چھ ماہ میں قانون سازی نہ ہوسکی تو آرمی چیف ریٹائرڈ تصور ہوں گے: سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ
- سوموار 16 / دسمبر / 2019
- 3620
سپریم کورٹ آف پاکستان نےآرمی چیف کی مدت میں توسیع کے حوالے سے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ فیصلہ کے مطابق اگر حکومت 6 ماہ کی مدت میں قانون سازی میں ناکام ہوئی تو موجودہ آرمی چیف ریٹائر تصور ہوں گے۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا 43 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ اسے جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے اور اس میں چیف جسٹس پاکستان کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 28 نومبر کو آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے حوالے سے مختصر فیصلہ 28 نومبر کو سنایا تھا جس میں حکومت کو 6 ماہ تک آرمی چیف کی مدت سے متعلق قانونی سازی کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں استفسار کیا ہے کہ ملک میں قانون کی حکومت ہے یا یا افراد کی۔ ہمارے سامنے مقدمہ تھا کہ کیا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ کیس کا بنیادی سوال قانون کی بالادستی سے متعلق تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ دوران سماعت اٹارنی جنرل نےاعتراف کیا کہ آئین کی شق 243 کےتحت ریٹائرڈ جنرل بھی آرمی چیف ہوسکتا ہے۔ اٹارنی جنرل کے اعتراف کے بعد آرمی چیف کےعہدے سے متعلق بہت سے اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ فیصلے کے مطابق اب معاملہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے۔ ادارے مضبوط ہوں گے تو قوم ترقی کرے گی۔
عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری، ریٹائرمنٹ اور توسیع کی تاریخ موجود ہے۔ پہلی بار یہ معاملہ عدالت عظمیٰ کے سامنے آیا جبکہ پہلی سماعت میں درخواست گزار عدالت میں پیش نہیں ہوئے لیکن درخواست واپس لینے کے لیے تحریری استدعا کی گئی جس کو عدالت نے رد کیا۔ اگلے روز وہ پیش ہوئے اور زبانی درخواست کی تو انہیں عدالت کا حکم سنا دیا گیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ میں اٹارنی جنرل نے 6 ماہ میں قانون سازی کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اگر اس مدت میں قانون سازی نہ ہوسکی تو آرمی چیف ریٹائرڈ تصور ہوں گے اور صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے پر نئے آرمی چیف کا تقرر کریں گے۔ عدالت نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اگر ایک جنرل اور نتیجتاً آرمی چیف کی ملازمت کے دورانیے اور اس کی شرائط کو قانون کے ذریعے ضابطے میں نہ لا سکی تو اس کے نتیجے میں آرمی چیف کے آئینی عہدے کو مکمل طور پر بےضابطہ اور ہمیشہ جاری رہنے کے لیے چھوڑا نہیں جا سکتا کیونکہ یہ 'ناقابلِ تصور' اور 'آئینی مضحکہ خیزی' ہو گا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فوج میں یہ روایت رہی ہے کہ کوئی بھی جنرل تین سال کی مدت مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہو جاتا ہے لیکن کسی ادارے کی روایت کو قانون کا متبادل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ نہ تو قانون میں اور نہ ہی آرمی ایکٹ میں جنرل رینک کے افسر کی ریٹائرمنٹ کا ذکر ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 243 کی ذیلی شق 4 کے تحت صدرِ مملکت آرمی چیف کی تنخواہ اور ان کے الاؤنس کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ جنرل کی مدت ملازمت اور ریٹائرمنٹ قانون میں متعین نہیں ہے اس لیے آرمی چیف کی مدت ملازمت کا معاملہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔
اضافی نوٹ میں چیف جسٹس نے لکھا ہے کہ وہ ساتھی جج سید منصور علی شاہ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں۔ مخصوص تاریخ کے تناظر میں آرمی چیف کاعہدہ کسی بھی عہدے سے زیادہ طاقتور ہے۔ آرمی چیف کا عہدہ لامحدود اختیار اور حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غیرمتعین صوابدید خطرناک ہوتی ہے۔ آرمی چیف کےعہدے میں توسیع، دوبارہ تقرری کی شرائط و ضوابط کا کسی قانون میں ذکر نہ ہونا تعجب کا باعث تھا۔
چیف جسٹس نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا کہ آئین کے تحت مسلح افواج سے متعلق صدر کے اختیارات قانون سے مشروط ہیں۔