عدالتی فیصلہ: فوج اور عدلیہ کا تصادم نہیں

جرنیل پرویز مشرف کے خلاف عدلیہ کے فیصلے کو ادارے کا  تصادم کہنا یا اسےافوج پاکستان کی ہزیمت پر محمول کرنا ایک جذباتی رد عمل کے علاوہ کچھ نہیں۔

جنرل مشرف ایک ریٹائرڈ فوجی افسر، سابق سول صدر اور ایک سیاسی پارٹی کے رہنما ہیں۔ ان کا اب فوج سے تعلق نہیں ہے۔ اس فیصلے سے ان کے فوج کی سروس کے دوران کی جانے والی 'خدمات' پر بھی کوئی حرف نہیں آرہا ہے۔ بات کو ٹھنڈے دل و دماغ سے موجودہ حالات کے تناظر میں سمجھنے کی کو شش ہونی چاہئے۔ پاکستانی فوج کے جوان مملکت کی بقا کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں وہ اسی طرح کرتے رہیں گے۔ کسی نوجوان کی فوج میں شمولیت صرف اس کے جذبہ ایثار پر ہی منطبق نہیں ہوتی۔ اس کے لیے فوجی سروس کی لازمی شرائط کو دل سے تسلیم کرنے، فوجی اصولوں کی پابندی، ڈسپلین اور مملکت کے آئین کی حفاظت کا حلف اٹھانے اور اس کی پابندی کرنے سے مشروط ہوتی ہے۔

ہر ادارے کی طرح فوج میں بھی خدمت کے عوض تنخواہ  دی جاتی ہے۔ قانون اور آئین تمام مہذب دنیا میں ضابطہ اخلاق، طرز زندگی کے اصول مقرر کرکے معاشرے کو انارکی سے بچاتا ہے۔ ننانوے فیصد فوجی انہی اصول کے تحت فوج میں اپنی زندگی گزار کر فوج سے ریٹائرمنٹ لے لیتے ہیں۔ پاکستان کا آئین ایک عام آدمی سے لے کر سربراہ مملکت کو اس کی جان و مال عزت آبرو کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔  عدلیہ اور مقننہ اس کو عملی صورت میں نافذ کرنے کا بار اٹھاتی ہیں۔ لیکن اگر آئین کی پامالی اور اس سے انحراف کے آگے بند نہیں باندھا جائے گا تو پھر ملک میں چھوٹی بڑی ہرطرح کی قانون شکنی کا جواز پیدا ہوجائے گا۔ اور لاقانونیت ایک عام رویہ بن جائے گا۔

موجودہ دور میں  قانون کی روگردانی کا عملی نمونہ زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی وجہ ماضی میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یکسر نظرانداز کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ عدلیہ کا ماضی کا کردار قانون سے انحراف کے عمل کو نظریہ ضرورت کا لبادہ  ضرور پہناتا رہا ہے مگر اگر آج کوئی جج یہ فیصلہ دیتا ہے کہ قانون شکنی کا  ہرمجرم برابر ہے تو اس اقدام کو مثبت سمت میں اٹھنے والا پہلا قدم جان کر اس کی حمایت کرنی چاہیئے۔ جنرل مشرف نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا، اپنی طاقت کے گھمنڈ میں یہ تاثر دیا کہ وہ فوج کے سربراہ کی حیثیت سے تمام فوجی قوت کو استعمال میں لاکر مملکت کے آئین اور قانون کو پس پشت ڈال کر اپنی خواہش کی تکمیل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اپنے بے شمار اصول پسند اور آئین پسند ماتحتوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف، پرویز مشرف کی آئینی خلاف ورزی میں ان کا ساتھ دیں۔ جب ان کی جانب سے شب خون مارنے کی رات فوج کے ادنی سپاہیوں کو وزیراعظم ہاؤس پر چڑھائی کرنے کا حکم دیا گیا تو کیا اس سے آئین کے حرمت کو پامال نہیں کیا گیا۔ پھر اس کی فلم چلاکر ساری دنیا میں پھیلائی گئی تو کیا یہ عمل پاکستانیوں کا سر ساری دنیا میں شرم سے جھکانے کا باعث نہیں بنا تھا۔ اگر نہیں تو یہ اور کیا تھا۔ یہ ایک فرد کے خلاف نہیں ایک مملکت کے خلاف شب خون تھا۔ ایسے قانون شکن عمل اور ان کی تشہیر معاشرے میں عمومی قانون سے روگردانی کے رویے کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے دوررس اثرات کے سبب  معاشرے میں انارکی پیدا کرنےکا موجب بنتے ہیں۔
فوج کی کمان نہایت اہم، نازک اور ذمہ داری کا کام ہے۔ فوج کا معاشرے میں خاص مقام ہے اور عام آدمی کے دل میں جو ڈھارس ہے کہ مشکل وقت میں وہ عوام کی حفاظت کرتی ہے۔ جب فوج کا کمانڈر آئین سے روگرادنی کرتا ہے تو اس جذبے کو دھچکہ لگتا ہے۔ عام فوجی کو یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ مملکت میں نافذ قوانین کا پابند نہیں اور پھر وہ ذاتی طور پر بھی قانون کا منحرف ہوجاتا ہے۔ وہ مملکت کے قوانین کی نہیں چھاؤنی میں لاگو اصول ہی کی پابندی کو کافی سمجھنے لگتا ہے۔ جس سے ایک ایسا معاشرہ جنم لیتا ہے جو افراتفری کا شکار ہوجاتا ہے۔

فوج سمیت تمام اہم اداروں اور ان کے سربراہان پر اپنے طرزعمل سے معاشرے کی تربیت کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ کیا جنرل پرویز مشرف اپنے سینے پرہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ انہوں قانون شکنی کرکے معاشرے کی درست تربیت کی تھی۔ ان سے ہونے والے سنگین جرم کا انہیں اب اعتراف کرلینا چاہیئے۔ اور قانون کی پابندی کرکے مثال قائم کرنی چاہیئے کہ آئیندہ دوسرا کوئی جرنیل ایسا قدم نہ اٹھائے۔ اور عوام پر سے عدلیہ کا اعتماد بحال کرنے کی اس پہلی کوشش میں عدلیہ کا ساتھ دینا چاہیئے۔