پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا حکم
- منگل 17 / دسمبر / 2019
- 4460
پاکستان کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے منگل کو اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اور وہ سنگین غداری کے مرتکب قرار پائے گئے۔ جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والے تین ججز پر مشتمل بینچ میں سے دو نے پرویز مشرف کو پھانسی دینے کے حق میں فیصلہ دیا اور ایک جج نے سزائے موت کے فیصلے سے اختلاف کیا۔
خصوصی عدالت کا سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ وکلائے صفائی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ پرویز مشرف کے وکلائے صفائی کے پینل میں شامل اختر شاہ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف شکایت غلط تھی اور حکومت پاکستان کو یہ شکایت واپس لینی چاہیے تھی۔ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے معاملے کو لیگل سیل دیکھے گا۔
اختر شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ پرویز مشرف پاکستان آنا چاہتے ہیں انہیں موقع دیا جائے، ان کی طبیعت ٹھیک نہیں، انہیں ڈاکٹرز اور سیکیورٹی فراہم کی جائے۔ پاک فوج کے سابق سربراہ پرویز مشرف نے 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ بعد ازاں وہ ملک کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ پرویز مشرف لگ بھگ 10 سال اقتدار میں رہے اور وہ ان دنوں علاج کی غرض سے دوبئی میں مقیم ہیں۔
سابق صدر اور آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے آئین معطل کر دیا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2013 میں پرویز مشرف پر آئین سے بغاوت کا مقدمہ چلانے کے لیے خصوصی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ اُن کے خلاف ماورائے آئین اقدامات کے الزام میں آئین کی دفعہ چھ کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ درج کیا گیا۔
پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت 20 نومبر 2013 کو قائم کی گئی تھی اور 31 مارچ 2014 کو عدالت نے مشرف پر فرد جرم عائد کی۔ بعد ازاں 2016 میں عدالت کے حکم پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالے جانے کے بعد پرویز مشرف ملک سے باہر چلے گئے۔
خصوصی عدالت نے 19 جون 2016 کو مسلسل غیر حاضری پر پرویز مشرف کو مفرور قرار دیا۔ کیس کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت کی چھ مرتبہ تشکیل نو ہوئی۔ پرویز مشرف اس کیس میں نہ تو پیش ہوئے اور نہ ہی انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔
خصوصی عدالت نے 19 نومبر 2019 کو پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 28 نومبر کو سنایا جانا تھا۔ تاہم حکومت نے فیصلہ رکوانے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کو 26 نومبر کو فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا اور پانچ دسمبر تک پراسیکیوٹر تعینات کرنے کا حکم دیا۔
عدالتی حکم پر چار دسمبر کو علی ضیا باجوہ کو پراسیکیوٹر تعینات کیا گیا اور پانچ دسمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران خصوصی عدالت نے اُنہیں 17 دسمبر تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ اسی روز فیصلہ سنا دیا جائے گا۔