مسئلہ کشمیر کی خطرناک صورتحال اور پاکستان کی پراسرار خاموشی
- تحریر اطہر مسعود وانی
- منگل 17 / دسمبر / 2019
- 9150
بھارت کے 5اگست کے اقدام کے بعد پاکستان میں پراسرار سی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اس سے یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی عالمی ایجنڈے پر پیش رفت نہ ہو۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا پاکستان کے آئین میں کوئی ذکر نہیں ہے۔پاکستان کے آئین کے آرٹیکل257میں ہے کہ جب کشمیری پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں گے تو ریاست کشمیر کا پاکستان سے الحاق ان شرائط پہ ہو گا جو کشمیری عوام کو منظور ہوں گی۔یہ پاکستان کا سرکاری موقف ہے۔ پاکستان نےUNCIPکی قراردادوں کے تحت ان علاقوں کا انتظام سنبھالا ہوا ہے۔ رائے شماری ہونے تک پاکستان نے UNCIPکی قراردادوں کے مطابق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا انتظام سنبھالا ہوا ہے۔ یہ انتظام اس وقت تک کے لئے ہے جب تک رائے شماری نہیں ہوتی۔
یہ تشویشناک صورتحال ہے۔ ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ انڈیا کی طرف سے کشمیر کو ضم کرنے کے عمل میں،امریکہ کی ایما پر پاکستان بھی سہولت کار کا کردار کررہا ہے۔کشمیریوں میں بھی اب آگاہی کا دور ہے۔ اب آپ معاملات کو چھپا نہیں سکتے۔پاکستان میں تو میڈیا پہ پابندی لگا کے،اخبارات کو قابو کر کے،ٹی وی چینلز کو ہدایات پر چلاتے ہوئے،ان پر پابندیاں لگاکر،صحافیوں کو زور زبردستی دھمکا کے ان کی آواز بند کر سکتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر آپ آگاہی کو روک نہیں سکتے۔آج دنیا گلوبل ولج بن چکی ہے۔پوری دنیا کے لوگ ایک دوسرے سے براہ راست رابطے میں ہیں۔
عالمی ادارے دونوں طرف کشمیر کو پاکستان ایڈمنسٹریٹیو کشمیر اور انڈین ایڈ منسٹریٹیو کشمیر کہت ہیں۔UNCIPکی قرا دادوں کے مطابق ہی آزاد کشمیر اور پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ اپنے زیر انتظام ان علاقوں کے دفاع،خارجہ پالیسی،کرنسی،کیمیونیکیشن کی اور وہاں عوام کے حق میں اچھا نظم و نسق قائم کرے۔24اکتوبر1947کو آزاد حکومت کا قیام عمل میں آیا تو وہ تمام ریاست کی نمائندہ حکومت تھی،کشمیریوں کی تحریک آزادی کی نمائندہ حکومت تھی۔جب پاکستان نے اقوام متحدہ کی مداخلت پر انڈیا کے ساتھ جنگ بندی تسلیم کی تو اس سے چند ہی دن پہلے ہی معاہدہ کراچی کیا گیا جس کے تحت تمام ریاست کی نمائندہ حکومت کا کردار ختم کر کے پاکستان نے گلگت بلتستان کا انتظام آزاد کشمیر سے لے لیا اور آزاد کشمیر کو ایک لوکل اتھارٹی بنا دیاجس کا کام صرف اپنی حدود کے اندر بلدیاتی سطح کے اور ترقیاتی کام تک محدود کر دیا۔
جب انڈیا نے کشمیر میں انتہائی اقدام کر دیا ہے تو کوئی وجہ نہیں رہتی کہ پاکستان حکومت آزاد کشمیر حکومت کو کشمیر کاز کے حوالے سے کردار تفویض نہ کرے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کشمیریوں کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ آزاد کشمیر کو کشمیر کاز کے حوالے سے کردار تفویض کیا جائے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کہتے ہیں کہ ہم پہ اعتماد کیا جائے۔
ایسے موقع پہ کہ جب مقبوضہ کشمیر کو انڈیا نے ضم کر لیا ہے،ایسے وقت میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کو فروخت کرنے کی کاروائی کیا معنی رکھتی ہے؟ اس معاملے پہ دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔امریکہ،یورپ،مقبوضہ کشمیر،آزاد کشمیر، پاکستان میں رہنے والے کشمیریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان جب کشمیر کی بات کرتے ہیں تو ان کی آواز بھرا جاتی ہے،آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں،کشمیریوں کو اپنے جسم کا حصہ کہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کشمیریوں کا خون ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے لیکن دوسری طرف آپ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کو فروخت کر رہے ہیں۔ آپ کیسے کشمیریوں کے ترجمان ہیں؟آپ کیسی کشمیریوں کی وکالت کر رہے ہیں؟ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔
پاکستانی عوام سے میں یہ کہوں گا کہ یہ کشمیریوں کے حقوق کا مسئلہ تو ہے۔ لیکن کشمیر پاکستان کی بقا اور سلامتی سے مربوط معاملہ ہے۔ 1965میں مقبوضہ کشمیر جانے والے ایک فوجی کمانڈر نے کہا تھا کہ اگر ہم نے کشمیر کو چھوڑ دیا تو کشمیر ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔ یہی صورتحال آج بھی ہے کہ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کشمیریوں کا، ' ایل او سی ' کے پار کے کشمیریوں کامعاملہ ہے، ایسی بات نہیں ہے، اگر ہم نے کشمیر کو چھوڑ دیا تو کشمیر پاکستان کو کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔
افسوسناک صورتحال تو یہ ہے کہ جو آپشن ہمارے پاس موجود ہیں، جائز اور عالمی قوانین کے حساب سے جائز اور جو ہم کر سکتے ہیں، جس سے کشمیر کاز کو بڑا فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے، وہ نہیں کئے جارہے۔پاکستان کے ایک سابق سفارت کار جو انڈیا میں پاکستان کے سفیر بھی رہے، عبدالباسط نے بڑی افسوناک صورتحال کا منظر نامہ پیش کیا ہے کہ وزارت خارجہ کی حالت پتلی ہے۔ ہم نے کشمیر پر کوئی سپیشل انوائے نہیں مقرر کیا، سیاسی اور سفارتی کوئی سرگرمی تو کیا کوئی پالیسی نظر نہیں آتی۔ لگتاتو یہ ہے کہ جس طرح کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان بھارتی کارروائی میں سہیولت کار بنا ہے۔ جب پاکستان کشمیر کو نظر انداز کر کے اپنی ذمہ داریاں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک محدود کر دیتا ہے۔ تو یہ حکمت عملی بڑی خطر ناک ہے۔ اس سے پاکستان کی سلامتی اور بقا کو بھی خطرات لاحق ہورہے ہیں۔ پاکستانی حکومت کو کشمیریون کو مشاورت میں شامل کرنا چاہئے جو نہیں کیا جاتا۔ اگر آپ کشمیریوں سے مشاورت نہیں کریں گے تو آپ مملکت پاکستان کا نقصان کریں گے، جس کی کوئی بھی اجازت نہیں دے سکتا۔ چاہے کوئی پالیسی ساز ادارہ ہو یا اسٹیبلشمنٹ ہو، کیونکہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