ایک اور سولہ دسمبر بیت گیا: پرانا سوال اب بھی جواب طلب ہے

ایک اور سولہ دسمبر بیت گیا۔ چند دہائیوں میں وہ نسل بھی ختم ہوجائے گی جو اس دن کو ایک قومی المیہ کے طور پر یاد رکھتی ہے۔ اس کے بعد جو نسلیں  16دسمبر 1971 کو یاد کریں گی انہیں مطالعہ پاکستان کے نصاب کے عین مطابق یہ ازبر ہوگا کہ مشرقی پاکستان کے ہندوؤں نے سازش کی اور مجیب الرحمان جیسے لیڈر ان کے آلہ کار بن گئے۔

قومی جذبوں اور امنگوں سے لبریز اس سبق میں مزید لکھا ہوگا  کہ پھر بھارت نے کھلی جارحیت کے ذریعے پاکستان کو تقسیم کردیا تاکہ نظریہ پاکستان کو ختم کیا جاسکے ۔لیکن بہادر پاکستانی قوم اور دلیر افواج پاکستان نے اس سازش کو ناکام بنادیا۔  یوں اس قوم پر پانچ برس پہلے ایک ایسا سانحہ بھی بیت چکا ہے کہ 48 برس  قبل  گزرے اس سانحہ کا ذکر کچھ ماند پڑ چکا ہے۔ وہ سانحہ  جس میں پاکستان دو لخت ہوگیا،  ایک لاکھ کے قریب فوجی دشمن کی قید میں چلے گئے اور  ڈھاکہ کا پلٹن میدان  جو کبھی  ’لے کر رہیں گے پاکستان‘ کے نعروں سے گونجتا تھا،   اس میں ایک بے بس  شکست خوردہ پاکستانی جنرل ، ایک فاتح بھارتی جنرل کے ساتھ بیٹھا اپنی ہی شکست اور ہتھیار پھینکنے کی دستاویز پر دستخط کررہا تھا۔ اور دنیا بھر کے کیمرے اس تاریخ ساز  لمحہ کو کیمروں میں  محفوظ کرنے کے لئے بے چین ہوئے جاتے تھے۔ پلٹن میدان سے باہر بنگالی نوجوان پاکستان کے نام اور پاکستانی فوجیوں کے خون کے پیاسے ہورہے تھے۔  لیکن ہمارے  قومی حافظے سے یہ لمحہ محو ہؤا چاہتا ہے۔

سولہ دسمبر  بیت گیا۔  ا س  بار کم کم ہی یہ سوال سننے میں آیا کہ تقریباً  نصف صدی پہلے بیتنے والا وہ سانحہ کیا تھا اور اس سے  قوم نے کیا سبق سیکھا۔ البتہ پانچ برس پہلے ہم نے جن 149 نونہالوں کو ایک دہشت گردی کے   المناک  حملہ میں کھو دیا  تھا، اس کے بارے میں صدر مملکت، وزیر اعظم اور آرمی چیف نے یقین کے ساتھ اعلان کیاہے کہ  ’آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کو قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی‘۔   البتہ  کوئی نہ کوئی یہ سوال ضرور  سامنے لائے گا کہ  جوقوم نے اپنا نصف حصہ کھونے کے بعد  اس سے سبق سیکھنے اور ان غلطیوں  کو درست کرنے کا  اہتمام نہیں کرسکی جن کی وجہ سے اس کا  آدھا وجود کاٹ دیا گیا تھا۔  وہی قوم   مزید کتنی دہائیوں تک  2014 کے 16 دسمبر  اور اس روز دہشت کا نشانہ بننے والے  آرمی پبلک اسکول پشاورکے ڈیڑھ سو بچوں اور ان کے استادوں کو یاد رکھنے کی تکلیف گوارا کرے گی؟

