فالٹ لائن سے سرخ لکیروں تک
- تحریر وجاہت مسعود
- سوموار 16 / دسمبر / 2019
- 6950
اردو صحافت کی لغت اور لہجے میں دیکھتے ہی دیکھتے بہت سی تبدیلیاں آ گئی ہیں۔ انگریزی الفاظ کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ بہت سے لفظوں کی املا بدل گئی ہے۔
اور بہت سی تراکیب ایسی چلی آئی ہیں کہ مولانا غلام رسول مہر تو خیر جدید اردو صحافت کے معمار تھے، نوائے وقت کے موقر اداریہ نویس بشیر احمد ارشد مرحوم کی پیشانی پر بھی گہری لکیریں نمودار ہو جاتیں۔ کسی مہربان نے عوام کا صیغہ تبدیل کر کے اسم جمع مذکر کو اسم واحد تانیث میں بدل دیا۔ پہلے ”عوام مطالبہ کرتے تھے“۔ اب ”عوام کہتی ہے“۔ خیر سے ”عام عوام“ کا لفظ بھی دھڑلے سے استعمال ہو رہا ہے۔ نامعلوم اس سے کون مخلوق مراد ہے۔ ایک عزیز دوست تقریر و تحریر میں ”عالمی دنیا“ لکھتے اور بولتے ہیں۔ کسی سے کیا گلہ، ابھی گزشتہ کالم میں درویش نے سانس کو مذکر باندھ دیا۔ دوسری دفعہ نظر ڈالی تو غلطی کا احساس ہو گیا۔ برادر محترم حیدر تقی سے درستی کی درخواست کی۔ غالباً سید صاحب کو یاد نہیں رہا۔ اخبار چھپ کر آیا تو ”سانس پھول گیا“۔ جس روز ہم اہل پنجاب نے سانس اور پیاز کو مونث لکھنا اور بولنا سیکھ لیا، ہماری سانس میں سانچی پان کی خوشبو اتر آئے گی۔
دیکھیے یہ زبان کی معمولی لغزشیں ہیں۔ زبان ٹھہرا ہوا جوہڑ نہیں۔ علم، معاش اور انسانی میل جول کے بدلتے ہوئے آفاق میں زبان تو کیا، اقدار تک بدل جاتی ہیں۔ صحیح زبان لکھنا اور بولنا بہت خوب لیکن اصل توجہ ان فکری نکات اور سیاسی فیصلوں پر مرکوز رہنی چاہیے جو لاکھوں کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
دسمبر کا مہینہ دنیا بھر میں تفریح، تہوار اور جشن کا پیغام لاتا ہے۔ جن منطقوں میں برف کی سفید چادر نہیں بچھتی، وہاں بھی سورج کی تمازت میں ٹھنڈک اتر آتی ہے۔ ہماری تاریخ مگر ظالم ہے۔ ہماری بہتر سالہ تاریخ میں دسمبر کے مہینے میں چار واقعات ایسے گزرے کہ یہ مہینہ ہمارے لئے ماہ الحزن قرار پایا۔ سات دسمبر 1970 کو عام انتخابات منعقد ہوئے۔ قوم نے پہلی بار کاغذ کے ایک ٹکڑے پر مہر لگا کر اپنے حکمران چنے تھے لیکن فیصلہ سازوں نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کر دیا۔ سات دسمبر کو جمہور کی بالادستی کا سورج طلوع ہونا تھا لیکن مقتدرہ کی غلطی نے ہمارے جسد اجتماعی پر شکست کی مہر لگا دی۔
جمہور کے فیصلے سے انکار کا نتیجہ ٹھیک ایک برس بعد 16 دسمبر 1971 کو ڈھاکہ کے رمنا ریس کورس گراؤنڈ میں سامنے آیا۔ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین سانحہ جب ہم وطنوں کی اکثریت نے سیاسی اور معاشی استحصال کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اقلیتی حصے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ 16 دسمبر کی اس منحوس تاریخ نے 45 برس بعد ایک بار پھر ہمارے دروازے پر دستک دی۔ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں ہمارے پھول نوچ لئے گئے۔ ان کمسن طالب علموں کی کتابیں لہو میں بھیگ گئیں جس کی قامت کے تابوت بھی دستیاب نہیں تھے۔ 16 دسمبر 2014 کی صبح پشاور میں بچوں کے لہو کی ہولی چند گمراہ افراد کا مجرمانہ فعل نہیں تھی۔ ہم نے ستمبر 2001 میں دہشت گردی کو قطعی طور پر مسترد کرنے کی بجائے دو کشتیوں میں بیک وقت سفر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اے پی ایس کے سانحے اور ستر ہزار ہم وطنوں کی شہادت نے اسی غلطی سے جنم لیا۔ دو کشتیوں میں سفر کرنے والوں کے اثاثے ہوا میں معلق ہوتے ہیں اور انجام لہروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ دسمبر ہی کے مہینے میں 27 تاریخ بھی گزری۔ 2007 کی اس شام لیاقت باغ راولپنڈی کے دروازے پر بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تھا۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت حادثہ تھی اور نہ محض جرم، یہ عوام کی حکمرانی کا امکان دفن کرنے کی مجرمانہ سازش تھی۔
چار حادثے ہم نے گن لئے۔ ان میں کوئی ایک سانحہ ایسا نہیں جس کی جڑیں ماضی کے غلط فیصلوں میں نہ ہوں۔ ہم نے عنوان میں دو لفظ استعمال کیے ، فالٹ لائن اور سرخ لکیر یعنی ریڈ لائن۔ فالٹ لائن زلزلے کا وہ امکان ہے جو زیر زمیں قوتوں کی کشمکش میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ فالٹ لائن کو نظر انداز کرنے سے سطح زمیں پر ریڈ لائن (سرخ لکیر) نمودار ہو جاتی ہے جس کا کوئی مداوا نہیں ہوتا۔
میں ایک صحافی ہوں۔ میری فالٹ لائن اس خبر کو عوام تک پہنچانا ہے جسے کوئی روکنا چاہتا ہے۔ اخبار میں باقی جو کچھ چھپتا ہے وہ محض سرکاری پریس ریلیز ہے۔ صحافی کا امتحان اس فالٹ لائن کی اطلاع دینا ہے جو مستقبل میں سرخ لکیر میں بدل سکتی ہے۔ ممکن ہو تو لائبریری سے 1971 کے اخبارات اٹھا کر دیکھئے۔ کیا صحافی نے 7 دسمبر 1970 کو پیدا ہونے والی فالٹ لائن کی خبر دی۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو پچھلے 48 برس میں سقوط ڈھاکہ پر لکھے سب مرثیے بے معنی ہیں۔
عدالتوں میں ہر روز ہزاروں فیصلے دیے جاتے ہیں۔ ، منصف کا امتحان وہ مقدمہ ہے جس میں شہری آزادیوں اور دستور کی بالادستی کا سوال اٹھایا گیا ہو۔ تادم تحریر ہماری عدلیہ نے کبھی وہ فیصلہ نہیں دیا جو فالٹ لائن کے دہانے پر زلزلوں کی پیش بندی کر سکے۔ سرحدوں پر اپنی جان کے نذرانے دینے والے سپاہی بے شک ہمارے جگر کے ٹکڑے ہیں لیکن مسلح افواج کے قوم سے پیمان کی فالٹ لائن دستور کی شق 245 اور منسلکہ حلف میں لکھی ہے۔ ہماری تاریخ میں اس حلف سے روگردانی کے ایک سے زیادہ مواقع آئے۔ ہم نے ابھی تک اس حلف سے انحراف کی دوٹوک مذمت اور آئندہ کے لئے دست کشی کا اعلان نہیں سنا۔
آج کل ہم وکلا اور ڈاکٹروں کے پیشہ ورانہ انحرافات سے دوچار ہیں۔ یہ سرخ لکیریں بھی راتوں رات نمودار نہیں ہوئیں۔ ہم نے نظام تعلیم کی فالٹ لائن میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔ ایک سوال ہماری معیشت کا بھی ہے۔ ہم کسی آتش بجاں کے انتظار میں ہیں جو کوہ طور سے دامن میں وہ چنگاری چھپائے نمودار ہو جس سے ہماری معیشت کے خرابے روشن ہوں۔ آسمانوں میں اندھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ فالٹ لائن زمین کے نیچے ہوتی ہے اور سرخ لکیر زمین کے اوپر نمودار ہوتی ہے۔ دسمبر سے لہو کی سرخ لکیریں مٹانے کے لئے لازم ہے کہ اب آنکھ زمیں پر اترے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)