پناہ گزینوں کے لئے حالات کار بہتر کرنے کی ضرورت ہے: عمران خان
- منگل 17 / دسمبر / 2019
- 4950
وزیراعظم عمران خان نے جینیوا میں پناہ گزینوں کے پہلے عالمی فورم سے خطاب کیا ہے۔ انہون نے کہا کہ دنیا سے ایسے حالات کا خاتمہ کرنا ہوگا جن کی وجہ سے لوگ مہاجر بنتے ہیں۔
جینیوا میں پناہ گزینوں کے پہلے عالمی فورم کا آغاز ہوا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ پہلے ریفیوجی گلوبل فورم کے انعقاد پر بہت خوشی ہے اور میں دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے پر ترک صدر رجب طیب اردوان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بے بس اور بے وسیلہ ماجرین کے مسائل کا امیر ملک ادراک نہیں کرسکتے۔ دنیا سے ایسے حالات کا خاتمہ کرنا ہوگا جن کی وجہ سے لوگ پناہ گزین بنتے ہیں۔ ایسے حالات پیدا کرنے ہوں گے کہ مہاجرین با عزت طریقے سے اپنے وطن لوٹ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ابتدائی دنوں میں تاریخ کی سب سے بڑی پناہ گزین تحریک کا سامنا کرچکا ہے۔ اس وقت پاکستان کو خود بے روزگاری کے مسائل کا سامنا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان، افغان امن عمل میں ہر ممکن تعاون کررہا ہے۔ مشکلات کے باوجود افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستانی قوم قابل تعریف ہے۔ انہوں نے اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی کے 80 لاکھ عوام گھروں میں محصور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جان بوجھ کر مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلا جارہا ہے اور ساتھ ہی عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری سے بھارت کو بحران پھیلانے سے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 9 لاکھ فوجی مقبوضہ کشمیر میں تعینات کر رکھے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت کی ریاست آسام میں 20 لاکھ افراد کو اپنی بھارتی شہریت ثابت کرنے کا کہا جارہا ہے۔
ان سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیوتیرس نے گلوبل ریفیوجی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی کارکردگی کو معاشروں کے پسماندہ طبقوں کی فلاح سے ناپا جاتا ہے۔ دنیا میں امن و سلامتی کے بڑھتے چیلنجز کی وجہ سے پناہ گزینوں کا مسئلہ بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
انتونیو گوتیرس نے کہا کہ عالمی برادری کو پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بدقسمتی سے کئی ممالک نے پناہ گزینوں پر اپنے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔
دو روزہ گلوبل ریفیوجی فورم سے مختلف ممالک کے رہنما خطاب کریں گے۔ اس کا انعقاد یو این ایچ سی آر کے اشتراک سے کیا جارہا ہے۔ فورم کا مقصد عالمی سطح پرپناہ گزینوں سے یکجہتی اور ان کی سیاسی حمایت کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا پہنچے تو اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر خلیل ہاشمی، سوئس حکومت کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی سید ذوالفقار عباس بخاری اور سیکریٹری خارجہ سہیل محمود وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ہیں۔
عالمی پناہ گزین فورم، 21ویں صدی کا پہلا بڑا اجلاس ہے جس کی مشترکہ میزبانی اقوامِ متحدہ ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) اور سوئٹزرلینڈ کی حکومت کررہے ہیں۔ عالمی پناہ گزین فورم کی مشترکہ صدارت کی دعوت پاکستان کی سخاوت، انسان دوست قیادت اور گزشتہ 40 برس سے افغان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ پاکستان کے عوام کی محبت کا اعتراف ہے۔
گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان، بحرین کے فرمانروا حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کی دعوت پر ان کے قومی دن کی تقریبات میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے لیے بحرین پہنچے تھے۔ جہاں بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ نے وزیر اعظم عمران خان کو ببحرین کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا تھا۔
واضح رہے کہ عمران خان نے اس سے قبل سعودی عرب کا ایک روزہ دورہ بھی کیا تھا، جہاں انہوں نے سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی تھی۔