حکومت پرویز مشرف فیصلہ کا قانونی اور قومی مفادات کی روشنی میں جائزہ لے گی: فردوس عاشق اعوان
- منگل 17 / دسمبر / 2019
- 5300
وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلہ کا جائزہ لے گی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم قانونی، سیاسی اور قومی مفادات سے جڑے اثرات کا تفصیلی جائزہ لےکر حکومتی بیانیہ میڈیا کےسامنے لائیں گے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کل (18 دسمبر کو) وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔ وہ خود متعلقہ زمینی حقائق اور لیگل فریم ورک کا جائزہ لیں گے۔ اس کے بعد حکومت کوئی حتمی فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ گھنٹے دیں پھر ہم اس حوالے سے بتائیں گے۔
مشرف کیس کا فیصلہ روکنے سے متعلق حکومت کی درخواست سے متعلق سوال پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ قانونی ٹیم سےمشاورت کے بعد ہی میں اس حوالے سے کچھ کہہ سکتی ہوں۔
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’وقت کے تقاضے ہوتے ہیں۔ ملک کو جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ایسے فیصلے جس سے فاصلے بڑھیں ، تقسیم بڑھے، قوم اور ادارے تقسیم ہوں ان کا فائدہ ؟‘
خیال رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت انہیں سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت میں سماعت کے بعد 3 رکنی بینچ نے 2 ایک کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کو غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں سزائے موت کا حکم دیا۔
سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف اس وقت دبئی میں ہیں اور ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
پرویز مشرف خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔ اگر عدالت عظمیٰ بھی خصوصی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتی ہے تو آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر مملکت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مجرم کی سزا کو معاف کردیں۔