے والے اہل دانش کا بڑا کردار بنتا ہے کہ وہ انتہا پسندی کے رجحانات میں اضافہ کے خلاف خود کو بھی منظم کریں اور دوسروں کو منظم کرکے ایک ایسی سوچ اور فکر کو آگے بڑھائیں جو معاشرے میں انتہا پسندی اور پر تشدد رجحانات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکے۔ یہی ان کی بڑ ی قومی خدمت ہوگی۔
جب ہمیں پرتشدد رجحانات پر مبنی سیاسی، سماجی او رمذہبی رویے یا واقعات دیکھنے او رسننے کو ملتے ہیں تو یقینی طور پر یہ واقعات معاشرے کی عملی ساکھ پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔ یہ ہی واقعات دنیا میں ہمارے لیے بدنامی کا بھی سبب بنتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔اس لیے مسئلہ کسی ایک فریق پر الزام دینے سے حل نہیں ہوگا۔ اس انتہا پسندی،پر تشدد رجحانات یا تشد د کے کلچر کو ماننا ہوگا کہ یہ ہماری ایسی بیماریاں ہیں جس کی وجہ سے معاشرے کی تصویر خطرنا ک ہوگئی ہے او راس کا علاج تلاش کرنا ہوگا۔اس جنگ میں نئی نسل کو ہر اول دستہ بنایا جاسکتا ہے لیکن ہم کو پہلے نئی نسل کے مسائل کو سمجھ کر حل کرنے کی طرف بڑی پیش رفت بھی کرنا ہوگی۔ کیونکہ ان کی شمولیت ہی ملک میں پرامن ترقی، معاشرہ اور لوگوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کی امید پیدا کرسکتا ہے۔ مگر اس کے لیے طاقت ور فریقین کو ریاستی، حکومتی او رادارہ جاتی سطح پر اپنے ماضی او رحال کے رویوں یا طرز عمل کو خیر آباد کہہ کہ نئی سوچ او رفکرکی قیادت کرنا ہوگی، جو پرامن معاشرے کی ہر سطح پر عکاسی کرسکے۔