اس برس کا 16 دسمبر تو بیت گیا لیکن جاتے جاتے سپریم  کورٹ کا  ایک ایسا فیصلہ  بھی سامنے لایا جس میں  حق واختیار  اور اصول قانون کے  حوالے  سے وہی سوال اٹھائے گئے ہیں جن کا جواب نہ   16 دسمبر 1971 کے بعد تلاش کرنے کی سعی کی گئی اور نہ ہی 16 دسمبر 2014 ہمارے اس مزاج کو تبدیل کرسکا۔ اب سپریم کورٹ یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ  قانون فرد سے بالا تر ہوتا ہے یا کوئی عہدہ یا فرد قانون سے ماورا ہوسکتا ہے؟ چیف جسٹس نے آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں توسیع کے   معاملہ پر لکھے گئے  تین رکنی بنچ کے متفقہ فیصلہ میں  اضافی نوٹ میں یہ سوال اٹھاتے ہوئے برطانیہ کے سابق چیف جسٹس سر ایڈورڈ کوک کے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’آپ جتنے بھی اوپر چلے جائیں قانون آپ کے اوپر ہے‘۔ ملک کے سب سے طاقت ور عہدے کے معاملہ  پر فیصلہ لکھتے ہوئے ملک کا سب سے بالادست عہدیدار جب قانون اور فرد کے تعلق کا ذکر کرنا ضروری سمجھے تو  یہ جاننا چاہئے کہ اس قوم نے ستر برس گزرنے کے بعد بھی قانون کی افادیت، اہمیت اور ضرورت کا بنیادی سبق یاد نہیں کیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ایک وفاقی وزیر نے مصرع طرح اٹھاتے ہوئے  یہ سوال داغا ہے کہ کیا اب سپریم کورٹ ملک کے سب سے بالادست ادارے یعنی پارلیمنٹ کو ’حکم‘ دینے کی مجاز ہوگی؟  ان کا سوال ہے کہ سپریم  کون ہے پارلیمنٹ یا عدالت عظمی ؟ اگرچہ انہوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ  حتمی فیصلہ کا اختیار بہر حال سپریم کورٹ کو ہی حاصل ہے۔   وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری  کی طرف سے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ پر سامنے آنے والے ٹوئٹ پیغامات کو اگرچہ  سرکاری پالیسی تو نہیں کہا جاسکتا لیکن انہوں نے بھی سپریم کورٹ کی طرح ایک اہم نکتہ اٹھایا ہے جس کا جواب بہر حال وقت کے ساتھ تلاش کرنا ضروری ہوگا۔

 سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری یا توسیع کا معاملہ چونکہ اس سے پہلے اس کے پاس نہیں آیا  لیکن اس بار ایسا کیا گیا ہے تو ضروری  تھا  کہ وہ قانونی سقم کی نشاندہی کرے۔  اسی  درستی کے لئے  پارلیمنٹ  سے  6 ماہ کے اندر آرمی چیف کی تقرری، توسیع اور اس عہدے کے مالی پہلوؤں پر   قانون سازی کا  مشورہ دیا گیا  ہے۔ ورنہ وزیر اعظم کی طرف سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو  مزید تین برس کی توسیع دینے کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا۔ فواد چوہدری سمجھتے ہیں  کہ  سپریم  کورٹ   وزیر اعظم  کے انتظامی اختیار کو پارلیمنٹ کے حوالے کرنے کی غلطی کررہی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ اصول طے  کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا سپریم کورٹ قانون سازی کا حکم دے سکتی ہے۔

ان دونوں سوالوں کا آسان جواب موجود ہے۔ ملک کی سیاسی قیادت اگر بالغ النظری کا ثبوت دے تو وہ  اپنے پارلیمانی اختیار کے تحفظ کے لئے کوئی بھی قانون سازی اور آئینی ترمیم کرسکتی ہے۔  تاہم اگر پارلیمنٹ میں عوام کی نمائیندگی کرنے والی سیاسی پارٹیاں جوتیوں میں دال بانٹنے کا منظر نامہ پیش کریں گی تو کبھی آرمی چیف انہیں دبائے گا اور کبھی سپریم کورٹ ان  کی رہنمائی اور قیادت کی ضرورت محسوس کرے گی۔

سال رواں  کے 16 دسمبر  کو سپریم کورٹ کے سامنے آنے والے فیصلہ میں اٹھایا گیا اصول قانون اور اس پر ہونے والی بحث  درحقیقت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم ماضی کی طرف جھانکیں۔ قومی سانحات  کا جائزہ لیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وہ کون سے عوامل اور کردار ہیں جن کی وجہ سے اس ملک میں  قانون زیر دست اور فرد بالا دست ہوگیا۔  آئین کو    کاغذ کا ٹکڑا قرار دینے   کا دعویٰ اور قانون کو حسب ضرورت و منشا   مسخ کرنے کا طریقہ کیوں  ہمارے مقدر کا لکھا بن چکا ہے۔ اس کی ایک بہت واضح وجہ تو یہ ہے کہ اس قوم نے غلطیوں سے سبق سیکھنے اور سانحات کی ذمہ دار ی قبول کرنے سے  انکار کیا ہے۔   یکے بعد دیگرے پیش آنے والے سانحات کے بعد بھی اگر ایک ہی دائرے  میں گھومنے پر اصرار کیا جائے  گا تو   وہ سفر رائیگاں ہی ہوگا۔ اس رائیگاں سفر کی ایک بھیانک مثال اس وقت اہل پاکستان ہیں۔

