مشرف کیس میں چیف جسٹس نے کوئی ہدایت نہیں دی: سپریم کورٹ
- بدھ 18 / دسمبر / 2019
- 6400
بدھ کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک تردیدی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ چیف جسٹس پرویز مشرف کو سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کی کارروائی پر اثر انداز ہوئے تھے۔
بیان میں واضح کیا کیا گیا ہے کہ درحقیقت ایسا نہیں ہے بلکہ عدالت عظمیٰ میں پرویز مشرف کیس کی مختلف زاویوں سے اور مختلف بینچوں میں سماعت ہوتی رہی ہے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ انہوں نے خصوصی عدالت کو پرویز مشرف کے حوالے سے فیصلہ کرنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی۔ چیف جسٹس کے ساتھ متعدد خبروں کو منسوب کیا گیا ہے جس سے غلط تاثر پیدا ہوا۔
گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے میڈیا کے چند نمائندوں سے چائے پر غیر رسمی گفتگو کی تھی جس کو میڈیا نے بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا گیا اور اس پر سوشل میڈیا میں قیاس آرائیاں ہوتی رہیں۔ گزشتہ روز خصوصی عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو آئین معطل کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔ فیصلے کے بعد سہ پہر میں عدالتی میڈیا نمائندوں کی چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی۔
میڈیا کے ارکان نے چیف جسٹس کے ساتھ پرویز مشرف کیس کے فیصلے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کچھ آف دی ریکارڈ ریمارکس دیے جس کے بعد چند خبریں چیف جسٹس سے منسوب ہو کر نشر ہو گئیں۔ عدالت عظمیٰ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ان خبروں میں کہا گیا تھا کہ ’پرویز مشرف کا کیس بڑا سیدھا سادا تھا۔ سابق آرمی چیف پرویز مشرف کو متعدد مواقع فراہم کیے گئے۔ دونوں اطراف کے وکلا معاملے کو طول دینا چاہتے تھے۔ سپریم کورٹ اگر جلدی نہ کرتی تو معاملہ مزید کئی سال چلتا رہتا۔ تاخیری حربوں کے باوجود کیس کو منتقی انجام تک پہنچایا۔‘ اس کے علاوہ چیف جسٹس سے یہ بیان بھی منسوب کیا گیا کہ ’پرویزمشرف کا کیس اوپن اینڈ شٹ (open and shut) تھا۔‘ یہ جملہ بھی سوشل میڈیا پر زیر بحث رہا۔
اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف صارفین نے خیال ظاہر کیا کہ ہائی کورٹ نے فیصلہ سنانے سے روکنے کا حکم دے رکھا تھا لیکن پھر بھی خصوصی عدالت نے سپریم کورٹ کی ایما پر جلد بازی میں فیصلہ سنایا۔
چند روز قبل سپریم کورٹ میں ہونے والی ایک تقریب میں بھی چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے طاقتور کا احتساب کرنے کا اشارہ دیا تھا اور سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرح مکہ لہرا کر کہا تھا کہ ان صاحب کا بھی فیصلہ جلد آنے والا ہے۔
اس کے بعد منگل کو بعض صارفین نے سابق آرمی چیف اور چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے مکہ لہرانے والے تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کیں جس سے اس تاثر کو مزید تقویت ملی کہ چیف جسٹس کی کہی بات سچ ثابت ہو گئی ہے۔