پاک فوج نے جنرل مشرف کے خلاف فیصلہ مسترد کردیا، غم و غصہ کا اظہار

  • منگل 17 / دسمبر / 2019
  • 7670

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سابق آرمی چیف پرویزمشرف کو دی جانے والی سزا پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج پرویز مشرف کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوںنے کہا کہ افواج میں اس فیصلہ پر شدید غم و غصہ ہے۔

فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے۔  خصوصی عدالت کے فیصلے پر افواجِ پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے۔ منگل کو عدالت کا فیصلہ سامنے آنے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے تحریری بیان جاری کیا گیا ہے۔  بیان میں کہا گیا کہ ’جنرل پرویز مشرف نے 40 سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے ملک کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں۔ وہ کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے‘۔

فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ اس کیس میں آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور انہیں اپنے دفاع کا بنیادی حق نہیں دیا گیا‘۔ عدالتی کارروائی شخصی بنیاد پر کی گئی۔ کیس کو عجلت میں نمٹایا گیا ہے۔ افواجِ پاکستان توقع کرتی ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کو آئین پاکستان کے تحت انصاف دیا جائے گا۔

دوسری جانب جہاں اپوزیشن کی جانب سے اس فیصلے خیرمقدم کیا گیا ہے جبکہ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد ہی موقف دیا جائے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنی جماعت کا یہ نعرہ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ جئے بھٹو۔‘

پارٹی کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز نے اس فیصلے پر کہا ہے کہ ’مشرف کا دور بہت متنازعہ رہا۔ بےنظیر کی شہادت ہو یا اکبر بگٹی کا قتل، اب عوام ان تمام معاملات کی وضاحت چاہتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس فیصلے کو جمہوریت کے لیے خوش آئند سمجھتے ہیں۔ اب کوئی طالع آزما اور آمر ملک کے آئین کو توڑنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ یہ فیصلہ ملک میں جمہوریت اور انصاف کو فروغ دے گا۔‘

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد ملک میں آئین توڑنے کی روایت ختم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر یہی فیصلہ آج سے50 برس قبل عدالتیں دے دیتیں تو ملک پر کبھی بھی مارشل لا کی نحوست نہ پڑتی اور کبھی مشرقی پاکستان ہم سے جدا نہ ہوتا۔‘

جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ ’خصوصی عدالت نے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو غداری مقدمہ میں آرٹیکل چھ کے تحت سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ یہ آئینی اور جمہوری پاکستانی تاریخ کا تاریخ ساز فیصلہ ہے۔ ریاست کا نظام آئین کے مطابق چلے، سب آئینی حدود کی پابندی کریں، کوئی بھی ایڈونچر کے لیے آئین سے انحراف نہ کرے۔‘

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثنا بلوچ نے کہا ہے کہ پروریز مشرف کو یہ سزا ملنا ایک علامت ہے۔ انہوں نے دنیا میں مختلف سربراہوں کو ملنے والی سزاؤں کا حوالہ ریتے ہوئے کہا کہ ’اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ ایک شخص کو سزا دیتے ہیں۔ یہ علامت ہوتی ہے یہ آئین اور کی بالادستی کے لیے ہوتا ہے اور لوگوں کو یہ بارآور کروانے کے لیے کہ آئین سب سے بالا تر ہے۔‘