سب سے بڑی ٹھوکر یہ کھائی گئی کہ 1971  کا  سولہ دسمبر ہو یا 2014 کا، ان سانحات کے حقائق  سامنے لانے سے گریز کیا گیا۔ اس لئے جو جائزہ بھی لیا جائے گا وہ قیاسات کی بنیاد پر ہوگا۔ اور ملک کا نصاب ان خوابوں کی بنیاد پر استوار ہو گا  جو دیکھے تو گئے  لیکن جن کی تعبیر کے لئے زاد راہ  فراہم    اور  کوشش کرنے کا اہتمام نہیں کیا گیا۔  سانحہ مشرقی پاکستان کے  حوالے سے  یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اگر  عوامی تائد موجود نہ ہو تو کوئی فوجی طاقت کسی ملک کو  اکٹھا نہیں رکھ سکتی۔ 43 برس بعد پیش آنے والے سانحہ کے بارے میں یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اگر رائے کے احترام  کا ماحول پیدا نہیں  کیا جائے گا۔   اور قومی مفاد  اور یک جہتی کے لئے ان عناصر پر بھروسہ کیا جائے گا ، جن کا اپنا  مخصوص ایجنڈا ہو، تو اس  سے  کسی معاشرے کی شیرازہ بندی کا کام ممکن نہیں ہوسکتا۔

قیاسات  کی بنیاد چونکہ میسر حقائق کی  بجائے  مفروضوں  پر ہوتی ہے ، اس لئے ایسے اندازوں  کو رد کرنے کے لئے دلائل کے انبار بھی موجود ہوتے ہیں۔ ایک دلیل تو یہی ہے کہ  اب ہم ایٹمی طاقت ہیں۔ یہ 2019 ہے،  1971 نہیں ہے۔  مشرقی  اور مغربی پاکستان کے درمیان  دو ہزار کلو میٹر پر محیط دشمن علاقہ تھا۔ مشرقی پاکستان کی حفاظت کرنے والی سپاہ کو سپلائی پہنچانا  اور  نگرانی  کرنا ممکن نہیں تھی۔ اس لئے ہزیمت اٹھانا پڑی۔  اب دشمن کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔

اس  جواب الجواب میں ہم نے اس سانحہ سے یہ سبق سیکھا کہ  ہم غلط نہیں تھے۔ ریاست کی پالیسی درست تھی۔  بنگالی عوام  وفاق کے ارادوں کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ دشمن  کے کہے میں آگئے۔ اب حالات پر ہمارا براہ راست کنٹرول ہے۔ اب  دشمن ہماری طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ گویا آدھا ملک گنوا کر بھی ہم یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ہم نے کوئی  غلطی کی۔ اس مؤقف کی دلیل میں کبھی حسینہ واجد کے طریقہ کار کو دلیل بناتے ہیں اور  کبھی مودی کے بیان میں جواز تلاش کیاجاتا ہے۔  ان عزائم کو رد کرنے کے لئے   ہم نے اسٹریجک ڈیپتھ  حاصل کرنے کی کوشش کی اور طالبان کے کانٹے  ہمارے دامن کو تار تار کرنے لگے۔ شارٹ رینج ایٹمی میزائل تیار کئے اور اس گمان میں  مبتلا ہوگئے کی ہم ناقابل تسخیر ہیں۔

 اس کوشش میں ہم  سفارتی محاذ پر  اخلاقی اور قانونی مقدمہ ہار گئے۔  اب ہماری سفارت کاری  طالبان امریکی مذاکرات کی کامیابی   اور معیشت عرب بادشاہوں و شیوخ کی  نظر کرم کی محتاج ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے  کہ  نہ امریکہ ہم پر  اعتماد کرتا ہے اور نہ چین قابل بھروسہ سمجھتا ہے۔ نہ عرب عزت کرتے ہیں اور نہ ہمسائے قابل اعتبار قرار دیتے ہیں۔ ہم متبادل یا کاؤنٹر ویٹ کی تلاش میں سرگرداں خود بے وزن ہوئے جاتے ہیں۔ پھر بھی اس  گمان  پر  یقین کامل ہے کہ قومی مفاد کے نام پر جو انتظام ہم نے مسلط کررکھا ہے،  اس میں ہی سے سرخرو ئی  کا راستہ نکلے گا۔ قومی پالیسیوں   پرعوامی ناراضی چھوٹے صوبوں سے پھیلتی اب سب سے بڑے صوبے تک پہنچ چکی ہے۔ لیکن ہم اس بات پر مصر ہیں کہ بااختیار  فرد  ہی ان مصائب سے باہر نکلنے کا راستہ بناسکتا ہے۔ اسی لئے ہمیں کرپشن ڈاکٹرائن اور باجوہ ایکسٹنشن کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم کی کرپشن ڈاکٹرائن کو مان لیا جائے تو ہمیں کسی غور وفکر کی ضرورت نہیں۔ ایک مقبول سیاسی رہنما کی اندھی تقلید کو   کامیابی کا واحد راستہ قرار دیاجارہا ہے۔  بتایا جاتا ہے کہ  اس راستے پر چل کر ہی معاشرہ   حضرت عمرؓ  کا مدینہ بن جائے گا اور معیشت امریکی ترقی کے کان کترنے لگے گی۔  انسانی تاریخ اور تجربہ  اس گمان کو مسترد کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی اسی جانب رہنمائی کررہا ہے۔ فرد جب بھی قانون سے بالا تر ہوگا تو زوال اس قوم کا مقدر بن جاتا ہے۔